وکیلوں کا اتحاد …. انصاف خطرے میں

عنوان کو دیکھ کر آپ یقیناً چونک گئے ہوں گے۔ ہم ہر لمحہ اپنی قوم میں پائی جانے والی تقسیم سے پریشان رہتے ہیں اور ہر کوئی اتحاد و یگانگت پیدا کرنے کے لئے کوششیں کرنے پر زور دیتاہے۔ مگر یہاں ایک لکھاری آپ کو خبردار کر رہاہے کہ وکیلوں کا اتحاد انصاف کے لئے خطرہ ہے۔ بھلا اتحاد اتنی بری شے کیسے ہو سکتی ہے کہ اس سے انصاف خطرے میں پڑ جائے۔

وکیلوں کی غنڈہ گردی کے مناظر تو آپ نے دیکھے ہوں گے۔ ایسے واقعات ہمارے میڈیا میں بارہا رپورٹ ہو چکے ہیں۔ وکیلوں نے پولیس اہلکاروں کو مارا پیٹا، میڈیا کے لوگوں کو مارا پیٹا اور اُن کے کیمرے توڑے، ایک بار تو ایک جج کو تھپڑ مار دیا۔ تاہم ایسے وکیلوں کے خلاف کبھی کوئی اقدام نہیں اُٹھایا گیا۔

تاہم میں دو ایسے واقعات کا ذکر کر رہا ہوں جو شاید آپ کی نظر سے نہ گزرے ہوں۔ پہلے واقعہ ضلع چکوال کا ہے جہاں ایک کم عمر بچے کو ایک شخص نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ بچے کے والدین نے اس واقعے کی رپورٹ متعلقہ تھانے میں کردی۔ جب مقدمہ چلنے کی نوبت آئی تو بچے کے والدین کے لئے عجیب مشکل آن کھڑی ہوئی۔ کوئی بھی وکیل اُن کا مقدمہ لڑنے کو تیار نہیں تھا۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ مقدمے میں نامزد ملزم چکوال کی ایک خاتون وکیل کا بھائی تھا۔ باقی وکیل یہ مقدمہ لڑ کر وکلاء کے درمیان کسی قسم کی بد مزگی نہیں پیدا کرنا چاہتے تھے تاکہ وکلاء کا اتحاد خطرے میں نہ پڑ جائے۔ چنانچہ آج بھی بچے کے والدین انصاف کے منتظر ہیں۔

باکل اسی قسم کا ایک کیس حال ہی میں پشاور میں چل رہا ہے۔ پشاور کے ایک وکیل نے پہلی بیوی سے چھپ کردوسری شادی کر لی۔ جب پہلی بیوی کو پتہ چلا تو اس نے دوسری بیوی کو فون کر کے جان سے مار ڈالنےکی دھمکیاں دیں۔ کچھ عرصے کے بعد دوسری بیوی کہیں غائب ہو گئی اور والدین کی کوششوں کے نتیجے میں اس کی لاش مل گئی۔ والدین کی شکایت پر وکیل کے خلاف مقدمہ درج  ہو گیا۔ تاہم جب مقدمہ عدالت میں پہنچا تو والدین کو ویسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جیسی پہلے کیس میں بچے کے والدین نے دیکھی۔ پشاور بھر میں کوئی وکیل اس مقدمے کی پیروی  کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اس کیس میں بھی اس بات کا واضح امکان ہے کہ ملزم بری ہو جائے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وکیلوں کی غنڈہ گردی کے جتنے واقعات ہوئے ہیں (حتٰی کہ جج کو تھپڑ مارنے جیسی حرکت سمیت) کسی بھی واقعہ پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس نہیں لیا۔ جبکہ دوسری طرف کسی کے سامان سے  شراب کی بوتل برآمد ہونے پر بھی از خود نوٹس لے لیا جاتا ہے۔ گویا "آزاد” عدلیہ کے از خود نوٹس بھی اپنے جانثاروں کے خلاف نہیں ہو سکتے۔

پاکستان میں یہ رجحان پولیس اور فوج میں تو پہلے ہی پایا جاتا ہے۔ پولیس والے اپنے پیٹی بند بھائیوں کے ہر جرم پر پردہ ڈالنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیر تفتیش ملزمان کے تشدد سے قتل جیسے واقعات میں بھی پولیس اہلکاروں کی معطلی اور انکوائیریوں سے بات آگے نہیں بڑھتی۔ فوجی بھائی پولیس اہلکاروں سے بھی زیادہ طاقتور ہیں لہٰذا اگر کہیں اُن پر قانون لاگو کرنے کی کسی نے کوشش کی تو پورا ملک ادھر سے اُدھر ہو جائے گا مگر فوجی بھائیوں کے خلاف قانون پر عمل درآمد نہیں ہو سکے گا۔ اس کی بھی کئی مثالیں موجود ہیں تاہم سوئی کے مقام پر لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ زیادتی کے واقعے کے ملزمان آج بھی آزاد ہیں، جبکہ زیادتی کا شکار ہونے والی لیڈی ڈاکٹر آج بھی جلا وطنی کی سزا بھگت رہی ہے۔

بالکل یہی رجحان اب وکلاء میں بھی آگیا ہے۔ اپنی برادری کے لوگوں کو سو خون بھی معاف کردیں گے۔ دوسروں کے ہاتھ سے گلاس بھی ٹوٹ گیا تو بہت واویلا کریں گے۔ وکلاء کی تحریک کاتنیجہ یہ نکلے گا کہ ہمارے ملک میں ایک اور قانون سے بالا تر طبقہ پیدا ہو جائے گا یہ ہمیں معلوم نہ تھا۔

پھر بھی امید کرتے ہیں کہ پاکستان میں قانون کی بالا دستی کا راگ الاپنے والی آزاد عدلیہ اور اس کے بے شمار جاں نثاروں کو کسی دن یہ خیال آ ہی جائے گا کہ قانون کی بالا دستی قائم کرنے کے لئے انہیں اپنے ہی صفوں میں موجود غنڈہ عناصر کو بھی قابو کرنا ہوگا۔ غنڈہ گردی کرنے والے وکیلوں کے لائسنس منسوخ کرنے ہوں گے، اور ظلم کرنے والے وکیلوں کے خلاف خلوص نیت سے مقدمات لڑنے کے لئے مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ اگر ہم نے اس ملک کو چلانا ہے تو اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔

وکیلوں کی غنڈہ گردی کی کچھ واقعات کی تفصیلات کے لئے ذیل میں دیے گئے لکنس پر کلک کریں:

جھنگ میں ڈی پی او کے دفتر پر وکیلوں کا دھاوا

اسلام آباد میں وکیلوں کا تھانے پر حملہ

Advertisements

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s