ہمارے مسائل آخر کار سیاستدان ہی حل کریں گے۔۔۔

ہمارے ملک میں کچھ فیشن سا بنا ہوا ہے کہ ہر برائی کا الزام سیاست دان یا سیاسی پارٹی پر لگا دو۔ سیاست دان، جمہوریت اور سیاسی پارٹیاں وہ بیگ بنے ہوئے ہیں جن پر باکسنگ کرنے والے مکابازی سیکھتے ہیں۔ جو کُچھ بھی برا ہو رہا ہے اس کی ذمہ داری سیاستدانوں پر ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ کہ سیاستدان پر تنقید کرنا بہت آسان کام ہے۔اُن کی طرف سے اپنی صفائیاں ہی پیش کی جائیں گی اور بس۔ لیکن اگر آپ حقیقی گناہ گاروں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کریں تو قوی امکان اس بات کا ہے کہ آپ کی تشدد زدہ لاش کہیں سے مل جائے گی جس کی شناخت کرنا بھی آسان کام نہ ہوگا۔

چنانچہ بڑے بڑے تجزیہ نگار دن رات سیاستدانوں کی بدعنوانی اور نا اہلی کی داستانیں سناتے نظر آتے ہیں۔ ان کے تجزے ہمارے پڑھے لکھے شہری بابو بغیر سوچے سمجھے قبول کر لیتے ہیں اور انہی کو رٹ کر سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر دہراتے رہتے ہیں۔ انہیں اتنی سی بات سمجھ نہیں آتی کہ وہ غیر جمہوری قوتوں کے ہتھیار بنے ہوئے ہیں اور اپنے ہی عوام کے چنے ہوئے نمائندوں کی تضحیک کر کے وہ پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کر رہے۔ جمہوری اور غیر جمہوری ادوار کے نا مکمل سے موازنے پیش کر کے سیاستدان کو گالی دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ حب الوطنی کے سارے تقاضے پورے کر دئے ہیں۔

اس میں اِن کا بھی قصور نہیں کہ ہماری یونیورسٹیاں اور کالج تجزیہ کرنے والے ذہن پیدا کرنے کے فرض سے کب سے ہاتھ کھینچ چکے ہیں، وہ تو بس رٹو طوطے پیدا کرنے کے کارخانے ہیں۔ یہ ایسے پڑھے لکھے بابو ہیں جنہوں نے عموماً اپنے کورس کی اصل کتابیں تو دیکھی بھی نہیں ہوتیں بس خلاصے ، گائیڈز اور گیس پیپرز کی مدد سے امتحان پاس کیا ہوتا ہے۔

ان تمام تجزیات میں ہم ایک نہایت اہم نکتہ نہیں اُٹھاتے۔ وہ اہم نکتہ یہ کہ سیاسی پارٹیوں اور سیاست دانوں کو ہم دیتے کیا ہیں اور اُن سے توقعات کیا لگا لیتےہیں۔ ہماری توقعات تو یہ ہوتی ہیں کہ سیاست دانوں کے پاس اقتدار آئے تو فوراسب کچھ اچھا ہو جائے۔ ہم اکثر انہیں اِن توقعات کو پورا کرنے کے لئے مناسب وقت نہیں دیتے اور بڑی بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے گالی گلوچ پر اُتر آتے ہیں۔

ہم زیادہ دور نہیں جاتے۔ آئیے صرف گزشتہ بارہ برس کا جائزہ لے کر دیکھتے ہیں کہ سیاسی پارٹیوں سے ہماری توقعات کس حد تک جائز ہیں۔ سنہ ۲۰۰۰ء میں اس ملک میں مارشل لاء لگا ہوا تھا۔ ایک فوجی جرنیل کو عدالتِ عظمٰی نے اجازت دے رکھی تھی کہ تین سال تک اس ملک کو جیسے چاہے چلائے اور چاہے تو ملکی آئین میں ترمیم بھی کرلے۔ دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کے سربراہان جلا وطنی کی زندگیاں گزار رہے تھے۔ دونوں پارٹیوں کے کئی کارکنان اوراہم رہنماء مختلف مقدمے بھگت رہے تھےیا جیلوں میں اپنی سزائیں کاٹ رہے تھے۔ کئی ایک فوجی اسٹیبلشمنٹ کے مقابلے میں ہمت ہار کر اُس کے ساتھ شامل ہو گئے تھے۔ حال ہی میں نااہل قرار دیئے گئے وزیر اعظم غداری کے مقدمے میں جیل میں رہے۔ موجودہ صدر کسی بھی مقدمے میں سزا نہ ہونے کے باوجود آٹھ سال جیل میں گزار کر نہ جانے کن شرائط پر رہائی پا کر ملک سے باہر چلے گئے۔ پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی پارٹی کے سربراہ نواز شریف بھی مختلف مقدمات بھگت کر جلا وطنی اختیار کر گئے۔ پنجاب کے موجودہ وزیرِاعلیٰ بھی اُن کے ہمراہ تھے۔

یہ سلسلہ ۲۰۰۷ تک چلتا رہا۔ اس سارے عرصے میں دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کے سربراہان کے پاس ایسے مواقع موجود نہیں تھے کہ وہ اپنی پارٹیوں کو منظم کرتے، ملک کو چلانے کے لئے پارٹی کے ارکان میں سے لوگوں کو چنتے اور اُن کی تربیت کرتے کہ وہ ملک کے مختلف شعبے چلا سکیں۔ اس وقت ایک فوجی جرنیل بلا شرکتِ غیرے فوجی وردی میں رہتے ہوئے اس ملک کا صدر بھی رہا اور اس ملک پر عملاًحکومت بھی کرتا رہا۔ پیپلز پارٹی پر تو ایک اور قیامت یہ بھی گزر گئی کہ پارٹی کی سربراہ کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔

اس صورت حال میں ۲۰۰۸ ء میں انتخابات ہوئے اور اقتدار انہی ٹوٹی، بکھری، لنگڑی، لولی سیاسی جماعتوں کے ہاتھ میں آگیا۔ چنانچہ ہم نے دیکھا کہ پیپلز پارٹی کے پاس خارجہ امور اور خزانہ جیسے اہم شعبوں کو سنبھالنے کے لئے کوئی نہیں۔ خزانہ کے امور کو آج بھی ایک ٹیکنو کریٹ چلا رہا ہے اور خارجہ امور کو پہلے ایک ایسا شخص چلا رہا تھا جو بظاہر پیپلز پارٹی کا کارکن تھا مگر دراصل فوج کا پٹھو ثابت ہوا۔ اب بھی ایک ایسی خاتون وزیر خارجہ کے عہدے پر براجمان ہے جس کا پیپلز پارٹی کی سیاسی جدو جہد سے کوئی واسطہ نہیں رہا۔

فوج نے حسبِ سابق بظاہر تو اقتدار ان سیاسی پارٹیوں کے حوالے کر دیا تاہم یہ بات اب بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ خارجہ پالیسی اور دفاعی پالیسی جیسے اہم امور پر ان سیاستدانوں کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔ جب دفاعی امور اور خارجہ پالیسی ہی ان کے ہاتھ میں نہیں تو صنعتی امور، تجارت وغیرہ میں وہ کیا کر لیں گےکیوں کہ تجارت کا انحصار بھی خارجہ پالیسی پر ہے۔ ملک میں امن و امان کا قیام بھی خارجہ پالیسی سے جڑا ہوا ہے۔ (اگر ہم  ہندوستان اور افغانستان پر دہشت گرد گروہوں کے ذریعے اثر و رسوخ قائم کرنے کی خارجہ پالیسی پر عمل پیرا رہیں گے تو امن و امان کا مسئلہ کیسے حل ہوگا۔)

ایسے میں ہمارے لئے بہتر ہوگا کہ سیاستدان جیسے بھی ہیں ہمیں انہی کے ساتھ کھڑے ہوکر ملک کو بچانا ہوگا۔ ایک سیاستدان سے ناامید ہو کر دوسرے سیاستدان کی طرف جانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ تاہم سیاستدان سے مایوس ہو کر فوجی جرنیل یا کسی جج کے ہاتھ مضبوط کرنے سے ہمارے ملک کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ یہ ذرا سی بات سمجھنے کے لئے ہمیں کوئی لائبریریاں کھنگالنے یا پی ایچ ڈی کرنے کی ضرورت نہیں۔ صرف دنیاء کے ایسے ملکوں پر نظر دوڑائیں جن کی اقوامِ عالم میں عزت اور قدر کی جاتی ہے اور یہ دیکھیں کہ ایسے ملکوں میں سے کتنے ہیں جنہیں جج یا جرنیل چلا رہے ہیں۔ چنانچہ ہمیں اپنی توانائیاں ججوں اور جرنیلوں کے لئے نعرے لگانے کی بجائے اچھے سیاستدان پیدا کرنے کی طرف لگانی ہوں گی۔ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ 

Advertisements

ایک خیال “ہمارے مسائل آخر کار سیاستدان ہی حل کریں گے۔۔۔” پہ

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s