خاکی ڈائری…. آئین آئین کی رٹ،، حقوق، اختیارات اور میمو گیٹ

یہ سویلین لوگوں کو بھی بات سمجھ نہیں آتی۔ جتنی بار بھی ناکام ہو جائیں، جتنی بھی مار کھا لیں، جتنے بھی مارے جائیں، پھر اٹھتےہیں تو آئین اور قانون کی طرف بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ان کم بختوں کوچونسٹھ سالوں میں اتنی سی بات سمجھ نہیں آئی کہ یہ ملک آئین سے نہیں چل سکتا؛ اسے صرف ہم چلا سکتے ہیں۔

پہلے آئین بنانے کے چکر میں پڑے رہے۔ آٹھ نو سال لگ گئے مگر باز نہ آئے اور ایک آئین بنا کرہی دم لیا۔ خیرایوب انکل نےاُس آئین کو اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ ایوب انکل بھی کیا سادہ تھے دو تین سال بھی نہ نکال پائے اور سویلین والی باتیں شروع کر دیں۔ بہت سمجھایا مگر وہ باز نہ آئے اور خود ہی ایک آئین بنا کر دے دیا۔ بھلا ان سویلین کو فوجیوں کا آئین پسند آسکتا ہے۔ آج تک اُس آئین پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ سویلین کی حرکتیں دیکھیں تو آخر ایوب انکل کو سمجھ آہی گئی اور اپنا ہی بنایا ہوا آئین لپیٹ کر ایک طرف رکھا اور اقتدار یحییٰ انکل کے حوالے کر دیا۔

یحییٰ انکل اس معاملے میں سمجھدار نکلے اور  آئین کا پنگا نہیں لیا۔ مگر بنگالیوں کو کسی طرح بھی قابو نہیں کر سکے۔ بنگالی ضد پر اڑ گئے کہ آئین کے مطابق اقتدار اُن کے حوالے کیا جائے۔ لو بھلا شکل دیکھی کبھی اپنی آئینے میں…چھوٹے چھوٹے قد کے کالے کلوٹےلوگ اور مونھ پھاڑ کر اقتدار ہی مانگ لیا… شرم بھی نہ آئی۔ ارے مانگنا ہی تھا تو پرمٹ مانگ لیتے، پلاٹ مانگ لیتے، نوکری مانگ لیتے،یحییٰ انکل دے دیتےاگرچہ وہ فوج میں بھرتی ہونے کے قابل تو نہ تھے۔ نہ اُن کی چوڑی چھاتی نہ اونچے لمبے قد۔ لیکن چلو نائب قاصد، چپڑاسی وغیرہ جیسی پوسٹیں نکال دیتے ان کے لئے۔ خیر وہ ہم سے الگ ہو گئے …خس کم جہاں پاک۔

 ادھر مغربی پاکستان میں ایک اور بلا ہمارے گلے پڑ گئی۔ اس بلا کا نام تھا بھٹو۔ توبہ توبہ کیا چالاک آدمی تھا۔ ترقی پسند، لبرل ہوں یا مولوی ٹائپ سب کو اکٹھا کیا اور سال،ڈیڑھ سال ہی میں متفقہ آئین بنا ڈالا۔ اوپر سے مزید چالاکی یہ کی کہ اس آئین میں ایک شق یہ بھی ڈال دی کہ جو کوئی اس آئین کو اٹھا کر باہر پھینکے گا اسے پھانسی کی سزا دی جائے گی۔ توبہ توبہ کتنا سنگدل آدمی تھا۔ خیر اسے بھی اس سنگدلی کا خوب مزا چکھنا پڑا۔ چچا ضیاع الحق نے اُسی کو پھانسی چڑھا دیا اور اس کا اپنا بنایا ہوا آئین بھی اُسے نہ بچا سکا۔ کتنا اچھا ہوتا کہ سوویلین اس تجربے سے سبق سیکھ لیتے اور آئندہ کے لئے آئین آئین کی رٹ چھوڑ دیتے۔

خیر سارے سویلین اتنے برے نہیں ہوتے۔ جب چچا ضیاع الحق نے بھٹو جیسے مکار شخص کا تختہ الٹا اور اقتدار پر قبضہ جما لیا توکئی بار نجی محفلوں اور ایک آدھ بار کھُل کر بھی کہا کہ آئین ایک چھوٹی سی کتاب ہے جسےوہ جب چاہے اُٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینک سکتے ہیں مگر پھر بھی بھٹو کی چالاکی والی شق کی وجہ سے اندر ہی اندر ڈرتے رہے اور سچ مچ آئین کو اُٹھا کر باہر نہیں پھینکا۔ مگر ایسے میں شریف الدین پیرزادہ جیسے سویلین (جن کو سویلین کہنا بڑی ہی زیادتی کی بات ہے) چچا ضیاع الحق کے بہت کام آئے اور بھٹو کی چالاکیوں سے جان بچانے کے بڑے اچھے اچھے گُر بتائے۔ یہی پیرزادہ صاحب بعد میں مشرف انکل کے بھی بہت کام آئے۔

خیر ضیاع الحق چاچا خود ہی جہاز کے ساتھ پھٹ گئے… کیا سانحہ تھا…قومی سانحہ… ان کے مرنے کے بعد بے نظیراور نواز شریف کا کھیل شروع ہوا۔ بے نظیر سے تو خیر کی امید رکھنا یوں بھی بے جا تھا کہ وہ بھٹو کی بیٹی تھی مگر نواز شریف بھی کم بخت پورا سویلین ہی نکلا۔ بھاری مینڈیٹ کا جادو ایسا سر چڑھ کر بولنے لگا کہ وہ یہ بھول گیا کہ یہ بھاری  مینڈیٹ بھی تو ہماری ہی دین تھی۔ لگا آئین میں ترامیم کرنے اور ترمیم بھی کیا ۵۸ (۲) بی ہی ختم کرڈالی۔ اتنا پال پوس کے بڑا کیا، اربوں روپے خرچ کر کے وزیراعظم بنوایا مگریہ صلہ دیا اُس کم بخت نے۔ صدرکو گھر بھیجا، چیف جسٹس کو گھر بھیجا، انکل جہانگیر کرامت(ہائے بے چارے کتنے سیدھے سادے تھے) کو گھر بھیجا…پرویز مشرف انکل کو بھی گھر بھیجنا چاہتا تھا۔

خیر اتنے سویلین آئے اور گئے  مگر جب سے زرداری آیا ہے جانے کا نام ہی نہیں لے رہا۔اور جب سے آیا ہے اختیارات اور حقوق عوام کو دیئے جا رہا ہے۔ کوئی پوچھے بھئی یہ تیرے باپ کی جاگیر ہے جو یوں بانٹتا پھر رہا ہے۔ سب سے پہلے تو اُس نے اٹھارہویں ترمیم متفقہ طور پر منظور کرا لی۔ توبہ توبہ کتنا چالاک آدمی ہے یہ۔ مولویوں نے بھی اس میں اختلاف نہیں کیا حالانکہ آج تک ہم مولویوں میں اتفاقِ رائے قائم نہ کرا سکے۔

اٹھارہویں ترمیم میں سارے کے سارے اختیارات صوبوں کے حوالے کر دئے ہیں۔ این ڈبلیو ایف پی کو خیبر پختونخوا بنا دیا، شمالی علاقہ جات کو گلگت بلتستان اور ان کی اپنی اسمبلی اور الیکشن۔ تعلیم، صحت یہاں تک کہ بجلی کی پیداوار پر بھی صوبوں کو اختیار دے دیا۔ یعنی واپڈا کی چھٹی۔ بھلا اب کوئی جرنیل اقتدار سنبھالے گا تو ریٹائرڈ جرنیلوں کو کہاں کھپائے گا۔ کوئی بھی واپڈا کا چیئرمین لگنے کو تیار نہیں ہوگا۔

تعلیم پر پورا اختیار صوبوں کو دے دیا ہے تو ہر صوبہ اپنا نصاب بنانے کے لئے آزاد ہو گیا ہے۔ پختون خوا میں جو غدارانِ وطن کی حکومت ہے اُس نے تو فوری طور پر پشتو، ہندکو اور چترالی زبان میں تعلیم دینے کے لئے کتابیں لکھوانا شروع کر دی ہیں۔ کس قدر نفاق پھیلے گا ایسی پالیسیوں سے۔ یعنی اب ہماری کتابوں میں چاچا ضیاع الحق اور یحییٰ خان کو برے برے ناموں سے یاد کیا جائے گا اور بھٹو اور باچاخان کو اچھے اچھے ناموں سے۔ توبہ توبہ …خدا نے یہ دن بھی دکھانے تھے۔۔۔ یہ سب اس کمینے زردری کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

اوپر سے این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کتنا بڑھا دیا ہے۔ یعنی ہر سال ملک کی کل آمدنی کا ۵۷.۵ فیصد تو صوبوں کو دے دیا جائے گا۔ باقی بجٹ میں سے خاصی بڑی رقم قرضوں پر سود کی ادائیگی میں چلی جائے گی۔ ایسے میں ہمارے لئے کیا بچے گا…؟ مونگ پھلی…؟

سب سے بڑا پنگا یہ لے لیا ہے کہ خارجہ پالیسی اپنی مرضی کی بنانا چاہتا ہے۔ بھئی تمہیں صدر بننے دیا ہے آرام سے ایوان صدر میں بیٹھو … استثناء کے مزے لوٹو…مگران سویلین کو پتہ نہیں کون سا کیڑا سکون نہیں لینے دیتا۔ ۲۰۰۸ ء میں صدر بنتے ہی فرمایا "ہمیں بھارت سے خطرہ نہیں”۔ وہ تو مہربانی ہو لشکر طیبہ کی کہ فوری طور پر ممبئی میں حملہ کر کے زرداری کے ملک دشمن عزائم خاک میں ملا دیئے۔ لیکن پچھلے تین چار سال میں پھر ہندوستان کے ساتھ نہ صرف دوستانہ تعلقات بنا لئے ہیں بلکہ ہندوستان کو پسندیدہ ترین ریاست کا درجہ دینے کو بھی تیار ہو گئے۔

اب ہم کیا کریں۔ جس دشمنی کی بنیاد پرہماری روزی روٹی چل رہی ہےاسے ختم کرنے کا تو سیدھا سادا مطلب ہے کہ آپ ہمارے پیٹ پر لات مار رہے ہیں۔ جب ہماری روزی روٹی کا سوال پیدا ہو جائے تو ہم میمو گیٹ کا ایشو نہ کھڑا کریں تو اور کیا کریں… 

Advertisements

2 خیالات “خاکی ڈائری…. آئین آئین کی رٹ،، حقوق، اختیارات اور میمو گیٹ” پہ

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s