آسان مطالعہ پاکستان

تاریخ کے ساتھ کھلواڑ

یہ تحریر پاکستان ٹوڈے میں چھپنے والےانگریزی کالم کا ترجمہ ہے۔ اصل متن کے لئے یہاں کلک کریں

(ازعلی آفتاب سعید)

آپ میٹرک کے طالب علم ہیں؟، انٹر یا بیچلر… پریشانی چھوڑیں…خوش ہو جائیں۔ کیونکہ آپ کے مطالعہ پاکستان سے متعلق مسائل حل ہو گئے ہیں۔ مضون ہذٰا آپ جیسے لوگوں کے لئے ہےجو مطالعہ پاکستان کے امتحان کے لئے تیاری کرنے کے اذیت ناک مراحل سے کئی بار گزر چکے ہیں۔ نکتہ یہ ہے کہ اس بات پر دھیان نہ دیں کہ آپ کیا جانتے ہیں، بلکہ اس بات پر توجہ رکھیں کہ ممتحن آپ کے جوابی پرچے میں کیا پڑھنا چاہتا ہے۔
کسی ناقابل فہم وجہ سے مطالعہ پاکستان کا آغاز محمد بن قاسم سے ہوتا ہے۔ آپ کو اس واقعے کی پوری تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کیوں کہ اب آپ کے پاس میموگیٹ پر کافی مواد موجود ہےجس کی بنیاد پر آپ محمد بن قاسم کی سندھ میں دخل اندازی کے بارے میں لکھ سکتے ہیں۔ تاہم خیال رہے کہ جس خاتون نے مبینہ طور پر وہ خط[محمد بن قاسم کو) لکھا تھا وہ مظلوم فرد کی طرف سے تھا جبکہ میمو کے مبینہ لکھاری نے غداری کا ارتکاب کیا ہے۔ خیر ہمیں غیر ضروری تفصیلات میں نہیں الجھنا چاہئے بلکہ اپنی توجہ بڑے مسائل پر مرکوز کرنی چاہئے۔
برصغیر میں اسلام کی ترویج کے لئے محمود غزنوی سے بڑھ کر کوئی کردار ادا نہیں کر سکا( اگر شاہ محمود قریشی آپ کے ممتحن کا دھاگا پیر نکل آئے توآپ اپنی خوش قسمتی پر بجا طور پر ناز کر سکتے ہیں)۔خیال رہے کہ مطالعہ پاکستان میں رنجیت سنگھ یا سر سید کے بارے میں سوالات کرنے کا رواج نہیں ہے۔ اگر خدانخواستہ کوئی سوال آجائے تو رنجیت سنگھ کی خوب خبر لیجئے تاہم سر سید احمد خان کے بارے میں ذرا ہاتھ ہولا رکھیں۔ مانا کہ وہ کوئی بہت عظیم آدمی نہیں تھا تاہم وقت کے ساتھ ہم نے اُس کے گناہ کسی حد تک معاف کر دئے ہیں۔
اس کے بعد مغلوں کا دور آتا ہے۔ یہ ہماری تاریخ کا وہ سنہری دور ہے جب تمام شہنشاہ ٹوپیاں سی کر گزارا کرتے تھے سوائے اکبر جیسے شرابی کے جس نے ایک ہندو عورت سے شادی کر لی اور کوئی اپنا مذہب بھی ایجاد کیا۔
اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا اگر آپ کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ تحریک خلافت ہندوستان میں کیوں شروع ہوئی جب کہ ترکی کے جاہل عوام نے لادین مصطفٰے کمال کواتا ترک یعنی اپنا باپ مان لیا تھا۔ دوستو…! اس طرح کے سوال کرنا زیادہ اہم نہیں…اہم بات یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ نمبر کیسے حاصل کئے جائیں۔ چنانچہ اگر یہ سوال امتحان میں آجائے…جوکہ اکثر آجاتا ہے … تو غیر ضروری تفصیلات میں نہ پڑیں بس ایک سرخی لگائیں "گاندھی کی سیاسی قلابازی” اور پورے نمبر حاصل کریں۔
کوئی امتحان قائد اعظم کے چودہ نکات کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ کہتے ہیں چودہ نکات ہیں تاہم آپ صرف تیرہ لکھ دیں تو کافی ہوگا۔ چودہواں نکتہ رہنے دیں جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ "مکمل مذہبی آزادی یعنی عقیدے کی آزادی، عبادت اور اپنے مذہب پر عمل کرنے، اس کی تبلیغ کرنے، مذہبی جماعت بنانے اور اپنے مذہب کی تعلیم دینے کی ہر کسی کو آزادی ہوگی”۔
سوالنامے پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں اور "دوقومی نظریہ” کے الفاظ ڈھونڈیں۔ یقین کریں یہ الفاظ آپ کو سوالنامے میں کہیں نہ کہیں ضرور مل جائیں گے۔ چنانچہ جب آپ کو یہ الفاظ مل جائیں تو یہ سطر ہو بہو نقل کردیں: "دوقومی نظریہ ناگزیر تھا کیونکہ ہندو گائے کو دیوی سمجھتے ہیں جبکہ ہم اس کا گوشت کھاتے ہیں”۔ یہ لیجئے… مبارک ہو… ممتحن کا دل آپ کی مٹھی میں آگیا ہے۔ اگر آپ مزید کوئی سوال حل نہیں کرنا چاہتے تو اسی کے جواب میں ایک آدھ سطراورلکھ دیجئے اور اب آپ کمرہ امتحان سے جا سکتے ہیں اور وہ بھی اس یقین کے ساتھ کہ آپ نے اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے۔ وہ سطر یہ ہے” دو قومی نظریے کی بنیاد اُسی دن پڑ گئی تھی جس دن پہلے مسلمان نے برصغیر میں قدم رکھا تھا”۔
جنگوں کے بارے میں اہم نکات: یاد رکھیں ہم نے اپنی پوری تاریخ میں کبھی بھی کوئی جنگ نہ تو شروع کی اور نہ ہاری۔ اس بات کی فکر نہ کریں کہ نذیر ناجی 1965کی جنگ کے بارے میں کیا کہتا ہے۔ اس کی حیثیت ہی کیا ہے ، اس نے تو گریجویشن بھی نہیں کی۔ ۱۹۷۱میں بھارت نے ہمارے خلاف سازش کی اور ہمارے سیدھے سادے مسلمان بھائیوں کو ورغلایا جس کے نتیےجے میں سقوط ڈھاکہ کا سانحہ پیش آیا۔ ہاں اس بات کا ذکر بھی نہ کریں کہ آپ نے ہتھیار ڈالنے اور شکست تسلیم کرنے والے معاہدے کی ویڈیو یوٹیوب پر دیکھی ہے۔ ہم نے روس کو بغیر کسی غیر ملکی امداد کے افغانستان سے بھگا دیا(امتحان سے پہلے چارلی ولسن کی فلم "وار”ہر گز مت دیکھیں)۔ اگر نواز شریف کارگل کے موقع پر ہمت نہ ہار جاتا تو کشمیر ہمارا ہو چکا ہوتا۔ خوشقسمتی سے ہماری حالیہ سرگرمیاں نصاب کا حصہ نہیں بنیں۔ آئی ایس پی آر نے ابھی تک اس حوالے سے اسباق کی منظوری نہیں دی۔
صرف صدور اور وزراء اعظم کے ادوار یاد رکھیں۔ فوج کی طرف سے حکومتوں کے تختے الٹنے کے بارے میں کوئی بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ تمام مارشل لاء وقت کی ضرورت تھے۔ ہر موقع پر عوام نے فوج سے پاکستان کو بچانے کی التجائیں کیں۔ ہر مرتبہ جرنیل پاکستان کو بچانے میں کامیاب ہوگئے۔
ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات: سعودی عرب کے ساتھ ہمارے بہت اچھے مراسم ہیں اگرچہ سعودی عرب ہمارا ہمسایہ نہیں ہے… مگر کسی نے بھی اس غلطی کو درست کرنے کی کوشش نہیں کی، آپ بھی نہ کریں۔ چین دوسرے نمبر پر ہے۔ ہندوستان اب بھی چانکیا کی سیاست میں الجھا ہوا ہے اورپاکستان کو خود مختار ریاست کے طور پر قبول کرنے سے انکاری ہے۔ چنانچہ وہ کبھی بھی ہمارے دوستوں کی فہرست میں شامل نہیں ہو سکا۔ افغانستان کے ساتھ ہماری طویل ترین مشترکہ سرحد ہےاور ہم نے انہیں ضرورت کے ہر موقع پر مدد فراہم کی ہے۔ ایران اور روس کے ساتھ ہمارے تعلقات کچھ بہتر ہو سکتے تھے اگر وہ بھارت کی باتوں میں آکر ہمارے خلاف نہ ہو جاتے ۔ بنگلہ دیش اب بھی بھارت کے ہاتھوں بے وقوف بننے پر پچھتا رہا ہے تاہم مجموعی طور ہمارے اُن کے ساتھ تعلقات دوستانہ ہیں۔ ہم نے بڑی کشادہ دلی سے ان کی خطائیں معاف کر دی ہیں۔
ہم زرعی ملک ہیں۔ ہمارے ملک میں چاروں موسم پائے جاتے ہیں۔ اس بارے میں ضرور شیخی بگھارئے کہ ہمارا ملک سیاحوں کے لئے جنت ہے۔ مگر خیال رہے سوات کے حوالے سے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ وہ اب سیاحت کا مرکز نہیں رہا بلکہ چھاؤنی میں بدل چکا ہے۔
لیجئے مطالعہ پاکستان کا پرچہ تیار ہو گیا۔ ہمارا خیال ہے کہ ہم نے پچھلے سالوں کے پرچوں میں آنے والے اکثر سوالوں کے جوابات دے دیے ہیں اور مطالعہ پاکستان کی کتاب میں سے مفید معلومات ڈھونڈ نکالی ہیں۔ یہ بات محض فسانہ ہے کہ لمبے جواب لکھنے سے زیادہ نمبر ملتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ جواب دیے جائیں جو مطلوب ہیں۔ بادام کھانا اور سورۃ یاسین کی تلاوت سے مزید افاقہ ہوگا۔
(انگریزی متن کا مصنف بےغیرت بریگیڈ کا رکن ہے جس کا گیت "آلو آنڈے” شہرت کی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔)

Advertisements

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s