قبائلی علاقوں کے لوگ کیا چاہتے ہیں

حال ہی میں میرا واسطہ کیمپ (Community Appraisal and Motivation Network-CAMP)نامی ایک تنظیم سے پڑا۔ یہ ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جس نے پچھلے کچھ سالوں میں پاکستان کے نیم خود مختار قبائلی علاقوں میں بہت کام کیا ہے اور ہمیں یہ بتایا ہے کہ وہاں کے لوگ کیا سوچتے ہیں، کیا سمجھتے ہیں اور کن چیزوں کو کیسے دیکھتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا قدم ہے جس کے نتیجے میں قبائلی علاقوں کے بارے  میں سنی سنائی باتوں اورلوگوں کی ذاتی رائے کی بنیاد پر بنی طلسماتی کہانیوں سے نکل کر ہمارے سامنے کچھ ایسے حقائق آئے ہیں جو سائنسی انداز میں باقاعدہ سروے کر کے اکٹھے کئے گئے ہیں۔ یہ سروے باقاعدگی سے۲۰۰۸ ، ۲۰۰۹ اور ۲۰۱۰ میں کئے گئے ہیں۔ چنانچہ ان سروے کے نتائج کا تقابل کر کے ہم یہ بھی جان سکتے ہیں کہ وہاں کے لوگوں کے رجحانات میں کیا تبدیلیاں آرہی ہیں۔

ذیل میں ہم ان کی تازہ ترین رپورٹ )جو ۲۰۱۰ء میں کئے گئے سروے کے نتائج پر مشتمل ہے( میں سے کچھ دلچسپ انکشافات پیش کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ سروے لگ بھگ چار ہزار قبائلی لوگوں سے کیا گیا اور اس میں عورتوں اور مردوں سے سوالات کئے گئے۔ یہ سروے وفاقی حکومت کے زیر انتظام علاقوں(FATA) میں بھی کیا گیا اور صوبائی حکومت کے زیر انتظام علاقوں(PATA) میں بھی۔ کیمپ کی اپنی ویب سائٹ پر اس سروے کی مزید تفصیلات دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان کے دفتر سے سروے رپورٹس مفت حاصل کی جاسکتی ہیں۔ یہ رپورٹس پشتو، اردو اور انگریزی زبانوں میں دستیاب ہیں۔

فاٹا کا مستقبل

فاٹا کے لوگوں کے بارے میں پاکستان میں عام خیال یہ پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے انداز کے مطابق زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں اور جیسے ہیں خوش ہیں یا یہ کہ وہ اپنے علاقے میں موجود نظام حکومت میں کوئی تبدیلی نہیں چاہتے۔ تاہم کیمپ کے سروے میں جو باتیں سامنے آئیں وہ کچھ یوں ہیں:

  • 31 فیصد لوگ صوبہ خیبر پختون خواہ میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔
  • 25 فیصد لوگ قبائلی علاقوں کو الگ صوبہ بنائے جانے کے حق میں ہیں۔
  • صرف 8 فیصد لوگ ایسے ہیں جو موجودہ نظام میں کوئی تبدیلی نہیں چاہتے۔

ایف سی آر کے بارے میں قبائلی لوگوں کی رائے

ایف سی آر (فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز) انگریزوں کا بنایا قانون ہے جوآزادی کے بعد چونسٹھ سال گزرنے کے باوجود ختم نہیں کیا گیا۔ اس قانون کے بارے میں قبائلی لوگوں کی رائے کچھ یوں ہے:

  •  46فیصد لوگ اس قانون کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں
  • 26 فیصد لوگ اس میں بنیادی اصلاحات کے حامی ہیں

یوں لگ بھگ ستر فیصد لوگ اس قانون کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ یہاں یہ بات بتانا ضروری ہے کہ موجودہ حکومت نے چودہ اگست ۲۰۱۱ء کو اس قانون میں بنیادی اصلاحات کر دی ہیں۔ اس بارے میں اسی بلاگ میں دیکھئے …..

سیاسی سرگرمیوں کی اجازت

لگ بھگ ساٹھ فیصد لوگ یہ چاہتے تھے کہ قبائلی علاقوں میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔ یہ ذہن میں رکھئے کہ قبائلی علاقوں میں سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ تاہم حال ہی میں موجودہ حکومت نے قبائلی علاقوں میں سیاسی سر گرمیوں کی اجازت بھی دے دی ہے۔

قبائلی لوگ کس پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں

یہ سوال تینوں سالوں میں کئے گئے سروے میں پوچھا گیا اور تینوں سالوں میں ملنے والے جوابات کا تقابلی جائزہ ایک دلچسپ صورت حال پیش کرتا ہے۔ قبائلی لوگ سب سے زیادہ بھروسہ ملاؤں یا مذہبی رہنماؤں پر کرتے ہیں۔ تاہم سروے کے تنائج یہ بتاتے ہیں کہ ۲۰۰۸ میں لگ بھگ 69 فیصد لوگ ملاؤں پر بھروسہ کرتے تھے جو ۲۰۱۰ میں کم ہو کر صرف 15 فیصد رہ گئے۔ دوسری طرف پاکستان فوج پر بھروسہ کرنے والوں کی شرح ۲۰۰۹ میں ایک فیصد سے بھی کم تھی جو ۲۰۱۰ میں بڑھ کر 20 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح ایف سی پر بھروسہ کرنے والوں کی شرح بھی ۲۰۰۹ میں ایک فیصد سے بھی کم تھی جو ۲۰۱۰ میں بڑھ کر 8 فیصد ہو گئی۔ قبائلی بزرگوں پر بھروسے کی شرح ۲۰۰۹ میں ۲ فیصد تھی جو ۲۰۱۰ میں بڑھ کر 10 فیصد ہو گئی۔

فاٹا کے بڑے مسئلے کیا ہیں

عام خیال یہ ہے کہ فاٹا کے لوگوں کو تعلیم سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور وہ اپنی بندوقوں اور سمگلنگ کے کام میں خوش ہیں۔ تاہم موجودہ حالات میں جب کہ تقریباً ہر ایجنسی میں فوجی آپریشن جاری ہےلوگوں نے اپنا سب سے بڑا مسئلہ تعلیم کو بیان کیا۔لوگوں نے تعلیم کی کمی کو صحت کی سہولیات کی کمی ، امن و امان اور انصاف سے بھی بڑا مسئلہ بتایا ہے۔

فاٹا میں رہنا

۲۰۰۹ میں صرف26 فیصد لوگ فاٹا میں رہنے کو ترجیح دے رہے تھے تاہم ۲۰۱۰ میں لگ بھگ 56 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ فاٹا ہی میں رہنا پسند کریں گے۔ یہ شرح اس بات کی دلیل ہے کہ فاٹا میں صورت حال بہتر ہو رہی ہے۔ اسی طرح جب یہی سوال کچھ دیر بعد یوں دہرایا گیا کہ کیا آپ کسی اور علاقےمیں رہائش اختیار کرنا پسند کریں گے تو لگ بھگ 58فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ کسی اور علاقے میں رہائش اختیار کرنا پسند نہیں کریں گے۔

فاٹا میں محفوظ ہیں

لگ بھگ 60 فیصدلوگوں کا خیال ہے کہ وہ قبائلی علاقوں میں محفوظ ہیں۔ اس طرح امن و امان کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے تقریباً 51 فیصد لوگوں نےکہا کہ صورت حال بہتر ہوئی ہے۔ تاہم 32فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ کوئی فرق نہیں پڑا۔

خطرہ کس کس سے ہے؟

سارے پاکستان میں یہ ڈرون حملوں کے حوالےسے بہت شور ہے۔ مگر قبائلی علاقوں کے لوگوں کی بڑی تعداد دہشت گرد تنظیموں کو بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔

  • 41 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں سب سے بڑا خطرہ ہیں
  • 15 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ قبائلی جھگڑوں سے ان کی زندگی کو خطرہ ہے۔
  • 14 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات سے ان کو خطرہ محسوس ہو تا ہے۔
  • 9 فیصد لوگوں کو ڈرون حملوں سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
  • 9 فیصد لوگوں کو پاک فوج کی کارروائیوں سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔

خود کش حملہ آور کہاں سے آتے ہیں؟

قبائلی لوگوں کے خیال میں خود کش حملہ آور ہندوستان اور افغانستان سے آتے ہیں۔ ۲۰۰۸ اور ۲۰۰۹ میں لگ بھگ 15 فیصد لوگوں کا خیال تھا کہ خود کش حملہ آور افغانستان سے آتے ہیں۔ ۲۰۱۰ میں 21 فیصد قبائلیوں کا خیال تھا کہ یہ حملہ آور افغانستان سے آتے ہیں۔۲۰۰۸ اور ۲۰۰۹ میں 7 فیصد لوگوں کا خیال تھا کہ خود کش حملہ آور ہندوستان سے آتے ہیں۔ ۲۰۱۰ میں یہ شرح بڑھ کر 29 فیصد ہو گئی۔

 طالبان کون ہیں؟

اس سوال کا جواب یوں ملا

  • 27 فیصد لوگوں کے خیال میں طالبان شرپسند عناصر ہیں
  • 24 فیصد لوگوں کے خیال میں طالبان جاہل لوگ ہیں
  • 18 فیصد لوگوں کے خیال میں طالبان غیر ملکی جنگجو ہیں
  • 5 فیصد لوگوں کے خیال میں طالبان اسلام کے محافظ ہیں
  • 1 فیصد لوگوں کے خیال میں طالبان آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں

اسی طرح تقریباً 73 فیصد قبائلی لوگ القاعدہ کو اچھا نہیں سمجھتے۔

قبائلی علاقوں میں مقیم غیر ملکی جہادیوں کا کیا کریں؟

عام خیال یہ ہے کہ غیر ملکی جہادیوں کو پختون قبائلی اپنا مہمان سمجھتے ہیں۔اور ان کو وہاں سے نکالنے کے سخت خلاف ہیں۔ لیکن یہ سروے رپورٹ بتاتی ہے کہ لگ بھگ 68 فیصد لوگ ان جہادیوں کو نکالنے کے حق میں ہیں۔

  • 25 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں قبائلی علاقوں سے نکال دینا چاہئے۔
  • 43 فیصد لوگوں کا خیال ہےکہ انہیں پاک فوج زبردستی قبائلی علاقوں سے بے دخل کر دے۔
  • 11 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ اگر وہ شر پسندی چھوڑنے کا عہد کریں تو پھر انہیں قبائلی علاقوں میں رہنےکی اجازت دے دی جائے۔
  • 3 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں قبائلی علاقوں میں رہنے دیا جائے۔

افغان مہاجرین کا کیا کریں؟

89 فیصد لوگ چاہتے ہیں کہ افغان مہاجرین واپس چلے جائیں۔

Advertisements

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s