پیغمبر اسلام کے نام ایک خط

اے رحمت اللعالمین !

السلامُ علیکم….

میں آج بہت پریشان ہوں۔ یوں تو میں پیدائشی مسلمان ہوں مگر پیدائشی مسلمان ہونے کو کوئی کمال نہیں سمجھتا۔ بلکہ اُن لوگوں کوذیادہ بہتر مسلمان سمجھتا ہوں جو سوچ سمجھ کر، آپ کی تعلیمات کو پڑھ کر، انہیں سمجھ کر مسلمان ہوئے یا جنہوں نے پیدائشی مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کی تعلیمات کو پڑھا، سمجھا اور اُ ن پر عمل کرنے کی کوشش کی۔ میں نے بھی آپ کی تعلیمات کو پڑھا اور سمجھنے کی کوشش کی اور یہی وجہ ہے کہ آج میں بہت پریشان ہوں۔ میں طائف کے واقعے کو سنتا ہوں، مختلف غزوات خاص طور پر فتح مکہ کے بارے میں پڑھتا ہوں تو متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتامگر جب آپ کے عشق کا دعوٰی کرنے والوں کو دیکھتا ہوں تو مجھ پر سکتہ سا طاری ہو جاتا ہے۔

آپ نے علم حاصل کرنے کو سب سے افضل قرار دیا؛ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض قرار دیا۔ آپ نے فرمایا کہ عالم کے قلم کی سیاہی شہید کے خون سے افضل ہے۔ مگر آج آپ کے عشق کا دعوٰی کرنے والے بچیوں کو چین جانے کی اجازت تو کیا دیں گے ساتھ والی گلی میں قائم سکول جانے کی اجازت بھی نہیں دیتے، بلکہ سکولوں کو بموں سے اُڑا دیتے ہیں اور عالموں کو محض اس لئے مار ڈالتے ہیں کہ وہ ان سے مختلف انداز میں سوچتے ہیں۔

ہماری اس مملکت خداداد میں کئی لوگ یتیموں اور بیواؤں کا حق کھا جاتے ہیں۔ کئی لوگ تنخواہ لیتے ہیں لیکن کام نہیں کرتے، بہت سے لوگ رشوت دیتے اورلیتے ہیں۔ مگر آپ کے عشاق کو یہ سب حرکتیں آپ کی توہین نہیں لگتیں۔ آپ نے فرمایا جب کوئی بات سنو تو اس کے بارے میں تحقیق کرو کہ وہ درست ہے کہ نہیں۔ مگر آپ کے سچے عاشقوں کی نظر سے شاید آپ کا یہ فرمان نہیں گزرا، سو وہ بغیر تحقیق کے ہر بات آگے پھیلا دیتے ہیں اور انہی افواہوں کی وجہ سے کئی معصوم لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں مگر آپ کے سچے عاشق اس نقصان پر رتی بھربھی شرمسار نہیں ہوتے۔ آخر کو وہ آپ کے سچے عاشق ہیں۔ ندامت ، شرم اور معافی …وہ کیوں معافی مانگیں وہ بھی کسی ایسے شخص سے جو آپ پر ایمان لانے کا دعوٰی تو کرتا ہے مگر آپ کا سچا عاشق نہیں بن پایا۔

آپ کے ماننے والے اس ملک میں رہنے والے کالے عیسائیوں کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لے کر پینا پسند نہیں کرتے، اسے اپنی توہین سمجھتے ہیں اور ہندوؤں کے مذہب کا اس بات پر مذاق اڑاتے ہیں کہ وہ ذات پات کے نظام پر مبنی ہے۔ کوئی عالم دین ان سچے عاشقوں کو یہ نہیں سمجھاتا کہ یہ کالے عیسائی جو ہماری نالیاں صاف کرتے ہیں یہ بھی انسان ہیں۔ کئی علمائے دین تو خود بھی اِن کالے عیسائیوں کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا پسند نہیں کرتے۔ آخر کو وہ آپ کے سچے عاشق ہیں۔ آپ اپنے ہاتھ سے جھاڑو لگا دیا کرتے تھے مگر آپ کے سچے عاشق یہی کام کرنے والوں کو انسان نہیں سمجھتے۔ ہاں اگر کوئی گورا عیسائی آجائے تو اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانے پینے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

آپ تو شدید ترین مظالم پر بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھےبلکہ برے سے برے لوگوں کو بھی معاف کردیتے تھے۔ مگر آپ کے عشق کے دعوے دار تو بندے کو مار ڈالتے ہیں، پھر اس کے جنازے میں بم چلا دیتے ہیں اور آخر اس کی قبر میں بھی بم رکھ آتے ہیں۔ کسی پر آپ کی توہین کا الزام لگ جائے تو اِن سے اتنا بھی صبر نہیں ہوتا کہ الزام کی صحت کے بارے میں تحقیق ہی کر لیں اور سچ جھوٹ کو پرکھ لیں… اس سے پہلے ہی جا کر ملز م کے سینے میں گولیاں اُتار آتے ہیں۔

یہ سب دیکھ کر میں بہت پریشان ہوں۔ آپ کا سچا عاشق ہونے کا معیار بہت سخت ہے۔ مجھ ایسے کمزور شخص سے یہ سب نہیں ہو سکے گا۔ آپ کے عشاق شاید میری اس کمزوری کو کبھی معاف نہ کر پائیں۔ مگر آپ تو رحمت اللعالمین ہیں، امید ہے آپ میری اس کمزوری پر درگزر فرمائیں گے۔

فقط آپ کا ایک کمزور (امن پسند) پیروکار

لالا جی

Advertisements

ایک خیال “پیغمبر اسلام کے نام ایک خط” پہ

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s