سوئس بنکوں میں پاکستان کے ۹۷ ارب ڈالر کی افواہ

آج کل ایک افواہ جسے بعض اخبارات نے خبر کے طور  پر شائع کیا بہت گردش کر رہی ہے۔ میں نے یہ خبر پہلے ہی روز اخباروں میں پڑھ لی تھی تاہم اسے توجہ کے لائق نہ جان کر نظر انداز کر دیا۔ لیکن پھر جب یہ دیکھا کہ اس خبر پر بہت زیادہ تبصرے ہو رہے ہیں اور سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹوں پر بہت زیادہ شیئر کی جا رہی ہے تو اس کے بارے میں اپنا نقطہ نظر دینا ضروری خیال کرتا ہوں۔

مذکورہ خبر کے ویب لنکس درج ذیل ہیں:

روزنامہ پاکستان آبزرور

روزنامہ دی نیشن

روزنامہ ایکسپریس

روزنامہ پاکستان ٹوڈے

ان لنکس سے آپ کو اندازہ ہو رہا ہو گا کہ اس افواہ کو بطور خبر شائع کرنے میں دی نیشن، پاکستان ٹوڈے اور روزنامہ ایکسپریس جیسے اہم اخبارات بھی پیچھے نہیں رہے۔پاکستان آبزرور کے کالم نگار نے تو ۹۷ ارب ڈالر کی بجائے ۲۰۰ ارب ڈالر کی رقم کا ذکر کر دیا ہے۔ جتنے لوگ اس خبر کو آگے پھیلا رہے ہیں وہ ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سوچتے کہ اس میں کتنی حقیقت ہے۔

آئیے اس خبر کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں:

ہر خبر کا ذریعہ بتایا جاتا ہے۔ تاہم اس خبر کا ذریعہ ایک سوئس بنک کا ڈائریکٹر ہے۔ نہ تو یہ پتہ ہے کہ بنک کا نام کیا ہے اور نہ ہی ڈائریکٹر کا نام بتایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی نہیں  معلوم کہ ڈائریکٹر صاحب نے یہ انکشافات کب اور کہاں کئے۔ پھر ایک اور سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر ان ڈائریکٹر صاحب کو پاکستان سے اتنی ہمدردی کیوں تھی کہ انہوں سوئس بنکوں میں موجود لاکھوں کھاتے پھرولے، ان میں سے پاکستانیوں کے کھاتے الگ کئے، اور ان میں موجود رقوم کی جمع تفریق کرتے رہے اور نہ جانے کتنے دنوں کی محنت کے بعد یہ پتہ چلانے میں کامیاب ہوئے کہ پاکستانیوں کی طرف سے جمع کرائی گئی رقوم ۹۷ ارب ڈالر ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ انہوں ںے یہ جمع تفریق بھی کر ڈالی کہ اس رقم سے پاکستان کے کون کون سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

ایک اور سوال یہ اٹھتا ہے کہ اتنی اہم معلومات اخباروں کو بتانے کی جرات ڈائریکٹر نے کیوں کر کی۔ بنکوں کا اپنے عملے کے لئے ایک بہت سخت ضابطہ اخلاق (Code of Conduct)ہوتا ہے۔جس کے تحت عملہ اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ وہ کسٹمر کے کھاتوں کے بارے میں معلومات عام لوگوں تک نہیں پہنچائے گا۔ اگر عملے کا کوئی فرد ایسا کرتا ہوا پایا جائے تو فوری طور پر نوکری سے فارغ کر دیا جاتا ہے۔ ہمیں اس خبر میں یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ ڈائریکٹر صاحب کی نوکری ابھی باقی ہے یا فارغ کر دیے گئے ہیں۔ اگر فارغ کر دیے گئے ہوں تو ہم پاکستانیوں کو ان سے اظہار ہمدردی کرنے کا موقع تو ملنا چاہئے۔

ہمارے ہاں ایسی خبریں معمول ہیں:

ہمارے ہاں ایسی خبریں نکلنا معمول کی بات ہے۔ اس سے پہلے سوات میں ایک لڑکی کو کوڑے مارنے کے حوالے سے جو ویڈیو سامنے آئی تھی اس کے بارے میں بھی یہ خبر نکلی تھی کہ وہ کسی این جی او نے لاکھوں روپے دے کر بنوائی تھی۔ یہ خبر بھی اتنی ہی بے تُکی تھی۔ اس میں بھی این جی او کا نام درج نہیں تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب وہ ویڈیو منظر عام پر آئی تھی تو سوات طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے اس ویڈیو کو قبول کیا تھا، یہ تسلیم کیا کہ طالبان ایسی سزائیں دیتے ہیں۔ مسلم خان نے اپنے پہلے انٹرویو میں ایک بار بھی یہ نہیں کہا تھا کہ وہ ویڈیو جعلی ہے۔ اس انٹرویو کی ویڈیو یو ٹیوب پر دستیاب ہے۔

ایسی خبریں کیوں؟

اس میں ظاہر سی بات ہے کہ عوام کو گمراہ کرنے کے علاوہ ایسی خبروں کا کوئی مقصد نہیں۔ چونکہ مذکورہ ویڈیو کی وجہ سے پاکستان میں رائے عامہ طالبان کے خلاف ہو گئی تھی اس لئے اس ویڈیو کو جعلی قرار دینے کی کوششیں ہوئیں۔ تاہم ایسی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں اور اب پاکستان کے عوام کی رائے اُن کے خلاف ہے۔

حالیہ ۹۷ ارب ڈالر کی رپورٹ کا مقصد ہمارے سیاسی لیڈروں کو بد نام کرنا ہے، اور عوام میں ان کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا ہے۔ جب عوام سیاسی لیڈروں سے متنفر ہو جائے تو پھر کوئی من چلا ہمارا مسیحا بن کر آ جاتا ہے اور سیاستدانوں کو(جو کہ ہمارے نمائندے ہیں) جیلوں میں ڈال دیتا ہے۔ عوام اپنے نمائندوں کے لئے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتے اس لئے ایسے من چلوں کو کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔

ہمیں کیا کرنا چاہئے:

ہمیں چاہئے کہ ہر خبر کو چھان پھٹک کر دیکھیں۔ یوں ہی اندھا دھند جھوٹی خبروں کو نہ پھیلائیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہمارے سیاستدان بہت نیک اور پرہیزگار لوگ ہیں۔ لیکن جو کوئی ان کے خلاف اس قسم کی بے سرو پا خبریں گھڑتے اور شائع کرتے ہیں وہ بھی تو گندے لوگ ہی ہیں۔ سو ہمیں ایسے گندے لوگوں کا آلہ کار بھی نہیں بننا چاہیئے۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان جیسے بھی ہیں ہمارے نمائندے ہیں اور ان کے احتساب کا حق صرف ہم لوگوں (یعنی پاکستان کے عوام )کو حاصل ہے۔ ہم نے انہیں اپنے ووٹ کے ذریعے اپنی نمائندگی کا حق دیا ہے اور یہ حق ہم ہی اُن سے واپس لے سکتے ہیں۔ ہمیں کسی صورت بھی اپنا یہ حق کسی جرنیل یا کسی اور قسمت آزمائی کرنے والے خبیث کو نہیں دینا چاہئے۔

Advertisements

2 خیالات “سوئس بنکوں میں پاکستان کے ۹۷ ارب ڈالر کی افواہ” پہ

  1. پنگ بیک: گھر کی عزت « آئینہ…
  2. پنگ بیک: گھر کی عزت….از محمد طارق « آئینہ…

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s