ہم اپنے بچوں کو نہیں پڑھاتے…محمد بن قاسم سندھ فتح کرکے کہاں گیا؟
محمد بن قاسم کے حوالے سے ہماری درسی کتابیں ہمیں بار بار یہ تو بتاتی ہیں کہ اُس نے سترہ سال کی چھوٹی سی عمر میں فوجی جرنیل کا عہدہ سنبھال کر سندھ پر حملہ کیا اور بڑی مہارت سے دیبل سے لے کر ملتان تک کا علاقہ تھوڑے سے عرصے میں فتح کر لیا۔ تاہم یہ کتابیں اس حوالے سے مکمل طور پر خاموش ہیں کہ محمد بن قاسم سندھ فتح کرنے کے بعد کہاں گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے طلباء/نوجوانوں کو بھی میں نے کبھی یہ سوال اٹھاتے نہیں سنا۔ حالانکہ فطری سی بات ہے کہ بندے کو یہ تجسس پیدا ہوتا ہے کہ آخر جس نوجوان نے سترہ سال کی عمر میں سندھ فتح کر لیا اُس نے باقی کی زندگی کیسے گزاری۔ کسی مشہور شخص کی پیدائش کا احوال معلوم نہ ہونا تو اتنی حیرت کی بات نہیں۔ لیکن اگر کسی شخص نے چھوٹی سی عمر میں اتنا بڑا کارنامہ انجام دیا ہو تو اس کی موت کے حوالے سے کتابوں میں کوئی ذکر نہ ملنا یقیناً حیرت کی بات ہے۔
اسی تجسس نے لالاجی کو بے چین کر دیا اور لالا جی نے اس معاملے کو کریدنا شروع کر دیا۔ اس کے نتیجے میں جو چند باتیں مختلف ذرائع سے سامنے آئیں وہ پیش خدمت ہیں:
پہلی بات تو یہ ہے کہ محمد بن قاسم سندھ کی فتح کے بعد کچھ زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہا۔ سترہ سال کی عمر میں سندھ پر حملہ کرنے نکلا۔ اُس زمانے میں سفر کی مشکلات اور طوالت کو سامنے رکھئے، پھر دیبل (موجودہ کراچی کے آس پاس کوئی جگہ) سے لیکر ملتان تک کی فتوحات میں لگ بھگ تین سال لگ گئے۔ تقریباً سارے ہی مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ محمد بن قاسم کی وفات بیس (۲۰) سال کی عمر میں ہوئی۔
دوسری بات یہ ہے کہ محمد بن قاسم کی موت میدانِ جنگ میں لڑتے ہوئے نہیں ہوئی۔ نہ ہی کسی بیماری کی وجہ سے ہوئی۔ اگرچہ مورخٰین موت کے حوالے سے کوئی متفقہ فیصلہ نہیں دیتے تاہم اس بات پر سب متفق ہیں کہ محمد بن قاسم کی موت اپنے ہی حاکم کی طرف سے دی گئی سزا کے نتیجے میں واقع ہوئی۔
موت کیسے ہوئی ، حاکم کیوں ناراض ہوا، کیا سزا سنائی گئی…ان باتوں پر مورخین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ محمد بن قاسم کی موت کے حوالے سے دو بیانات ملتے ہیں:
1) چھچھ نامہ سندھ کی تاریخ پر پہلی باقاعدہ کتاب سمجھی جاتی ہے۔ چھچھ نامہ میں محمد بن قاسم کے سندھ پر حملے اور سندھ کے مختلف شہروں کے محاصرے، جنگوں اور فتوحات کی تفصیلات درج ہیں۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ اس کتاب کے مطابق محمد بن قاسم نے راجہ داہر کی موت اور اس کی فوج کو شکست دینے کے بعد مسلمانوں کے دستور کے مطابق مالِ غینمت اور راجہ کی بیوی اور بیٹیوں کو اپنے حاکم حجاج بن یوسف کو بھجوا دیا۔ راجہ داہر کی بیٹیوں نے حجاج بن یوسف سے جھوٹ بولا کہ وہ خلیفہ کے لائق نہیں کیوں کہ محمد بن قاسم نے انہیں پہلے ہی استعمال کر لیا تھا۔ اس بات پر حجاج بہت ناراض ہوا اور حکم دیا کہ محمد بن قاسم کو بیل کی کھال میں بند کر کے واپس لے آؤ۔ اس کے حکم پر عمل کیا گیا تاہم بیل کی کھال میں دم گھُٹنے سے محمد بن قاسم کی راستے ہی میں موت واقع ہو گئی۔ بعد میں حجاج کو راجہ داہر کی بیٹیوں کا جھوٹ معلوم ہو گیا۔ انہوں نے محمد بن قاسم سے اپنے باپ کی موت کا بدلہ لینے کے لئے یہ جھوٹ بولا تھا۔ حجاج نے ان لڑکیوں کو زندہ دیوار میں چنوا دیا۔
2) أحمد بن يحيى بن جابر البلاذري ایک مسلمان مورخ ہے جو خلیفہ المتوکل کے دربار تک رسائی رکھتا تھا۔ اس نے مسلمانوں کے ابتدائی دور کی تاریخ کو قلم بند کیا ہے۔ البلاذري نے ایک کتاب لکھی تھی فتوح البلدان کے نام سے جس کا انگریزی ترجمہ فلپ کے ہِٹی(Philip K Hitti) نے ‘The Origins of the Islamic State’کے نام سے کیا ہے۔ البلاذري کے مطابق714ء میں حجاج کی موت کے بعد اُس کے بھائی سلیمان بن عبدالمالک نے حکومت سنبھالی۔ وہ حجاج بن یوسف کو سخت ناپسند کرتا تھا۔ اُس نے عنان حکومت سنبھالتے ہی حجاج کے منظورِنظر افراد کو قید کروا دیا۔ محمد بن قاسم بھی حجاج بن یوسف کے پسندیدہ افراد میں گنا جاتا تھا(یاد رہے کہ محمد بن قاسم حجاج بن یوسف کا داماد بھی تھا اور بعض مورخین کا خیال ہے کہ بھانجا بھی تھا)۔ چنانچہ محمد بن قاسم کو بھی قید کر دیا گیا۔ قید کے دوران میں ہونے والے تشدد کے نتیجے میں محمد بن قاسم کی موت واقع ہو گئی۔
محمد بن قاسم کی موت کے حوالے سے یہ باتیں قوم کے نونہالوں سے چھپا کر ہمارا محکمہ تعلیم کیا حاصل کرنا چاہتا ہے اس کا تو پتہ نہیں۔ تاہم اپنے ماضی کے ناپسندیدہ واقعات کو چھُپایا تو جا سکتا ہے، مٹایا نہیں جا سکتا۔ جو قوم اپنی تاریخ سے پوری طرح آگاہ نہیں ہوتی، وہ کبھی بھی پورے اعتماد سے دوسری قوموں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار نہیں کر سکتی۔

humen apny mulk say bachon ko nhy parhany waly jehalat nikane hoge or aapna educational envorment ko pehly sudharna ho ga
sallam Lalla g Welldone
آپ کی بات سے میں اتفات کر تا ہوں۔اکثر مورخین نے یہی بات تحریر کیا ہے۔ واقہ بھی نصاب میں شامل کر نا چا ہئے۔ وہ ایک جنگ جو تھا۔اس سے زیادہ اور اس کی کیا حیثت تھی ظلم بھی بہت کیا تھا آخر بدلہ بھی ھونا تھا میرے بھائی۔وہ اس دور کے سندھ کے راجہ کی بیٹیاں تھی ایک کا نام ، سورج دیوی، اور دوسری کا نام ،دیول دیوی ،
In Quran it is said that there will always be different tribes, different religions and so on and so forth – I fail to understand why are we in Pakistan so obssessed with converting everyone to a muslim. Furthermore, the muslims we have in Pakistan are killing each other all the time – what is the logic? Please highlight that!
hmmm.. am gonna write something on Two-Nation Theory… but so far I could not do that… let us hope I will have the time, courage and the wisdom to write a good blog on it.
ہم نے اپنے بچوں کو سیرت نبوی مکمل نہیں پڑھائی (نصاب میں(
آگے کیا خاک پڑھائی ہو؟
ہاں یہ ضرور ہے کہ مکمل انگریزی تعلیم ضرور دیتے ہیں
چاہے نماز روزے کے فرائض ،واجبات و سنتوں اور زکوٰۃ کا نصاب کا علم ہو یا نہ ہو
Lala Ji, I have another version of the story of the death of Muhammad Bin Qasim. This version is not widely known by Pakistani people, but there are very strong reasons to believe in this version of the story. Everyone knows the enmity and grudge Hajjaj bin Yousaf had for the Aal-e-Rasool (progeny of the Holy Prophet) since he was the most brutal ruler in the whole Umayyad family. After the incident of Karbala, daughters of Hazrat Ali came to Hind (Sindh) and spread Islam around and finally settled near the Multan area. By the time Muhammad Bin Qasim was sent to officially conquer Sindh, the daughters of Hazrat Ali had gained a great fan following among the locals. People were embracing Islam in hoards. After the conquest of Sindh, when Muhammad Bin Qasim reached the Multan area, he reported to Hajjaj that how much famous and renowned the daughters of Hazrat Ali were among the already Muslim local community in the Multan area. Hajjaj on getting to know this fact became furious and ordered Muhammad bin Qasim to kill the daughters of Hazrat Ali. Muhammad bin Qasim went to fulfil the orders of his master but couldn’t help but become a disciple of the school of Ahl-e-bait. Hajjaj when came to know about this fact that his nephew and son-in-law had become a disciple of the daughters of Hazrat Ali, he immediately called him to report back to Hijaz. On reaching Hijaz, this great man, Muhammad bin Qasim was killed by his own Uncle i.e. Hajjaj Bin Yousaf. The daughters of Hazrat Ali later moved to the area of Lahore where there mausoleum also exists and is known as Bibiaan Paak Daaman (near Police Lines, Shimla Pahari). Another point which needs our attention is the fact that Mohammad Bin Qasim wasn’t sent to spread Islam in the subcontinent. Islam had already reached in Sindh during the khilafat of Hazrat Ali, which is evident from the fact that Hazrat Zain-ul-abideen (son of Hazrat Imam Hussain) had a sindhi wife and Hazrat Zaid shaheed was from the same sindhi wife. The real objective was merely to expand the so-called Islamic caliphate, and not to spread Islam, which is the biggest misconception in this whole story. the spreading of Islam was being done by the daughters of Hazrat Ali in that era