تین سپر پاورز کو شکست….کیا واقعی؟؟؟


افغانستان نے تین سپر پاورز کو شکست دی ہے….

ہمارے پاس اپنے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے کے لئے ایک سے ایک بڑا مسخرہ موجود ہے۔ کوئی لال ٹوپی پہن کر ٹی وی پر آ جاتا ہے اور اِس ٹوٹے پھوٹے ملک کے برے حالات کی ساری ذمہ داری امریکہ اور ہندوستان کے کندھوں پر ڈال کر سوال نہ پوچھنے والے (یعنی اپنا دماغ استعمال نہ کرنے والے) نوجوانوں کو غزوہ ہند کے لئے تیار کرتا رہتا ہے۔

ایک اورمذہبی ماڈل و اداکار جدید ترین ہیئر اسٹائل بنا کر اور منہگے کپڑے پہن کر مگر مچھ کے آنسو بہاتا ہے۔ جعلی ڈگری پر نہ وہ شرمندہ ہے، نہ اُس کا چینل، نہ اس کے پرستار۔ کوئی بھی یہ سوال نہیں کرتا کہ جعلی ڈاکٹر بن کر اُس نے اسلام کی کیا خدمت کی ہے۔ خواتین بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں ہیں۔

تاہم ایک اور مذہبی دانشور بنام اوریا مقبول جان ہمارے بچوں کو اُن کی کم مائیگی کا احساس کم کرنے کے لئے کچھ اور طرح کے جھوٹ بولتا ہے۔ ذیل میں ایک ویڈیو میں اُس کی ایک تقریر ہے جس میں وہ ایک طرف کچھ تاریخی واقعات کو غلط انداز سے بیان کرتا ہے تو دوسری طرف فتح و شکست کے معنی ہی بدل کر دکھ دیتا ہے۔وہ بار بار یہ کہتا ہے کہ افغانستان نے ایک صدی کے اندر اندر دنیا کی تین سپر پاورز کو شکست دی۔ یہ تقریر وہ ہمارے نوجوانوں کے سامنے کر رہا ہے اور اُس کی اِس بات پر ناسمجھ لوگ کافی تالیاں بھی بجا دیتے ہیں۔ پہلے تقریر سن لیجئے، پھر باقی بات کرتےہیں۔ 

پہلی بات تو یہ کہ جس جنگ کا حوالہ اوریا مقبول جان صاحب دے رہے ہیں وہ جنگ ۱۹۰۵ء میں نہیں ہوئی تھی بلکہ اُس سے لگ بھگ تریسٹھ سال پہلے 1842 میں لڑی گئی تھی۔ دوسری بات یہ کہ اوریا صاحب اس ساری صورت حال کو یوں پیش کرتے ہیں کہ جیسے برطانیہ افغانستان پر قبضہ کرنا چاہتا تھا مگر ناکام رہا۔ برطانیہ کا مقصد افغانستان پر قبضہ ہر گز نہیں تھا۔ بلکہ برطانیہ اور روس دونوں ہی اس ملک کو پر اپنا اثر و رسوخ ضرور چاہتے تھے مگر قبضے کے خواہشمند نہیں تھے کیوں کہ دونوں بڑی طاقتیں افغانستان پر قبضے کی صورت میں آمنے سامنے آکھڑی ہوتیں جو وہ بالکل نہیں چاہتے تھے۔

بہر حال اوریا مقبول جان اور ان کے پرستاروں کو یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ اس کے بعد بھی جنگیں ہوتی رہیں اور افغانستان نے ۱۸۹۳ء میں انگریزوں کے ساتھ ڈیورنڈ معاہدہ کیا اور اپنا بہت سا علاقہ انگریزوں کے حوالے کر دیا۔ یہ علاقہ موجودہ خیبر پختون خواہ، قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان کے شمالی اضلاع (جن کی آبادی پختون ہے) پر مشتمل ہے۔ چنانچہ یہ کہنا کہ افغانستان نے ایک سپر پاور کو شکست دی بالکل احمقانہ سی بات ہے۔ فاتح قومیں ڈیورنڈ معاہدے کی طرح کے معاہدے نہیں کرتیں۔

یہاں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ فتح اور شکست کا تصور کیا ہے۔ کیا کسی ایک محاذ پر دشمن کے سارے فوجی مار دینا فتح  ہے یا جنگ میں فتح کوئی زیادہ بڑی چیز ہے۔ میں اس سوال کے جواب میں یہاں موٹی موٹی کتابوں اور دنیاء کے بڑے بڑے دانشوروں کے حوالے دینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ نہ ہی میرا ارادہ تمام اینگلو افغان جنگوں میں ہونے والی مارا ماری کی تفصیلات بتا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا ہے کہ زیادہ نقصان کس کا ہوا۔ کیوں کہ میرے نزدیک فتح اور شکست کا معیار یہ بھی نہیں ہے۔ میں تو بس فاتح اور مفتوح قوموں کا تھوڑا سا موازنہ پیش کرنا چاہتا ہوں اور قارئین پر چھوڑتا ہوں کہ وہ فیصلہ کریں کہ تینوں سپر پاورز اور افغانستان میں سے فاتح کون تھا اور مفتوح کون۔ 

یہاں کچھ تصویریں افغانستان سے شکست کھانے والی تینوں سپر پاورز کے مختلف شہروں کی کچھ تصاویر پیش کر رہا ہوں :

:اور اب ہمارے فتح مند ہمسائے افغانستان کے کچھ مناظر

کہتے ہیں ایک تصویر ایک ہزار لفظوں پر بھاری ہوتی ہے۔ یہ چند تصاویر چیخ چیخ کر پوچھ رہی ہیں کہ یہ کیسی فتح ہے کہ جس میں افغان قوم زخموں سے چور ہے، اُس کے بچے کوڑے کے ڈھیروں میں خوراک تلاش کرنے پر مجبور ہیں، اُس کے لاکھوں شہری دوسرے ملکوں میں مہاجرکیمپوں میں مقیم ہیں جبکہ مفتوح قوموں کے بچے اچھے سکولوں میں پڑھ رہے ہیں، انہیں صحت کی بہترین سہولیات دستیاب ہیں اور ان کے شہری دو وقت کی روٹی کو نہیں ترس رہے بلکہ کھیلوں، فنون لطیفہ اور سائنس کی دنیاء میں نام کما رہے ہیں۔

اوریا مقبول جان صاحب… ہمارے نوجوانوں پر رحم کیجئے… ایسا ہی جہاد کا شوق ہے تو پاکستان میں اچھی اچھی نوکریاں کرنے کی بجائے وزیرستان کا رُخ کر لیجئے، یہ ہم پر اور ہماری آنے والی نسلوں پر آپ کا احسان ہوگا۔