نابالغ انقلاب۔۔۔۔از خانزادہ


hope-imran-knonie

نابالغ انقلاب

(۱)

تحریک ِ انصاف کے جلسے میں شرکت کے بعد میرا ایک دوست آیا تو اُسکے چہرے پر مُسرت اور دُکھ کی ملی جُلی کیفیات تھیں۔ کہہ رہا تھا کہ بڑی مخلوق آئی تھی جلسے میں۔ لگتا ہے کہ اس شہر میں تو اور کسی پارٹی کو ووٹ ہی نہیں پڑے گا۔ میں نے اُس سے کہا کہ اس شہر میں لوگوں کو اکھٹا ہونے کیلئے بہانہ چاہیئے ہوتا ہے۔ سارے لوگ تھوڑاہی ایک پارٹی کو ووٹ دیں گے۔ کُچھ لوگ ہر پارٹی کے جلسے میں جاتے ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ وہ اسی پارٹی کے ووٹر بھی ہوں۔ سختی سے انکار کرتے ہوئے بولا، ” ہرگزنہیں۔ ہر بندہ موجودہ کرپٹ نظام اورچور حکمرانوں سے تنگ آیا ہوا ہے اس لئے سارے لوگ تبدیلی کی خواہش لیکرآئے تھے۔ چہرے بتائے دے رہے تھے کہ وہ عمران خان کی ایک جھلک دیکھنے آئے ہیں، تبدیلی کی نوید لینے آئے ہیں۔” میں نے بات بدلتے ہوئے پُوچھا ” چھوڑو یہ بحث۔ یہ بتاؤ تُم پریشان سے لگتے ہو۔ خیر تو ہے؟” اچانک اس کا چہرہ بُجھ سا گیا۔ کہا، “ہاں یار جلسے میں کسی نے میری جیب میں سے موبائل نکال لیا”۔ میں نے طنزا کہا، “کرپٹ اور چور حکمرانوں سے تنگ آنے والے کسی انقلابی نے نکالا ہوگا”۔ بولا، “نہیں یار، جلسے میں سارے انقلابی تھوڑی آتے ہیں۔” اور پھرکچھ سوچنے کے بعد کھسیا کرچلا گیا۔

(۲)

مارچ کے وسط میں مُجھے اپنا پاسپورٹ ری- نیو کرانا تھا۔ میں نیشنل بینک پہنچا تو پتا چلا کہ بینک والوں کے پاس فیس جمع کرنے والا چالان/رسید ہی نہیں ہے۔ پُوچھنے پر بتایاگیا کہ ختم ہوگئے ہیں اور قریبی دُکاندار سے تیس روپے کے عوض دستیاب ہیں (بینک کی رسیدیں دُکاندار کے پاس کہاں سے آگئیں؟ ظاہر ہے کہ بینک والے دکاندارکی ملی بھگت سے عوام کولّوٹ رہے تھے)۔ میں نے بینک والوں سے اپنا تعارف ایک سرکاری ادارے کے افسر کی حیثیت سے کرایا تو پریشان ہوکر کھڑے گئے۔ میں نے اُنہیں ایک لمبا سارا لیکچر دیا جسے اُنہوں نے شرمندگی سے سر جُھکائے سُن لیا۔ چاروناچار مُجھے اُسی دکاندار سے چالان لینا پڑا کیونکہ پاسپورٹ آفس ایک گھنٹے بعد بند ہونا تھا۔ فیس جمع کرکے بینک سے نکلتے ہوئے مجھے کوئی خیال آیا۔ واپس گیا اور کاؤنٹر پر جاکر سب کو مُخاطب کرکے کہا، “خبردار جو آئندہ کسی نے چائے پر گپ شپ کرتے ہوئے زرداری کو کرپٹ کہا۔”

(۳)

مردان سے پنڈی آنے والی ہائی ایس پر کنڈیکٹر نے ڈیڑھ گُنا کرایہ طلب کیا تو ایک یونیورسٹی سٹوڈنٹ نے انکار کردیا۔ کنڈیکٹر کا کہنا تھا کہ سی این جی والوں کے بائیکاٹ کے بعد اُنہیں پٹرول مہنگا پڑتا ہے، چُنانچہ زیادہ کرایہ لینا اُنکی مجبوری ہے۔ سٹوڈنٹ کا کہنا تھا کہ چونکہ کرائے ڈیزل کے ریٹ کے حساب سے طے ہوتے ہیں لہٰذا سی این جی اور پٹرول دونوں غیر متعلقہ چیزیں ہیں۔ قصہ مختصر، ڈرائیور اور کنڈیکٹر نے مطلُوبہ کرایہ نہ دینے والوں سے اُترنے کا مطالبہ کردیا۔ مُجھ سمیت پانچ افراد اس شرط پر تیار ہوگئے کہ ہمیں واپس اڈے پر پہنچادیا جائے۔ ڈرائیور اور کنڈیکٹر راضی ہوئے ہی تھے کہ اگلی نشست پر بیٹھے ہوئے ایک مُعمر شخص نے داڑھی چباتے ہوئے “پڑھے لکھے” لوگوں کو کوسنا شروع کردیا۔ پتا یہ چلا کہ حضرت کوپنڈی پہنچنے کی جلدی ہے اورہماری “خوامخواہ کی تکرار” سے اُنکا ٹائم ضائع ہورہا ہے۔ اُن کیساتھ بیٹھی ہوئی خاتون نے بھی حسبِ توفیق ہمیں کوسنوں سے نوازدیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ باقی سارے لوگ ‘الخاموشی،نیم رضا’ کے مصداق راضی برضائے کنڈیکٹر ہوگئے سوائے میرے اور اُس یونیورسٹی سٹوڈنٹ کے۔ ہم دونوں بھی بادلِ ناخواستہ بیٹھ گئے۔ دھیان بدلنے کیلئے اخبار کھولا تو پہلے ہی صفحے پرڈرون حملے کی خبر تھی۔ چند لمحوں میں یہی ڈرون حملہ سب کی زبان پرتھا۔ اچانک اگلی نشست سے آواز اُبھری “بھائیو! ہمارے حکمران بے غیرت ہیں، ورنہ خُدا کے فضل سے ہم کسی امریکہ وغیرہ سے نہیں ڈرتے۔ اگر ہمارے حکمران چاہیں توہماری فوج لمحوں میں گرا مارے ان ڈرونوں کو؟”

اس سے پہلے کہ کوئی اور جوابی تبصرہ آتا، یونیورسٹی سٹُوڈنٹ نے جلے کٹے لہجے میں کہا، “چاچا جو قوم نہتے کنڈیکٹر کے سامنے کھڑی نہیں ہوسکتی، وہ اپنے لیڈروں سے سُپر پاور کے سامنے کھڑا ہونے کا مطالبہ کرتی اچھی نہیں لگتی”۔

پنڈی پہنچنے تک چاچا کی آواز نہیں آئی۔

اسلامی اُصول….از خانزادہ


ہمارے مولوی (بشمُول اُنکے جنہیں ہماری اکثریت عُلماء سمجھتی ہے) اگرچہ مدرسہ سے حاصل کئے گئے “علم” کو ہی اصل علم مانتے ہیں لیکن ان مدارس کے نصاب اور طرزِ تعلیم میں تحقیق، مشاہدے، تجزیے اور منطقی استنباط کا ایسا فقدان ہوتا ہے کہ اگر آپ مختلف مسائل پرانکی رائے طلب کریں توآگے سے ایک مبہم سا جواب ملے گا۔ چونکہ مذہبی طرز تعلیم میں سوالات پُوچھے جانے کا رواج کم اور رٹہ لگانے کی عادت زیادہ ہوتی ہے، لہٰذا آپ مزید تشریح طلب کریں، کوئی ضمنی سوال کریں تو جواب ملنے کے امکانات کم اور اِنکے سیخ پا ہونے کے زیادہ ہوتے ہیں۔ کُچھ نُمائندہ سوالات پیشِ خدمت ہیں جن کے جواب عمُوما” عُلماء اور مُلاوں سے کم وبیش ایسے ہی ملتے ہیں۔

سوال: دہشت گردی اس مُلک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے سے کیسے نمٹا جائے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: فرقہ واریت کے عفریت نے اس وقت مُلک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ مُسلمان مُسلمان کو مار رہا ہے۔ آپ لوگ اس سلسلے میں کیا کردار ادا کرسکتے ہیں؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: اس وقت دُنیا بھر میں مسلمانوں کا امیج تباہ ہوکر رہ گیا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے اس میں ہمارا بھی کوئی قصور ہے یا محض ہمیں بدنام کرنے کی کوشش ہو رہی ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: آپ کے خیال میں خُودکش حملوں کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: معیشت کی حالت بھی دگرگوں ہے۔ روپیہ کی قدر مسلسل گِر رہی ہے۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں ہمارے معاشی نظام میں خرابی کہاں ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

 سوال: اگلے ہفتے ایڈز کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ آپ کا اس بڑھتے ہوئے مسئلے کے بارے میں کیا خیال ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال:آپ ویلنٹائن ڈے کی مُخالفت کیوں کرتے ہیں؟ کیا مُحبت ایک غیر فطری یا نا جائز جذبہ ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: کونسے ایسے اسلامی اُصول ہیں کہ جن پر عمل پیرا ہوکر آج کا مُسلمان مسائل کے گرداب سے نکل سکے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل خُود بخُود ختم ہوجائیں گے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور یہی دُنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت بھی ہے ۔ ۔ ۔

سوال: وہ تو ٹھیک ہے لیکن کیا آپ وضاحت کریں گے کہ کونسے اُصول ایسے ہیں جن کی بدولت ہمارے مسائل کا حل ممکن ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور قُرآن و احادیث پر پُوری طرح عمل پیرا ہوں تو یہ مسائل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سوال: جناب میں آپکی بات سے سو فیصدی مُتفق ہوں لیکن کیا آپ اُن اُصولوں کی نشاندہی کرنا مناسب سمجھیں گے؟

جواب: آپ لوگوں کا یہی مسئلہ ہے، پُوری بات سُننے سے پہلے ہی قطع کلامی کرتے ہیں۔ میں کہہ رہاتھا کہ اگر ہم اسلامی اُصولوں کو اپنی زندگی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سوال: ٹھیک ہے مولانا صاحب ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن وہ اُصول توبتائیں ہمیں۔

جواب: کیا مطلب؟ آپ کو یہی نہیں پتا کہ اسلامی اُصول کونسے ہیں یا آپ کا خیال ہے کہ ایسے کوئی اُصول ہیں ہی نہیں؟ لا حول ولا قوۃ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھیں سب سے پہلے تو آپ اپنے ایمان کی تجدید کریں ۔ ۔ ۔

سوال: مولانا صاحب، میرا ایمان بالکل سلامت ہے۔ میرا آپ سے سوال یہ تھا کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جواب: چھوڑیں یہ دُنیا وی سوالات۔ اُن سوالات کی فکر کریں جن کا جواب آپ نے عالمِ برزخ میں دینا ہے۔ پڑھیں ۔ ۔ ۔ اٰمَنتُ بِاللہِ کَمَا ھُوَ۔ ۔ ۔ ۔

سوال: مولانا صاحب میرا ایمان بالکل پُختہ ہے، میرا سوال صرف اِتنا تھا کہ ۔ ۔ ۔ ۔

جواب: میں کسی ایسے شخص کے سوال کا جواب دینا مُناسب نہیں سمجھتا جو دینِ اسلام کی جامعیت اور اکملیت پر یقین نہ رکھتا ہو۔ آپ جیسے کمزور ایمان کے حامل لوگوں کیوجہ سے آج اُمت اس مقام پر ہے۔ انگریزی تعلیم نے آپ کواسلامی اُصول تک بُھلادیے ہیں۔ اور وہ مدارس جو اسلامی علوم اور دینی آگہی کا منبع ہیں، اُن کو بدنام کرنے کی سازشیں کرتے ہیں۔ لعنت ہو ایسی تعلیم پر۔ تُف ہے تم لوگوں کی عقل پر۔

پاکستان کی تاریخ…از حسیب آصف


یہ تحریر حسیب آصف کی لکھی ہوئی ہے اور پہلے قافلہ نامی ایک ویب سائٹ پر رومن اردو میں شائع ہوئی۔ تحریر کی دلچسپی اور پاکستان میں بچوں کوتاریخ کے نام پر جو خرافات پڑھائی جاتی ہیں  پر خوبصورت طنزیہ انداز کی وجہ سے بہت اہم بھی ہے، سو لالاجی نے اسے یہاں اردو رسم الخط میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔ خانزادہ نے اس تحریر کو اردو رسم الخط میں ٹائپ کردیا۔ یوں یہ عمدہ تحریر آپ تک پہنچ رہی ہے۔ اس تحریر کو پڑھتے ہوئے ہمیں تو ابنِ انشاء کی اردو کی آخری کتاب بہت یاد آئی۔ تحریر کا اصل متن رومن اردو میں پرھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تاریخ ہندوستان سے بہت پرانی ہے۔ بلکہ اسلام سے بھی پُرانی ہے۔ جب آٹھویں صدی میں محمد بن قاسم اسلام پھیلانے بر صغیر تشریف لائے تو یہ جان کر شرمندہ ہوئے کہ یہاں تو پہلے ہی اسلامی ریاست موجود ہے۔7299

یہاں کفر کا جنم تو ہوا جلال الدین اکبر کے دور میں جو اسلام کو جھٹلا کر اپنا مذہب بنانے کو چل دیا۔ شاید اللہ اکبر کے لغوی معنی لے گیا تھا۔بہرحال، ان کافروں نے بُت پرستی اور مے کشی جیسے غیر مہذب کام شروع کردئے اور اپنے آپ کو ہندو بُلانے لگے۔ شراب کی آمد سے پاکستان کے مسلمانوں کی وہ طاقت نہ رہی جو تاریخ کے تسلسل سے ہونی چاہیئے تھی۔ اسکی وجہ یہ نہیں تھی کہ مسلمان شراب پینے لگے تھے بلکہ یہ کہ اُنکی ساری قوتِ نفس شراب کو نہ پینے میں وقف ہوجاتی تھی۔ حکمرانی کیلئے بچتا ہی کیا تھا؟

اسکے باوجود مسلمانوں نے مزید دو سو سال پاکستان پر راج کیا، پھر کچھ دنوں کے لئے انگریزوں کی حکومت آگئی (ہماری تفتیش کے مطابق یہ کوئی چالیس ہزار دن ہونگے)۔

سنہء 1900 تک پاکستان کے مسلمانوں کی حالت ناساز ہوچکی تھی۔ اس دوران ایک اہم شخصیت ہماری خدمت میں حاضر ہوئی جس کا نام علا مہ اقبال تھا۔

اقبال نے ہمیں دو قومی نظریہ دیا۔ یہ ان سے پہلے سید احمد خان نے بھی دیا تھا مگر اِنہوں نے زیادہ دیا۔ اس نظریے کے مطابق پاکستان میں دو فرق (مختلف) قومیں موجود تھی، ایک حُکمرانی کے لائق مسلمان قوم اور ایک غلامی کے لائق ہندو قوم۔ ان دونوں کا آپس میں سمجھوتہ ممکن نہیں تھا۔

سید احمد خان نے بھی مسلمانوں کے لئے انتھک محنت کی مگر بیچ میں انگریز کے سامنے سر جھکا کر ‘سر’ کا خطاب لے لیا۔ انگریزی تعلیم کی واہ واہ کرنے لگے۔بھلا انگریزی سیکھنے سے کسی کو کیا فائدہ تھا؟ ہر ضروری چیز تو اردو میں تھی۔ غالب کی شاعری اردو میں تھی، مراءۃ العروس اردو میں تھی۔ قرآن مجید کا ترجمہ اردو میں تھا۔

انگریزی میں کیا تھا؟ اردو لغت بھی انگریزی سے بڑی تھی۔ اور پرانی بھی۔ صحابہِ کرام اردو بولتے تھے، اور نبی کریم خود بھی۔ آپ نے اکثر حدیث سنی ہوگی: “دین میں کوئی جبر نہیں”۔ یہ اردو نہیں تو کیا ہے؟

بہر حال اقبال سے متاثر ہوکر ایک گجراتی بیرسٹر نے انگریزوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی تحریک شروع کردی۔ اس تحریک کا قوم نے جوش اور ولولے کیساتھ استقبال کیا۔

اس بیرسٹر کا نام محمد علی جناح عُرف قائداعظم تھا۔ اُنہوں نے پاکستان سے عام تعلیم حاصل کرنے کے بعد برطانیہ سے اعلٰی تعلیم حاصل کی اور بیرسٹر بن گئے۔

قائداعظم کو بھی ‘سر’ کا خطاب پیش کیا گیا تھا بلکہ ملکہِ برطانیہ تو کہنے لگی کہ اب سے آپ ہمارے ملک میں رہیں گے، بلکہ ہمارے محل میں رہیں گے اور ہم کہیں کرائے پر گھر لے لیں گے۔ مگر قائداعظم کی سانسیں تو پاکستان سے وابستہ تھیں۔ وہ اپنے ملک کو کیسے نظر انداز کرسکتے تھے؟

Gandhi_and_Nehru_1942

نہرو اور گاندھی

ساتھ ایک نہرو نامی ہندو اقبال کے دو قومی نظریے کا غلط مطلب نکال بیٹھا تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ نہرو بچپن ہی سے  علیحدگی پسند تھا۔ گھر میں علیحدہ رہتاتھا، کھانا علٰحدہ برتن میں کھاتا تھا اور اپنے کھلونے بھی باقی بچوں سے علیحدہ رکھتا تھا۔

نہرو کا قائداعظم کیساتھ ویسے ہی مقابلہ تھا۔ پڑھائی لکھائی میں، سیاست میں، محلے کی لڑکیاں تاڑنے میں۔ ظاہر ہے جیت ہمیشہ قائداعظم کی ہوتی تھی۔ لاء (قانون) کے پرچوں میں بھی اُنکے نہرو سے زیادہ نمبر آتے تھے۔ مرنے میں بھی پہل اُنہوں نے ہی کی۔

آزادی قریب تھی، مسلمانوں کا خواب سچا ہونے والا تھا۔ پھر نہرو نے اپنا پتا کھیلا۔ کہنے لگے کہ ہندؤوں کو الگ ملک چاہیئے۔ یہ صلہ دیا اُنہوں نے اس قوم کا جس نے انہیں جنم دیا، پال پوس کر بڑا کیا۔ ہماری بلی ہمیں ہی بھوؤ۔

نہرو کی سازش کے باعث جب 14 اگست 1947 کو انگریز یہاں سے لوٹ کر گئے تو پاکستان دو حصے کر گئے۔

علیحدگی کے فوراً بعد ہندوستان نے کشمیر پر قبضے کا اعلان کردیا۔ دونوں ملکوں کے پٹواری فیتے لیکر پہنچ گئے۔ ہمسایہ ممالک فطرت سے مجبور تماشہ دیکھنے پہنچ گئے۔ خُوب تُو تُو میں میں ہوئی، گولیاں چلیں، بہت سارے انسان زخمی ہوئے اور کچھ فوجی بھی۔

پھر ہندووں نے ایک اور بڑی سازش کی کہ پاکستان سے جاتے ہوئے ہمارے دو تین دریا بھی ساتھ لے گئے۔ یہ پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا کہ بھائی چاہئیں تو نہیں؟ کپڑے وغیرہ دھولئے؟ بھینسوں نے نہالیا؟

یہ معاملات ابھی تک نہیں سُلجھے اس لئے ان پرمزید بات کرنا بیکار ہے۔ تاریخ صرف وہ ہوتی ہے جو سُلجھ چکی ہو یا کم ازکم دفن ہو چکی ہو۔ جس طرح کہ قائداعظم آزادی کے دوسرے سال میں ہوگئے۔ وہ اُس سال ویسے ہی کچھ علیل تھے اور کیونکہ قوم کی بھرپور دُعائیں اُن کیساتھ تھیں اس لئے جلد ہی وفات پاگئے۔

Mohammed Ali Jinnah

جناح اور لیاقت علی خان

پھر آئے خواجہ ناظم الدین۔ اب نام کا ناظم ہو اور عہدے کا وزیر۔ یہ بات کس کو لُبھاتی ہے؟ اس لئے کچھ ہی عرصے میں گورنر جنرل غلام محمد نے انکی چُھٹی کرا دی۔جی ہاں۔ پاکستان میں اُس وقت صدر کی بجائے گورنر جنرل ہوتا تھا۔ آنے والے سالوں میں اختصار کی مناسبت سے یہ صرف جنرل رہ گیا، گورنر غائب ہوگیا۔ جنرل کا عہدہ پاکستان کا سب سے بڑا سیاسی عہدہ ہے۔ اسکے بعد کرنل، میجر وغیرہ آتے ہیں۔ آخر میں وزیر مُشیر آتے ہیں۔

پاکستان کی آزادی کے کئی سالوں تک کوئی ہمیں آئین نہ دے پایا۔ پھر جب سکندر مرزا نے آئین نافذ کیا تو اُس میں جرنیلوں کو اپنا مقام پسند نہیں آیا۔ چنانچہ آئین اور سکندر مرزا کو ایک ساتھ اُٹھاکر پھینک دیا گیا۔

فیلڈ مارشل ایوب خان نے حکومت سنبھال لی۔ لڑکھڑا رہی تھی، کسی نے تو سنبھالنی تھی۔ اس فیصلے کا قوم نے جوش اور ولولے کیساتھ استقبال کیا۔

ایوب خان جمہوریت کو  بے حال کرنے، ہمارا مطلب ہے، بحال کرنے آیا تھا۔ اصل میں جمہوریت قوم کی شرکت سے نہیں مضبوط ہوتی، عمارتوں اور دیواروں کی طرح سیمنٹ سے مضبوط ہوتی ہے۔ فوجی سیمنٹ سے! جی ہاں آپ بھی اپنی جمہوریت کے لئے فوجی سیمنٹ کا آج ہی انتخاب کریں۔ اس موقع پر شاعر نے کیا خوب کہا ہے، “فوجی سیمنٹ: پائیدار، لذت دار، علمدار۔”

ایوب خان نے اپنے دور میں کچھ مخولیا الیکشن کرائے تاکہ لوگ اچھی طرح ووٹ ڈالنا سیکھ لیں اور جب اصل الیکشنوں کی باری آئے تو کوئی غلطی نہ ہو۔ مگر جب 1970 کے الیکشن ہوئے تو لوگوں نے پھر غلطی کردی۔ ایک فتنے کو ووٹ ڈال دیے۔ اس پر آگے تفصیل میں بات ہوگی۔

ویسے ایوب خان کا دور ترقی کا دور بھی تھا۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ پاکستان کو منزلِ مقصود تک پہنچائیں گے۔ مقصود کون تھا اور کس منزل میں رہتا تھا، یہ ہم نہیں جانتے مگر اس اعلان کا قوم نے جوش اور ولولے سے استقبال کیا۔

1965 میں ہندوستان نے ہماری ملکیت میں دوبارہ ٹانگ اڑائی۔ جنگ کا بھی اعلان کردیا۔ لیکن بے ایمان ہونے کا پورا ثبوت دیا۔ ہمیں کشمیر کا کہہ کر خود لاہور پہنچ گئے۔ ہماری فوج وادیوں میں ٹھنڈ سے بے حال ہوگئی اور یہ اِدھر شالامار باغ کی سیریں کرتے رہے۔

اس دغابازی کے خلاف ایوب خان نے اقوامِ متحدہ کو شکایت لگائی۔ وہ خفا ہوئے اور ہندوستان کو ایک کونے میں ہاتھ اوپر کرکے کھڑے ہونے کی سزا ملی، جیسے کہ ملنی چاہیئے تھی۔ اس فیصلے کا بھی قوم نے جوش اور ولولے کیساتھ استقبال کیا۔

مگر ہندو ہو جو باز نہ آئے۔ 1971ء میں جب ہم سب کو علم ہوا کہ بنگالی بھی دراصل پاکستان کا حصہ ہیں تو ہندو اُدھر بھی حملہ آور ہوگئے۔

اب آپ خود بتائیں اتنی دور جا کر جنگ لڑنا کس کو بھاتا ہے؟ ہم نے چند ہزار فوجی بھیج دیے اتنا کہہ کر کہ اگر دل کرے تو لڑ لینا ویسے مجبوری کوئی نہیں ہے۔

مگر ہندووں کو خُلوص کون سکھائے۔ اُنہوں نے نہ صرف ہمارے فوجیوں کیساتھ بدتمیزی کی بلکہ اُنہیں کئی سال تک واپس بھی نہیں آنے دیا۔ بنگال بھی ہمارے سے جُدا کردیا اور تشدد کے سچے الزامات بھی لگائے۔ آخر سچا الزام جھوٹے الزام سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ وہ ثابت بھی ہوسکتاہے۔dictatorchart

اسکے بعد دنیا میں ہماری کافی بدنامی ہوئی۔ لوگ یہاں آنا پسند نہیں کرتے تھے۔ بلکہ ہمارے ہمسایہ ممالک بھی کسی دوسرے براعظم میں جگہ تلاش کرنے لگے کہ ان کے پاس تو رہنا ہی فضول ہے۔

ایسے موقعے پر ہمیں ایک مستقل مزاج اور دانشور لیڈر کی ضرورت تھی مگر ہماری نصیب میں ذوالفقار علی بھٹو تھا۔ جی ہاں، وہی فتنہ جس کا کچھ دیر پہلے ذکر ہوا تھا۔

بھٹو ایک چھوٹی سوچ کا چھوٹا آدمی تھا۔ اُسکے خیال میں مسلمانوں کی تقدیر روٹی، کپڑے اور مکان تک محدود تھی۔ اُس کے پاکستان میں محلوں اور تختوں اور شہنشاہی کہ جگہ نہیں تھی۔ ہماری اپنی تاریخ سے محروم کردینا چاہتا تھا ہمیں۔ بھٹو سے پہلے ہم روس سے استعمال شدہ ہتھیار مانگتے ہوتے تھے۔ بھٹو نے روس سے استعمال شدہ نظریہ بھی مانگ لیا۔ لیکن استعمال شدہ چیزیں کم ہی چلتی ہیں۔ نہ کبھی وہ ہتھیار چلے نہ نظریہ۔

تمام صنعت ضبط کرکے سرکاری کھاتے میں ڈال دی گئی۔ سرمایہ کاری کی خوب آتما رولی گئی، اس کو مجازی طور پر دفناکر اُس کی مجازی قبر پر مجازی مجرے کئے گئے۔ لوگوں سے انکی زمینیں چھین لی گئیں وہ زمینیں بھی جو انہوں نے کسی اور کے نام لکھوائی ہوئی تھیں۔ یہ ظلم نہیں تو کیا ہے؟ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے تشویشناک مرحلہ تھا۔ ایسے میں قومی سلامتی کے لئے آگے بڑھے حضرت جنرل ضیاءالحق (رحمۃ اللہ علیہ)۔

اُنہوں نے بھٹو سے حکومت چھین لی اور اُس پر قاتل اور ملک دشمن ہونے کے الزامات لگا دیے۔ضیاءالحق نے قانون کا احترام کرتے ہوئے بھٹو کو عدالت کا وقت ضائع نہیں کرنے دیا۔ بس الزام کے بناء پر ہی فیصلہ لے لیا اور بھٹو کو پھانسی دلوادی۔ اس حرکت کا قوم نے جوش اور ولولے کے ساتھ استقبال کیا۔

حضرت ضیاءالحق پاکستانیوں کیلئے ایک نمونہ تھے، ہمارا مطلب ہے، مثالی نمونہ۔ اُنہوں نے یہاں شریعت کا تعارف کرایا۔ حدود کے قوانین لگائے۔ نشہ بندی کرائی۔ اس اقدام کا قوم نے جوش اور ولولے کے ساتھ استقبال کیا۔

اُن کے دور میں ہماری فوج العظیم نے روس پر جنگی فتح حاصل کی۔ روس افغانستان میں جنگ لڑنے آیا تھا۔ اُس نے سوچا ہوگا کہ یہاں افغانیوں سے لڑائی ہوگی۔ یہ اُسکی خام خیالی تھی۔ اس موقع پر شاعر نے خوب کہا ہے، “تِراجُوتا ہے جاپانی، یہ بندوق انگلستانی، سر پہ لال ٹوپی روسی، پھر بھی جیت گئے پاکستانی”۔

آخر افسوس کہ اسلام کے اس مجاہد کے خلاف بڑی طاقتیں سازشیں کر رہی تھیں۔ 1987 میں یہودونصاریٰ نے ان کے جہاز میں سے انجن نکال کرپانی کا نلکہ لگادیا۔ اسلئے پرواز کے دوران آسمان سے گِر پڑا اور ٹُوٹ کے چُور ہو گیا۔ ضیاءالحق بھی ٹوٹ کے چُور ہوگئے اور پاکستان ٹوٹے بغیر چُور ہوگیا کیونکہ حکومت میں واپس آگیا بھٹو خاندان۔

جیسا باپ، ویسی بیٹی۔ اختیار میں آتے ہی بینظیر نے اس ملک کو وہ لُوٹا، وہ کھایا کہ جو لوگ ضیاءالحق کے دور میں بنگلوں میں رہائش پزیر تھے، وہ سڑکوں پر رُلنے لگے۔

جلد ہی بینظیر کو حکومت سے دھکیل دیا گیا اور اُس کی جگہ بٹھادیا گیا میاں محمد نواز شریف کو۔ لیکن میاں صاحب زیادہ دیر نہیں بیٹھ سکے۔ اُنہوں نے آگے کہیں جانا تھا شاید۔ اور کچھ عرصے بعد بینظیر واپس آگئیں۔ بینظیر کا دوسرا دورِ حکومت ملک کیلئے اور برا ثابت ہوا۔ پر یہ ابھی ثابت ہو ہی رہا تھا کہ اُنکی حکومت کوپھر سے ختم کردیا گیا۔ایک مرتبہ پھر نواز شریف کو لے آیا گیا۔ اس کُتخانے کا قوم نے جوش اور ولولے سے استقبال کیا۔

ہاں نوازشریف نے اس دوران ایک اچھا کام ضرورکیا۔ وہ ہمیں ایٹمی ہتھیار دے گیا۔ اس کے ہوتے ہوئے ہمیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتاتھا۔ اس کے بل بوتے پر ہم دلی سے لیکر دلی کے ارد گرد کچھ بستیوں تک کہیں بھی حملہ کرسکتے تھے۔اگر آپ کو بھی لوگ باتیں بناتے ہیں، تنگ کرتے ہیں، گھر پر، کام پر۔ تو ایٹمی ہتھیار بنا لیجئے، خُود ہی باز آجائینگے۔

مگر یہ بات امریکہ کو پسند نہیں آئی اور نواز شریف اُن کیساتھ وہ تعلقات نہ رکھ پایا جو کہ ایک اسلامی ریاست کے ہونے چاہئیں (مثلاً سعودی عرب وغیرہ)۔ اُوپر سے میاں صاحب نے کارگل آپریشن کی بھی مُخالفت کی۔ حالانکہ ہمارے سے قسم اُٹھوالیں جو میاں صاحب کو پتہ ہو کارگل ہے کہاں۔

اس بُزدلی کا سامنا کرنے اور پاکستان کو راہِ راست پر لانے کا بوجھ اب ایک اور جنرل پرویز مشرف کے گلے پڑا اور وہ آزمائش پر پورے اُترے۔ اُنہوں نے آتے ساتھ قوم کا دل اور خزانہ لُوٹ لیا۔

پرویز مشرف کا دور بھی ترقی کا دور تھا۔ ملک میں باہر سے بہت سارا پیسہ آیا، خاص کر امریکہ سے۔ امریکہ کو کسی اُسامہ نامی آدمی کی تلاش تھی۔ ہم نے فوراً  اُنہیں دعوت دی کہ پاکستان آکر ڈُھونڈ لیں۔ یہاں ہر دوسرے آدمی کا نام اسامہ ہے۔ مشرف صاحب کا اپنا نام پڑتے پڑے رہ گیا۔

مشرف صاحب کا دور انصاف کا دور تھا۔ کوئی نہیں کہتا تھا کہ انصاف نہیں مل رہا۔ بلکہ کہتے تھے کہ اتنا انصاف مل رہا ہے کہ سمجھ نہیں آتی کہ اس کیساتھ کریں کیا۔ مگر اُن کے خلاف بھی سازشی کاروائی شروع تھی۔ ایک بھینگے جج نے شور ڈال دیا کہ انہوں نے قوم کیساتھ زیادتی کی ہے۔ قوم بھی انکی باتوں میں آکر سمجھنے لگی کہ اُسکے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

لوگ مشرف کو کہنے لگے کہ وردی اُتاردو۔ اب بھلا یہ کیسی نازیبا درخواست ہے۔ ویسے بھی وردی تو وہ روز اُتارتے تھے آخر وردی میں سوتے تو نہیں تھے۔ مگر لوگ مطمئن نہیں ہوئے۔ وردی اُتارنی پڑی۔ طاقت چھوڑنی پڑی۔ عام انتخابات کا اعلان کرنا پڑا۔

بینظیر بھٹو صاحبہ ملک واپس آئیں لیکن صحت ٹھیک نہ ہونے کے باعث وہ اپنے اُوپر جان لیوا حملہ نہیں برداشت کرپائیں۔ سیاست میں جان لیوا حملے تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔ مشرف صاحب نے خود بہت جھیلے، ابھی تک زندہ ہیں۔ یہی اُن کی لیڈری کا ثبوت ہے۔

پھر بھی انتخابات میں جیت پیپلز پارٹی کی ہوئی۔ بینظیر کی بیوہ آصف علی زرداری کو صدر منتخب کیا گیا۔ اس سے پارٹی میں بدلا کچھ نہیں فرق اتنا پڑا کہ بینظیر صرف باپ کی تصویر لگا کر تقریر کرتی تھیں، زرداری کو دو تصویریں لگانی پڑتی ہیں۔

اب پاکستان کے حالات پھر بگڑتے جا رہے ہیں۔ بجلی نہیں ہے، امن و امان نہیں ہے، اقتدار میں لُٹیرے بیٹھے ہوئے ہیں۔ فوج پھر سے مُنتظر ہے کہ کب عوام پُکاریں اور کب وہ آکر مُعاشرے کی اصلاح کریں۔

اچھے خاصے لگے ہوئے مارشل لاء کے درمیان جب جمہوریت نافذ ہوجاتی ہے تو تمام نظام اُلٹا سیدھا ہوجاتا ہے۔ پچھلی اصلاح کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔ نئے سرے سے اصلاح کرنی پڑتی ہے۔

ابھی کچھ روز پہلے ہی صدرزرداری دل کے دورے پر مُلک سے باہر گئے تھے۔ پیچھے سے سابق کرکٹر عمران خان جلسے پہ جلسے کر رہا ہے۔ لوگ کہتے ہیں عمران خان فوج کے ساتھ ملکر حکومت کو ہٹانا چاہتا ہے۔ لوگوں کے مُنہ میں گھی شکر۔

شاعر نے بھی عمران کے بارے میں کیا خوب کہا ہے، ” جب بھی کوئی وردی دیکھوں میرا دل دیوانہ بولے ۔ ۔  اولے اولے اولے ۔ ۔ ” اُمید رکھیں، جیسے لوگ کہتے ہیں، ویسا ہی ہو۔

اور اس کے ساتھ ہمارے مضمون کا وقت ختم ہوا چاہتا ہے۔ ہمیں یقین ہے اس بات کا قوم جوش اور ولولے کیساتھ استقبال کرے گی۔

مغرب کی ضد میں۔۔۔۔ از خانزادہ


مغربی تہواروں سے ہماراپہلا تعارف کالج کی زندگی میں ہوا۔ مدر ڈے پر ہمیں اپنے کالج کے مین گیٹ سے لیکر ایڈمن بلاک تک ہلکے نیلے رنگ میں لکھے ہوئے بینرز اور چارٹ لگے نظر آئے جن پر لکھے ہوئے مختلف نعروں کا خلاصہ یہ تھا کہ مغربی اولاد چونکہ بڑھاپے میں اپنے والدین کاسہارا بننے کے بجائے اُنہیں اولڈ ہاؤسز میں بھیج دیتی ہے لہٰذا مدر فادر ڈے کا ٹوپی ڈرامہ اُنکی ضرورت اور مجبوری ہے۔ اپنے والدین سے مُحبت کا اظہار کرنے کیلئے ایک دن مُتعین کرنا ہماری اعلٰی مشرقی اور مذہبی اقدار کی

توہین ہے۔ جس ماں کے قدموں تلے جنت ہو، اُس سے محبت کا اظہارکرنے کیلئے تو زندگی کم

ویلنٹائن ڈے کے خلاف ناکام مہم

ویلنٹائن ڈے کے خلاف ناکام مہم

پڑجاتی ہے۔ مغربی اولاد پر لگائے جانے والے الزامات اور ہماری ‘اعلٰی اقدار’ کے دعؤوں میں کتنی صداقت تھی (اور ہے)، یہ ایک الگ بحث ہے لیکن بُنیادی نُکتہ یہ تھا کہ ہم مغربی رجحانات کو اس لئے قبُول نہیں کرسکتے کہ ہمارا اپنا اخلاقی نظام اس سے متصادم ہے۔ جن مقاصد کیلئے ایک عُمر وقف کرنے کی ضرورت ہے، اُن کے لئے محض ایک دن مُختص کرنا کہاں کا انصاف ہے؟

آج جبکہ اس بات کو پندرہ سال گُزرگئے، بحث بد ل چُکی ہے۔ شدت پسندوں کے حملے میں زخمی ہونے والی 14سالہ ملالہ کی تعلیم کیلئے کی گئی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے پچھلے سال 10 نومبر کو “یومِ ملالہ (ملالہ ڈے)” منانے کا اعلان ہوا تو اس بار ہلکے نیلے بینرزوالوں نے اسکے مقابلے میں “عافیہ ڈے” منانے کی تحریک چلائی اور اس موقعہ پر کی جانے والی مباحثوں میں یہ نکتہ کہیں نہیں آیا کہ کیا “قوم کی بیٹی” کے ساتھ محبت اور عقیدت کے اظہارکیلئے ایک دن کافی ہے؟ 14 فروری کو “حیا ڈے” منانے والوں نے بھی اس نُکتے پر بحث کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ گویا ہم نے بالآخرایک خالص مغربی رُجحان کے سامنے ہتھیا ر پھینک دیے اور “کُچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غمِ جاناں” کا ورد کرتے ہوئے اپنے عزیزہستیوں اور عظیم مقاصد کیلئے محض ایک دن مختص کرنے کے فلسفے پر ایمان لے آئے۔

1993ء میں جب ناظرہ کی جگہ قرآن کو ترجمے کیساتھ پڑھانا سکولوں میں لازمی قراردیا گیا تو اسلامیات کے اُستاد (جو بقول خود جدی پُشتی مُلا اور مُتاثرینِ رائے ونڈ کے شیدائی تھے) نے ہمیں پہلے پارے کی ابتدائی آیا ت کی تشریح میں بتایا کہ سائنس اورمذہب دو متصادم نظریات ہیں۔ مذہبی تعلیمات سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو دِل سے نتھی کرتی ہیں جبکہ سائنس دماغ کوعقل و شعُور کا منبع سمجھتی ہے۔ اُنکے خیال میں چُونکہ سائنس مُشاہدات اور تجربات کی تابع ہے جبکہ قُرآن کے الفاظ ایک مُطلق حقیقت ہیں لہٰذا سائنس ایک دن اپنے عُروج پر پُہنچتے ہی مذہب کے پیروں میں سر رکھ دے گا۔ موصوف کا خیال تھا کہ دماغ اور سائنس پر بھروسہ کرنا مغرب کی کج روی ہے جبکہ دل اور ایمان پر بھروسہ کرنا ایمان کا تقاضا ہے (ایک روز اُنہوں نے کلاس میں پُوچھا کہ آپ کو دَم اور دوا میں سے کس پر زیادہ یقین ہے تو راقم نے دواکے حق میں ووٹ دیا۔ اُستادِ مُحترم نے خاکسار کی عقل پر تاسّف کا اظہار کرتے ہوئے ایک لمبی لاحول پڑھی!)۔

تاہم آج صُورتحال یہ ہے کہ روایتی مولوی ہوں، رائے ونڈ پرست مُبلغین ہوں یا سوشل میڈ یا پر دندناتے سائبر جہادی، سب سائنسی ترقی کے سامنے بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔ جو مولوی صاحب دعوٰی کرتے تھے کہ ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچے کی جنس کا علم صرف اور صرف خُدا کو ہوتا ہے، اُنکی اہلیہ بھی الٹراساؤنڈ ٹیکنیشن سے پیشگی خُوشخبری کی فرمائش کئے بنا نہیں رہ سکتیں۔ ہاں، دونوں مولویوں، مولوی باللسان و مولوی بالقلب، کی ضد یہ ہے کہ یہ سب کُچھ تو ہماری مذہبی کتابوں کے توسط سے پہلے ہی اشاروں کنایوں میں بتا دیا گیا تھا مغرب تو سائنس کے ذریعے محض پہیئے کو دوبارہ ایجاد کرنے کی بے وقعت سی مشق کررہا ہے ۔ گویا مذہبی نُکتہ نظرآج خود کو اس لئے ٹٹولنے پر مجبور ہے کہ اُسے سائنس (جی ہاں مغرب کی سائنس) کے پُجاریوں کے سامنے اپنا وجود منوانا ہے۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ آج اگرغُلام، کنیز اور لونڈی جیسے قبیح تصورات ہمارے لئے مکروہ ہوچکے ہیں، تو اسکی وجہ بھی ہماری اپنی مذہبی تعلیمات نہیں۔ مذہبی تعلیمات میں لے دے کے غُلاموں سے “حُسنِ سلوک” کی تعلیم ہی ملتی ہے۔ غُلامی پر پابندی اور اسے ناقابلِ قبول قراردینا انسان کی ترقی پسند سوچ کا کارنامہ ہے۔ غُلامی پر پابندی کیلئے قانون سازی کی ابتداء کا سہرا مغربی اقوام کے سر ہے۔ چُنانچہ جن لوگوں کیلئے غُلامی اوراس جیسی دوسری قباحتوں کو تسلیم کرنا مُمکن نہیں وہ دراصل مغرب کی ترقی پسندی کو تسلیم کرتے ہیں۔

جو رسومات اور تصورات کل تک ہمارے لئے اجنبی بلکہ ناقابلِ قبُول تھے، آج ہمارے پاس اُنہیں اپنانے کے سوا اگر کوئی چارہ نہیں تو کیا یہ ہمارے لئے ایک لمحہِ فکریہ نہیں؟ اگر ہم انسانی شعُور کی ترقی کو تمام عالمِ انسانیت کا مُشترکہ اثاثہ تسلیم کرکے اپنے حصے کے حصُول کیلئے کوشش کرتے تو شاید آج ہمیں تعلیم سے لیکر دفاع تک اپنی تمام ضروریا ت کیلئے دیگر اقوام کیطرف نہ دیکھنا پڑتا۔ ترقی کے اُوپر مغرب کا مُتعصب لیبل لگانے کے باوجود اگر بالآخر ہمیں اسے تسلیم کرنا ہی ہے، تو یہ کام بروقت اور شعُوری طور پر ہونا چاہیئے۔ کیونکہ پسماندگی کا مقدر ترقی کے سامنے ہتھیارڈالنے کے سوا کوئی نہیں۔

بکنی والی تصویریں…. بنام کشمالہ خٹک


rangiku_bikini_sketch_by_leesh_san-d5b5i6rمحترمہ کشمالہ رحمٰن خٹک نے حال ہی میں لالا جی کی پوسٹ پر کچھ کمنٹس فرمائے ہیں جن میں انہوں نے لالا جی کی بہنوں  اور ماں کی بکنی(bikini) پہنے تصویریں مانگی ہیں۔ وہ مزید کہتی ہیں “پتہ نہیں کیوں جب میں لبرل اور ماڈریٹ لوگوں سے ان کے گھر کی خواتین کی بات کرتی ہوں تو انہیں آگ لگ جاتی ہے”۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ انہیں پورا یقین ہے کہ لالا جی انہیں بلاک کردیں گے اوراُن کے اِنباکس(Inbox) میں کوئی لمبا چوڑا میسج لکھ ماریں گے۔

لالا جی کا جواب پیش ہے:

کشمالہ جی اس بار آپ کے سارے اندازے غلط ہو گئے۔ لالاجی کا خون بھی نہیں کھول رہا؛ نہ ہی کہیں آگ لگی ہے اور نہ ہی لالا جی آپ کو بلاک کرنے جا رہے ہیں۔ بلکہ لالا جی آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے ایسے سوالات اُٹھائے ہیں اور لالاجی کو موقع فراہم کر دیا کہ وہ آپ کی اور آپ جیسی سوچ رکھنے والے دیگر دوستوں کی لبرل لوگوں کے حوالے سے کچھ غلط فہمیاں دور کر دیں۔

ہمارے ملک میں ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لبرل لوگ اپنے دائرے میں رہتے ہیں اور قدامت پسند لوگ اپنے دائرے میں۔ دونوں گروپوں کا ایک دوسرے سے معقول انداز میں تبادلہ خیال نہیں ہوتا۔ معقول انداز سے میری مراد یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی غرض سے تبادلہ خیال نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی غرض سے تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ چنانچہ نتیجہ کچھ نہیں نکلتا۔ آپ کا میری بہن کی بکنی پہنے تصویر مانگنا بھی دراصل مجھے نیچا دکھانے کی کوشش ہے۔ آپ کا خیال ہے کہ میں غصہ سے پاگل ہو جاؤں گا اور آپ کو گالیاں دوں گا اور آپ تالیاں بجا کر اپنے قدامت پرست اور میرے لبرل ساتھیوں سے یہ کہ سکیں گی “دیکھا…کیسے میں نے لبرلزم(Liberalism)  کے غبارے سے ہوا نکالی!”۔

آپ کے مطالبے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک لبرل لوگوں کو اور کچھ نہیں چاہئے،لبرل لوگ دوسروں کی عورتوں کو ننگا دیکھنا چاہتے ہیں اور بس۔ آپ کے نزدیک عورتوں کے حقوق کی ساری بات عورتوں کو ننگا کرنے کی کوشش ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آپ نے عورتوں کے حقوق کی بات کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ لالاجی اس موضوع پر کافی تفصیل سے لکھ چکے ہیں اور دوبارہ وہ ساری تفصیلات لکھنے کا ارادہ نہیں ہے۔ تاہم اُن مضامین کے لنک آپ سےشئیر کر دیئے جائیں گے، اگر مقصد سمجھنا ہوا تو آپ اُن مضامین کو پڑھیں گی اگر مقصد مجھے نیچا دکھانا ہوا تو آپ اُن پر (مجھ سمیت) لعنت بھیجیں گی، اپنی شکست پر پیچ و تاب کھائیں گی اور کوئی نیا وار کرنے کا راستہ ڈھونڈیں گی۔

جب ہم لبرل لوگ عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو ہم انہیں ننگا نہیں کرنا چاہتے۔ ہم تو بہت بنیادی نوعیت کے حقوق کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ تعلیم کا حق، اپنی پسند کے مضامین پڑھنے کا حق، اپنی مرضی سے اپنی پسند کے شخص سے شادی کا حق (اگرچہ اسلام بھی یہ حق دیتا ہے مگر مولوی جمعہ کو اس موضوع پر تقریر کبھی نہیں کرتا)، جائیداد میں حصے کا حق (پاکستان میں ۹۷ فیصد عورتوں کو جائیداد میں حصہ نہیں ملتا) عورتوں کے نام پر اگر کوئی جائداد ہو بھی تو اُ س کے حوالے سے فیصلے مرد ہی کر رہے ہوتے ہیں۔ ، زندہ رہنے کا حق (غیرت کے نام پر قتل اس حق کی نفی کرتا ہے)۔ اسی طرح آپ کے پختون معاشرے میں غگ، ولوراور سوارا جیسی رسموں سے نجات عورتوں کا حق ہے۔ گھریلو تشدد سے نجات عورت کا حق ہے۔

مزید یہ کہ لالاجی کے گھر کی خواتین کو یہ حقوق حاصل ہیں۔ لالاجی کی بہن کی شادی اُس کی مرضی سے ہوئی تھی۔ لالاجی کی بیوی اپنی پسند سے ایک نوکری کر رہی ہے اور لالاجی کو خود پر اور اپنی بیوی پر پورا اعتماد ہے چنانچہ اُن دونوں کے درمیان کبھی اس نوعیت کے شکوک و شبہات نے جنم نہیں لیا۔ لالاجی کی بیوی کو ڈرائیونگ بھی آتی ہے اور وہ اکیلی دوسرے شہروں کا سفر بھی کر لیتی ہے۔ لالاجی کی بیوی کا اپنا الگ اکاؤنٹ ہے اور وہ اپن ضرورت کی چیزیں خریدنے یا نہ خریدنے کے فیصلے بھی اپنی مرضی سے کرتی ہے۔

لالاجی کی بیوی اور بہن بکنی نہیں پہنتیں۔ بکنی کو عورتوں کی آزادی کی علامت کے طور پر آپ دیکھتی ہوں گی، ہم لبرل لوگ ایسا نہیں سمجھتے۔ یہ مسئلہ مذہبی تنگ نظر لوگوں کا ہے کہ وہ ظاہری چیزوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ چنانچہ مذہب پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے بھی من کی سچائی کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور داڑھی، کپڑے، ٹوپی اور ظاہری حلئے سے لوگوں کی مذہب سے قربت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ چنانچہ داڑھی والا شخص کتنا ہی کمینہ، خبیث اور ذلیل ہو اُسے اچھا سمجھا جاتا ہے کہ اُس نے داڑھی رکھی ہوئی ہے۔ جبکہ داڑھی منڈانے والا کتنا ہی رحم دل، لوگوں کی مدد کرنے والاانسان کیوں نہ ہو اُسے اچھا نہیں سمجھتا۔

ہم ظاہری شکل و صورت پر نہیں جاتے۔ ہمارے نزدیک بکنی پہننے والی عورت بھی تنگ نظر ہو سکتی ہے (اور ہوتی ہیں)۔ ہمارے نزدیک ہر کلین شیومرد لبرل نہیں ہوتا اور ہر داڑھی والا تنگ نظر نہیں ہوتا۔ میرے بہت اچھے لبرل دوستوں میں داڑھیوں والے بھی ہیں اور بہت سے کلین شیو مردوں سے میری اس لئے نہیں بنتی کہ وہ اندر سے تنگ نظر ہیں۔ میری ایسی خواتین سے بھی دوستی ہے جو سکارف کرتی ہیں مگر بہت لبرل ہیں اور میں نے ایسی خواتین بھی دیکھی ہیں جو بہت بن سنور کر ہاف بلاؤز پہن کر پھرتی ہیں مگر اُن سے چار باتیں کرو تو منور حسن(امیر جماعتِ اسلامی) بھی اُن کے مقابلے میں روشن خیال معلوم ہوتا ہے۔

ہاں مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ جس طرح قدامت پسند لوگوں میں منافق ہوتے ہیں ویسے ہی لبرل لوگوں میں بھی منافق ہوتے ہیں۔ یہ منافق لوگ حقوق کی بات باہر کرتے ہیں اپنے گھر کی خواتین کو قید میں رکھتے ہیں۔ میں ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو بچوں کے حقوق کے حوالے سے بڑی سرگرمی سے کام کر رہے ہیں مگر اُن کے اپنے گھر میں بارہ سال کی بچی نوکری کر رہی ہے۔ میں نے ایسے بھی لوگ دیکھے ہیں جو عورتوں کے حقوق کے لئے سر گرم ہیں مگر اپنی بچی کو اُس کے مرضی کے مضامین پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے، اپنی بیوی کو اُس کے ماں باپ سے ملنے کی اجازت نہیں دیتے۔ مجھے کہنے دیجئے کہ ایسے جعلی لبرل لوگوں سے لالا جی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ لالاجی اس قسم کے لبرلزم کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔

نوٹ: ہم لبرل لوگوں اور قدامت پرست لوگوں میں ایک اور فرق یہ ہے کہ ہم لوگ اختلاف رائے کو برداشت کرتے ہیں اور اگر کوئی ہم سے اختلاف کرے تو اُسے جان سے نہیں ماردیتے۔ تنگ نظر قدامت پرست لوگ اختلاف رائے کو برداشت نہیں کرتے اور اختلاف کرنے والوں کو جان سے مار ڈالتے ہیں۔ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر، اقلیتی امور کے وفاقی وزیر شہباز بھٹی ، مولانا حسن جان، مولانا نعیمی اور دیگر بے شمار لوگوں کا قتل اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔

چونکہ لالاجی کواپنے لبرل نظریات کی وجہ سے جان سے مار دینے کی دھمکیاں مل چکی ہیں۔ اس لئے لالاجی اپنی شناخت کو خفیہ ہی رکھیں گے۔ لالا جی کو اپنی زندگی بہت پیاری ہے اور وہ اپنی زندگی گنوانے کے حق میں نہیں ہیں۔ لالا جی سقراط کی طرح زہر کا پیالہ پی کر امر ہونے کے مقابلے میں اسی طرح غائبانہ انداز میں تنگ نظری اور قدامت پرستی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لالاجی کو اس بات پر فخر ہے اُن کے ہاتھ میں بندوق نہیں، قلم ہے۔ جو لوگ لالاجی کو پسند کرتے ہیں وہ لالاجی کے خوف سے نہیں، لالاجی کے نظریات اور دلائل سے متاثر ہو کر پسند کرتےہیں۔

مولوی….استحصالی طبقے کے مفادات کا محافظ


dpc-hafiz-saeed-online-670

“اسلام خطرے میں” کا نعرہ لگانے والے مولوی ایک ساتھ

مولوی امیر لوگوں کو بُرے لوگوں کے طور پر پیش کرتا ہے، جن کی اللہ میاں نے رسی دراز کر رکھی ہے اور اگلے جہان میں انہیں سخت سزائیں ملنے والی ہیں۔ وہ غریبوں کو یہ خوشخبری دیتا ہے کہ وہ اللہ کے زیادہ قریب ہیں۔ انہیں ہر حال میں خوش رہنا چاہئے اور اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ لالا جی کی جب بھی کسی مزدور سے بحث ہوئی تو اُسے اپنے حال پرصابر و شاکرپایا۔ جب مزدور اور کسان میں اپنا حال بدلنے کی خواہش ہی نہیں ہو گی تو سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کو کیا پڑی ہے کہ وہ اِن لوگوں کو حقوق دیں۔ یہی وجہ ہے کہ مزدوروں کی جان و مال قطعی طور پر غیر محفوظ ہیں۔ اگر کام کرتے ہوئے کسی مزدور کا ہاتھ پاؤں کٹ جائے یا جان چلی جائے تو اُسے کچھ نہیں ملتا۔

دولت کی غیر مساوی تقسیم کے حوالے سے مولوی مزدوروں اور کسانوں کو یہ کہتا ہے کہ یہ سب اللہ کی مرضی ہے وہ جسے چاہے جتناچاہے دے۔ اس تصور سے محنت کی بھی شدید حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ کچھ لوگ کوئی کام نہیں کرتے مگر بہت دولت مند ہیں، جب کہ مزدور اور کسان دن میں چودہ چودہ گھنٹے کام کرتے ہیں مگر اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ نہیں پال سکتے۔ ایسا کیوں ہے؟ مولوی کے پاس اس کا ایک ہی جواب ہے “اللہ کی مرضی” ۔ مولوی کا خدا بہت بے انصاف معلوم ہوتا ہے۔

مولوی لوگوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ کہتا یہ ہے کہ اللہ رزق دینے والا ہے۔ مگر جب اُسی مزدور یا کسان کے بچے بھوکے مرتے ہیں، دوا کے پیسے نہیں ہوتے اُس وقت اُن بچوں کی موت کا الزام بھی اللہ ہی پر تھوپ دیا جاتا ہے۔ مزدور یا کسان مولوی سے یہ نہیں کہ سکتا کہ اب میرے بچے بھوک/بیماری سے مر رہے ہیں، مگر اللہ رزق نہیں دے رہا۔ اللہ نے سارا رزق اُس امیر کو دے رکھا ہے جس کے صرف دو بچے ہیں۔ ایسے مزدوروں/کسانوں کے لئے مولوی کے پاس کفر کا فتوٰی موجود ہے۔

مزدوراور کسان کے لئے دولت کی غیر مساوی تقسیم، اپنے بچوں کا زندگی کی بنیادی ضرورتوں کے لئے سسکنااور روزانہ گھنٹوں کی محنت مشقت کے باوجود اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری نہ کرپانا ایسی تلخ حقیقتیں ہیں کہ جو مزدور/کسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ غلامی سے نجات اور مساویانہ سلوک کا کیڑا مزدور/کسان کے ذہن میں ہلچل مچاتا ہے۔ یہ کیڑا بہت خطرناک ہے۔ اگر مزدور/کسان کے دماغ میں موجود اس کیڑے کا توڑ نہ نکالا جائے تو جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ چنانچہ مولوی صاحب یہاں بھی اُن کی مدد کو آپہنچتے ہیں۔

اس کے لئے سب سے کامیاب حربہ یہ ہے کہ مزدوروں اور کسانوں کو اُن کے اصل دشمن کی طرف سے غافل کر دیا جائے اور ان کے غصے کا رُخ کسی ایسے دشمن کی طرف موڑ دیا جائے جس کا وہ کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ چنانچہ ہمارے غریب عوام کو مولوی نے ہندوستان، اسرائیل اور امریکہ کی شکل میں دشمن فراہم کر دیئے ہیں۔ ہمارے ملک میں جو کچھ بھی غلط ہو رہا ہے اُس کی ذمہ داری ان تین ملکوں پر ہے۔ ہمارے اپنے جرنیل، جاگیردار اور سرمایہ دار کیا کر رہےہیں، اس بارے میں کوئی بات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ سندھ میں ہاریوں کے برے حالات کے ذمہ دار مسلمان وڈیرے نہیں ہیں بلکہ یہ تین کافر ملک ہیں۔ پنجاب میں مزدوروں کی حالتِ زار کے ذمہ دار مسلمان سرمایہ دار نہیں ہیں، یہ تین کافر ملک ہیں۔ اس ملک کو بار بار فتح کرنے والے مسلمان جرنیل تو کسی بھی مسئلے کے ذمہ دار نہیں ہیں، یہ تین کافر ملک ہی ہیں۔

Rally against Film

گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاج کا ایک منظر ۔۔۔

ایک اور اہم ہتھیار توہین رسالت یا قرآن کے مسائل کھڑے کرنا ہے۔ اس حوالے سے ایک جنونی کیفیت پیدا کر دی جاتی ہے۔ ساری قوم ہفتوں اس کیفیت میں اُلجھی رہتی ہے۔ حال ہی میں یوٹیوب پر ایک فلم (جواس قدر فضول فلم تھی کہ امریکہ کے کسی سینما نے اُسے دکھانے پر رضا مندی ظاہر نہیں کی) کے خلاف پوری قوم کو ایک ہذیان میں مبتلا کر دیا گیا۔ اربوں روپے کا نقصان ہوا، چند غریب محنت کشوں کی جانیں چلی گئیں۔ فلم کا کچھ نہیں بگڑا،  فلم بنانے والے کا کچھ نہیں بگڑا۔ مگرفلم بنانے والے کا کچھ بگاڑنا مولوی کا مقصد کب تھا؟

ایک اور اہم حربہ ہے شاندار ماضی۔ مولوی خلفائے راشدین کے زمانے کا ایسے نقشہ کھینچتا ہےجیسے اُس دور میں دودھ شہد کہ نہریں بہہ رہی تھیں اور غریب آدمی عیاشی کر رہا تھا۔ ایسے نقشے کھینچنے کے بعد مولوی ہم لوگوں کو یہ یقین دلاتا ہے کہ اگر خلفائے راشدین کا نظام دوبارہ آجائے تو پھر سارے مسائل حل ہو جائیں گے اور دنیا جنت کا نمونہ بن جائےگی۔ یہ دراصل غریب آدمی کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے سے زیادہ کچھ نہیں۔ وقت کبھی پیچھے کی طرف نہیں جاتا۔ خلفائے راشدین کا زمانہ واپس نہیں آسکتا۔ ہمیں انہی زرداریوں اور شریفوں سے اپنے حقوق لینا ہیں یا کوئی متبادل لیڈر شپ پیدا کرنی ہے۔ یہ لیڈرشپ مزدوروں میں سے بھی ہو سکتی ہے۔ کسانوں میں سے بھی اُبھر سکتی ہے۔ لیکن اگر کسانوں/مزدوروں کو یہ خیال آگیا تو پھر مولوی کے آقاؤں یعنی جاگیرداروں، جرنیلوں اور سرمایہ داروں کا کیا ہوگا۔

120913023302-pakistan-fire-1-1-horizontal-large-gallery

کراچی کی فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں جل کر ہلاک ہونے والے مزدوروں کی لاشیں ایدھی کی سرد خانے میں پڑی ہین

دوسری طرف اگر ہم تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں مولویوں کی طرف سے مزدوروں/کسانوں کے حق میں جلوس نکالنے کا کوئی ایک واقعہ بھی نہیں ملتا۔ گزشتہ برس کراچی اور لاہور کی فیکٹریوں میں آگ لگنے سے لگ بھگ تین سو پچاس مزدور اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، مگر وہ تو اللہ کی مرضی تھی۔ احتجاج کرنے یا مزدوروں کے لئے بہتر حفاظتی اقدامات جیسے مطالبات کرنے سے سرمایہ داروں کی جیب سے کچھ پیسے مزدوروں پر خرچ ہونے کا امکان پیدا کرنے کیا ضرورت ہے۔ کیوں نا اسی سرمایہ دار سے مدرسے کے لئے چندہ لے لیا جائے۔

ہمارے ملک کا سرمایہ دار، جاگیر دار اور جرنیل اس بات کو بہت اچھی طرح سمجھتا ہے۔ لہٰذا وہ مولوی کی خوب سرپرستی کرتا ہے۔ مولوی یونہی تو اتنی مہنگی گاڑیوں میں کئی کئی محافظوں کے ساتھ نہیں گھومتا۔ غریب لوگوں سے پانچ پانچ روپے کے چندے اکٹھے کر کے تو ایسی شاندار گاڑیاں نہیں خریدی جاسکتیں۔ لال مسجد کے مولوی عبدالعزیز کو ایک پراپرٹی ٹائیکون دوبئی سے شاپنگ کیوں کراتا ہے؟ ضیاع الحق جیسے تنگ نظر جرنیل کا تومولویوں کے ساتھ ہاتھ ملانا سمجھ میں آتا ہے مگر پرویز مشرف جیسا روشن خیال جرنیل بھی مولویوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرتا ہے تو آپ کو حیرت نہیں ہوتی؟ مشرف کا دور واحد دور تھا جب مولویوں نے قومی اسمبلی کی اٹھاون نشستیں جیتیں اور پھر ہم نے دیکھا کہ مولویوں نے سترہویں ترمیم کی منظوری میں مشرف کا ساتھ دے کر حساب برابر کر دیا۔  

مختصر یہ کہ اگر ہمارے غریب عوام کو مساوی انسان کے طور پر اس ملک میں جینا ہے تو انہیں بندوقوں اور فتوؤں سے لیس مولوی کے استحصالی طبقات کے ساتھ گٹھ جوڑ کو سمجھنا ہوگا۔ اس گٹھ جوڑ کو سمجھے بغیر بات آگے نہیں بڑھے گی۔

گھر کی عزت….از محمد طارق


ہمارے ہاں گھر یبٹھے خبریں گھڑنے میں بعض لوگوں کو خاص کمال حاصل ہے ۔ تاہم دکھ اس بات کا ہے کہ لوگ ایسی خبروں کا تنقیدی جائزہ لئے بغیر ہی ایسی خبروں کو آگے پھیلاکر ثوابِ دارین حاصل کرتے ہیں، ان کے سچ جھوٹ ہونے پر ایک لمحہ غور نہیں کرتے۔ اس سے پہلے سوئس  بنکوں میں پاکستانیوں کے اربوں ڈالر کے حوالے سے ایک خبر بہت پھیلی تو لالاجی کو نہ چاہتے ہوئے بھی ایسی بے تُکی خبر پر ایک بلاگ لکھنا پڑا۔ اب ایسی ہی ایک اور خبر کی فیس بک اور ٹوٹر پر بھرپور انداز میں تشہیر جاری ہے۔ خبر کا کوئی سر پیر نہیں ہے۔ غیر سرکاری تنظیم کا نام نہیں دیا گیا۔ اس تنظیم نے گھر سے بھاگنے والی لڑکیوں کے بارے میں اعدادوشمار کہاں سے اکٹھے کئے، کیسے اکٹھے کئے۔ کوئ وضاحت نہیں ۔ لڑکیوں کے گھر سے بھاگنے کی وجہ محض موبائل فون ہی ہیں؟ گھر کے حالات ، والدین کا رویہ، دیگر وجوہات ؟؟؟حد تو یہ ہے کہ اس تصویر میں یہ وضاحت بھی نہیں کہ یہ خبر کس اخبار میں شائع ہوئی  اور کب شائع ہوئی۔ آئینہ کے ایک مستقل قاری محمد طارق نے اس خبر کو پڑھ کر اپنے خیالات تحریری شکل میں ارسال کئے ہیں۔ وہ آپ کی خدمت میں پیش ہیں( لالاجی)

سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر گردش کرنے والی خبر کا عکس۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر گردش کرنے والی خبر کا عکس۔

گھر کی عزت

گزشتہ چنددنوں سے اُوپر دی گئی تصویرفیس بُک پربہت گردش میں ہے۔ اگرچہ تصویر میں دی گئی خبر کے ماخذ کا ذکر نہیں کیا گیا، لیکن ہمارے یہاں ایک ترقی گُریز طبقہ اس طرح کی خبروں کو من و عن قبول کرکے اخذ شدہ نتائج کی ترویج شروع کردیتا ہے اور ساتھ ہی یہ واویلا کہ یہ سب مغرب سے درآمد کی گئی ترقی کا ‘خمیازہ’ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ نتائج پہلے سے مُرتب کرکے اُنہیں سہارا دینے کیلئے ثبُوت تلاش کریں، اُنہیں اس طرح کے بھونڈے ثبوت ایسے ہی ملتے ہیں جیسے شکر خورے کو شکر۔
اس خبر کے پہلے فقرے پر غور کریں،
“موبائل فون، کیبل کا کردار۔ ایک سال میں 17ہزار211 لڑکیاں گھروں سے فرار”
کیا موبائل اور کیبل جیسی ٹیکنالوجی کی قبولیت بھی اب ایک قابل بحث موضوع ہے؟ یعنی ہم ابھی تک یہ فیصلہ ہی نہیں کرپائے کہ ہمیں جدید انسانی ترقی کو قبول کرنا ہے یا اس کی مذمت کرنی ہے۔ کیا کیبل پرلڑکیوں کو گھر سے بھاگنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں؟ یا اس کا مطلب یہ ہے کہ کیبل کے ذریعے باقی دنیا سے رُوشناس ہو کر اور جدیدترقی یافتہ معاشروں میں صنف نازک کو اپنی زندگیوں کے فیصلے خود کرتا دیکھ کر ہمارے ہاں لڑکیوں کو اپنے انسان ہونے کا احساس ہوا اوراُنہوں نے اپنی زندگی اپنی مرضی سے گُزارنے کیلئے بغاوت کی راہ اختیار کی۔ سوال یہ ہے کہ لڑکیوں کے دل میں گھر سے بھاگنے کی خواہش کیبل نے پیدا کی یا مردوں کی اجارہ داری نے؟ لڑکیوں کو اپنے سارے رشتے، ناتے، آس پاس، پڑوس ۔ ۔ ۔ حتّیٰ کہ اپنی شناخت سے مُنہ موڑکر محض اپنی زندگی کو اپنی مرضی سے گُزارنے جیسی معصوم خواہش کیلئے مُعاشرے سے بغاوت کے کٹھن فیصلے پر مجبورکرناہمارا جُرم ہے، موبائل اور کیبل کا نہیں۔ کیا کہا، یہاں مردوں کی اجارہ داری نہیں۔ جومردانہی لڑکیوں کیساتھ گھروالوں کی مرضی کے خلاف شادی کرنے کیلئے گھر چھوڑتے ہیں تو کیا اُنہیں بھی ‘بھاگاہوا’ کہتے ہیں؟کیا اُن کی بھی اتنی ہی مذمت کی جاتی ہے؟
خبر کا دُوسرا حصہ، جس میں 4 ہزار شادی شُدہ خواتین کے فرار کا ذکر ہے، بھی ہمارے لئے ایک بہت بڑا لمحہِ فکریہ ہے۔ آخر ایک شادی شُدہ خاتون گھر سے فرار ہونے کا فیصلہ کیوں کرتی ہے؟ اس لئے کہ اُسکی شادی اُس کی مرضی کے خلاف ہوئی ہوتی ہے۔ اسلئے کہ وہ اپنی شادی، اپنے شوہر اور اپنے سُسرال سے خوش نہیں ہوتی۔ اسلئے کہ وہ تشدد کا شکار ہوتی ہے۔ اور اس لئے کہ اُس کے پاس ایسی شادی کو ختم کرنے کا کوئی آسان اور باعزت رستہ نہیں ہوتا، بلکہ اکثر اوقات تو سِرے سے کوئی رستہ ہوتا ہی نہیں۔ میرا سوال اُن لوگوں سے ہے جو روزانہ مغربی معاشرے کی ہجو میں بُلند شرحِ طلاق کی دلیلیں پیش کرتے ہیں۔ اگر ایک عورت اتنی بااختیار ہو کہ ایک ناکام شادی کو نہ صرف ختم کرسکے بلکہ بعد ازاں عزت سے معاشرے میں رہ بھی سکے تو اُسے ‘گھر سے بھاگنے’ جیسا انتہائی اقدام اُٹھانے کی ضرورت کیوں پیش  آئے گی؟
کُچھ دن پہلے اپنی ریسرچ کے سلسلے میں میانوالی میں ایک اٹھہتر سالہ بابا جی سے ملاقات ہوئی۔ باباجی نے حُکومت کے سارے گُناہ معاف کرتے ہوئے محترمہ حِنا ربانی کھر کو وزیرِ خارجہ بنانے پرشدید تنقید کی۔ میں نے حیرت سے پوچھا :” باباجی، اور بھی تو کافی ساری وزیرنیاں ہیں، صرف وزیرِ خارجہ پر اعتراض کیوں؟” باباجی نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔ “بیٹا، عورت گھر کی عزت ہوتی ہے، اُسے گھر سے باہرغیروں کے ہاں نہیں بھیجنا چاہیئے”۔ میں اپنی پھڑکتی حسِ ظرافت پر قابو پاکر وہاں سے اُٹھا لیکن میرادوست تاڑ گیا تھا۔ باہر آکر اُس نے دریافت کیا تو مُجھ سے رہا نہ گیا۔ ” گھر کی عزت عورت ہے توہم مرد کیا ذلت ورسوائی ہیں؟” وہ بھی مُوڈ میں تھا، بولا، “تو اورکیا!”۔
” توگھر کی عزت رُخصت ہونے کے بعد پیچھے رہنے والی رسوائی کو عزت کا واویلا مچانے کا کوئی حق نہیں، بہتر ہے وہ خود کو ‘عزت’ بنانے کی کوشش کرے”۔