سید احمد شہید کی تحریکِ مجاہدین … از ڈاکٹر مبارک علی


76895098—————–Compiled by: Shahab Saqib—————

 

نوٹ: یہ مضمون ڈاکٹر مبارک علی کی کتاب “المیہ تاریخ ” (اشاعت : ۲۰۱۲) سے لیا گیا ہے۔

کتاب: المیہ تاریخ 

باب: ۱۱

“جہاد تحریک”

—————————————————————-

سید احمد شہید ۱۷۸۶ء میں بریلی میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم کے بعد  ۱۸  سال کی عمر میں ملازمت کی تلاش میں نکلے اور لکھنؤ آئے مگر انہیں ناکامی ہوئی اور ملازمت نہ مل سکی ۔ اس پر انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے دہلی میں شاہ عبدالعزیز کے مدرسے میں تعلیم حاصل کریں گے۔ ۱۸۰۶ء سے ۱۸۱۱ء تک انہوں نے دہلی میں قیام کیا ، اس کے بعد ۲۵ سال کی عمر میں امیر خان ،جو کہ ایک فوجی مہم جو تھے، کے ہاں ملازمت کرلی۔ اس سلسلے میں ان کے سیرت نگار یہ کہتے ہیں کہ امیر خان کے لشکر میں ملازمت کا مقصد یہ تھا کہ آپ عملی طور پر فوجی    تجربوں سے واقف ہوں تاکہ جہاد کی تیاری میں وہ کام آسکیں۔ لیکن حالات اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ آپ کی مالی حالت اچھی نہیں تھی اور آپ ملازمت کے لئے کوشاں تھے اوراپنےعہد کے نوجوانوں کی طرح آپ بھی امیر خان کے لشکر میں اس امید میں شامل ہوئے کہ اس طرح سے  مال  غنیمت   حاصل کرنے کے مواقع تھے۔ چونکہ یہ عہد فوجی مہم جوؤں کا تھا کہ جس میں وہ اپنی فوجی طاقت و قوت کے بل بوتے پر علاقوں پر قبضہ کرکے اپنا اقتدار قائم کرلیتے تھے    اس لئے ہوسکتا ہے کہ آپ نے یہ منصوبہ بنایا ہو کہ اپنی  ایک جماعت تیار کرکے مذہبی بنیادوں  پر کسی علاقے پر قابض ہو کر وہاں اپنا اقتدار قائم کریں۔ انہوں نے امیر خاں کی ملازمت میں سات سال گزارے اور یہ وقت امیر خان کو سمجھنے کے لئے کافی تھا کیوں کہ وہ محض لوٹ مار کی غرض سے جنگیں کرتا تھا اور اس کے سامنے کوئی بڑا اور واضح مقصد نہیں تھا۔ انہو ں نے امیر خاں کی ملازمت کو اس وقت چھوڑا جب   ۱۸۱۷ء  میں اس کی برطانوی حکومت سے صلح ہوگئی۔ اس کی ملازمت میں اس وقت تیس ہزار سپاہی ملازم تھے وہ صلح کے  بعد   بے روزگار ہوگئے۔ انہیں بے روزگاروںمیں سید احمد شہید بھی شامل تھے۔ملازمت کے خاتمے کے بعد دہلی آئے اور یہاں سے انہوں نے اپنی تحریک کا آغاز کیا اس میں ان کے ساتھ ولی اللہ خاندان کے دو اراکین شامل ہوئے۔ اسماعیل شہید  (۱۸۳۱-۱۷۷۱) اور مولوی عبدالحئی (وفات ۱۸۲۸)۔

اس تحریک کی ابتداء اس سے ہوئی کہ توحید کا تصور جو مسخ ہوگیا ہے، اسے دوبارہ مسلمانوں میں خالص  اور  اصل شکل   میں راسخ کیا جائے اور جن عوامل نے اسلام کو کمزور کر دیا ہے انہیں دور کیا جائے ۔ ان میں ہندو رسومات اور جھوٹے صوفی اور شیعہ عقائد خصوصیت سے قابل ذکر تھے ۔ اپنی تحریک کو روشناس کرانے کی غرض سے آپ   نے  ۱۸۱۸  اور ۱۸۱۹ء میں دوآبہ کے علاقوں کا دورہ کیا اور غازی آباد، مراد نگر، میرٹھ، سدھانہ، کاندھیلہ، پھولت، مظفر نگر، دیوبند، گنگوہ، نانوتہ، تھانہ بھون، سہارنپور، روھیل، کھنڈ، لکھنؤ اور بریلی گئے۔    ۱۸۲۱ء  میں انہوں نے ایک جمیعت کے ساتھ حج  کیا ، اس کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستان میں اس اہم رکن کا احیاء کیا جائے۔ کیوں کہ سمندروں پر یورپی اقوام کے قبضے اور بحری سفر کی مشکلات کی وجہ سے بہت کم ہندوستانی مسلمان حج پر جایا کرتے تھے اور ان حالات کے پیش نظر کچھ علماء نے یہ فتویٰ دے دیا تھا کہ ان حالات میں حج فرض نہیں  ہے۔ اس لئے سید احمد شہید نے حج کے اہم رکن کو دوبارہ نافذ کرکے مسلمانوں کی شناخت کو اجاگر کیا۔۔  ۱۸۲۳ء  میں حج سے واپسی کے بعد آپ نے ایک بار پھر ہندوستان کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور جیسا کہ آپ کی سیرت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ لوگ جوق در جوق بیعت کرکے آپ کی تحریک میں شامل ہوئے۔  اس لئے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کی تحریک کے وہ کون سے مقاصد تھے کہ جن سے لوگ متاثر ہوئے۔

اٹھارویں اور انیسویں صدی کا ہندوستان سیاسی و معاشی اور معاشرتی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ ۔ مغل  سلطنت   کی مرکزیت ختم ہوچکی تھی۔ صوبائی طاقتیں خود مختار ہوکر خانہ جنگیوں میں مصروف تھیں۔ انگریز آہستہ آہستہ ہندوستان میں اپنے قدم جما رہے تھے۔ مسلمان معاشرے میں امراء اور علماء اپنی مراعات کو کھونے کے بعد عدم تحفظ کا شکار تھے۔ اگرچہ ایک عام مسلمان کے لئے ان حالات نے کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی تھی، وہ پہلے ہی سے سماجی طور پر پسماندہ تھا اور اس کے پاس بگڑتے ہوئے حالات میں کھونے کے لئے کچھ نہ تھا۔ اس لیے امراء اور علماء  مغل   حکومت    کے سیاسی استحکام کے خاتمے کے بعد ذہنی طور پر انتشار کا شکار تھے جس کا اثر ہندوستان کے پورے مسلمان معاشرے پر پڑ رہا تھا اور اس احساس کو پیدا   کیا جارہا تھا کہ مسلمان زوال پزیر ہو کر ختم ہورہے ہیں۔ اس احساس کو اور زیادہ    بڑھانے  میں وہ حالات تھے جن میں ملازم  ملازمت کرتے تھے۔ وہ سیاسی طاقت کے  زوال   کے ساتھ ختم ہوچکے تھے اور اگر تھے تو آمدنی کے ذرائع محدود ہونے کی وجہ سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں ہوتی تھی۔ ان حالات میں مسلمان ان فوجی مہم جوؤں کے جتھوں میں شامل ہوگئے کہ جو ہندوستان بھر میں لوٹ مار کرنے کی غرض سے  پھرا  کرتے  تھے یا معاوضے پر حکمرانوں کی جانب سے ان کے دشمنوں سے جنگ لڑتے تھے۔ لیکن جب انگریزی اقتدار بڑھا تو انہوں نے ان جتھوں کو بھی ختم کرنا شروع کردیا۔ ان ہی میں سے اک جتھہ امیر خان     (وفات۱۸۳۴ء)  کا تھا کہ جس نے انگریزوں سے صلح کرکے ٹونک کی ریاست لے لی۔ لہذا اس صورت حال نے مسلمان فوجیوں میں بے روزگاری کو پیدا کیا ان فوجیوں کے ساتھ ان مولویوں اور علماء کا طبقہ تھا جو مدرسوں سے فارغ التحصیل ہوکر نکل رہے تھے اور جن کے لئے ملازمتوں کے مواقع محدود تھے۔

ان حالا ت میں کہ جب معاشرے کو  سدھارنے   کے تمام وسائل ختم ہوچکے تھے حکومت ہاتھوں سے نکل چکی تھی۔ جاگیروں پر قبضہ کمزور پڑ چکا تھا، اس وقت عدم تحفظ کا احساس دل میں جاگزیں تھا، ذہن کھوکھلا اور  خیالات   پراگندہ تھے، مستقبل سے مایوسی تھی، اس لئے اگر اس زوال اور مایوسی کے دور میں کوئی ایسی تحریک  اٹھے  کہ  جس میں مستقبل کی امید ہو اور جس میں حالات کو سدھارنے کی خوش خبری ہو  تو   یہ      مایوس دلوں میں ایک نیا ولولہ ، جذبہ اور جوش پیدا کردیتی ہے۔ماضی کا شاندار تصور ہمیشہ انسان کے ذہن میں زندہ و تابندہ رہتا ہے اور یہ قصہ کہانیوں  کے  ذریعے    نسل درنسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔ وہی جذبات احیاء کی تحریکوں کو تقویت دیتے ہیں۔

اس لئے سید احمد شہید کی تحریک نے اس بے مقصدیت کے ماحول میں لوگوں کو ایک مقصد دیاا ور متوسط طبقے کی زندگی میں جو ایک خلا تھاا سے پر کیا۔ ان کے معتقدین کی اکثریت کا تعلق متوسط طبقے سے جو شہروں اور قصبوں میں رہتے تھے۔ انہوں نے جگہ جگہ سید احمد شہید کا استقبال کیا اور ان کی دعوتیں کیں، اور ان موقعوں پر سید احمد اور اسماعیل شہید کے وعظوں کے ذریعے لوگوں میں جوش و خروش پیدا کرنے کی کوشش کی۔ کیوں کہ لوگوں کی زندگی روزمرہ کے معمولات سے آگے نہیں بڑھی تھی۔ اس تحریک نے اس جمود کو توڑا اور اس میں شمولیت کے ذریعے انہوں نے خود کو عملی طور پر ایک بڑے مقصد کے لئے تیار پایا۔ اس تحریک نے  ان  میں دوبارہ سیاسی طاقت حاصل کرنے کی آرزو کو پیدا کیا۔ علماء اور متوسط طبقے کے لوگ اس امید  پر  اس  میں  اس  لئے شامل ہوئے تاکہ وہ اپنی مرضی کی حیثیت کو دوبارہ بحال کرسکیں۔

ہر تحریک کا سربراہ اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ اپنے پیروکاروں کی ایک برادری تشکیل دے اور ان میں رسومات اور نظریات  کے ذریعے ایسا جذبہ پیدا کرے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہوجائیں۔ ان کی کوشش یہ تھی کہ مسلمانوں کی شناخت کو اس طرح سے اجاگر کیا جائے کہ ان سے نہ صرف ہندو رسومات خارج ہوں بلکہ شیعہ عقا ئد اور صوفیانہ اثرات کا بھی خاتمہ ہو، تاکہ وہ متحد ہو کر جدوجہد کرسکیں۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ یہ جدوجہد کس کے خلاف ہو؟ اس مرحلے پر یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا ہندوستان انگریزی قیام کے بعد دارالحرب ہے یا دارالسلام…!  اگرچہ اس وقت  مغل بادشاہ ہندوستان کا سربراہ تھا لیکن عملی طور پرکنٹرول ایسٹ انڈیا کمپنی کا تھا، انتظامیہ اس کے ماتحت تھی اور اسی کے احکامات کا نفاذ ہوتا تھا ۔اگرچہ کمپنی کی حکومت میں مسلمانوں کو پور ی مذہبی آزادی تھی مگر اس مذہبی آزادی کے باوجود کچھ علماء کے نزدیک ہندوستان دارالحرب بن گیا تھا، کیونکہ دارالحرب بننے میں یہ تھا کہ کا کافرانہ رسومات کو بغیر خوف اور جھجک کے نافذ کیا جائے اور ایسی صورت حال پیدا ہوجائے کہ کوئی مسلمان اور ذمی امن و امان کے ساتھ نہ رہ سکے۔ اور مسلمان اگر زمیوں کے حقوق کی حفاظت نہ کرسکے تو اس صورت میں وہ علاقہ دارالسلام رہے گا جب تک کہ مسلمان مغلوب نہ ہوجائے اور کافر فتح یاب نہ ہوجائیں۔ اس کے بعد اگر کافر مسلمانوں کو مذہبی آزادی دے دیں اور انہیں امن و امان سے رہنے دیں ، تب بھی وہ علاقہ دارالحرب رہے گا۔ اس لئے ہندوستان دارالحرب تو تھا مگر چونکہ مسلمانوں کو مذہبی آزادی تھی اس لئے ان کے علاقے سے ہجرت ضروری نہیں تھی۔

اس کے برعکس کچھ علماء کا یہ خیال تھا کہ جب تک کوئی اسلامی قانون اور رواج باقی   رہتا    ہے   اس وقت تک علاقہ دارالسلام ہے، یہ دارالحرب اس وقت بنتا ہے جب کہ اسلام کو اس علاقے سے بالکل مٹا دیا جائے۔اس سے یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ اگر کوئی علاقہ دارالحرب ہے تو اس میں مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس علاقے میں ہجرت کر جائے جو کہ دارالسلام ہے یا    وہ جہاد   کریں اور اس کے ذریعے دارالحرب کو دارالسلام بنائیں۔ شاہ ولی اللہ کی دلیل تھی کہ دارالحرب سے دارالسلام ہجرت کرنا لازمی ہے جو ایسا نہیں کرے گا ۔ وہ گناہ کا مرتکب ہوگا۔ جب جاٹوں، سکھوں اور مرہٹوں نے مغل علاقوں پر قبضہ کرلیا تو انہیں باغی سمجھا گیا اور مقبوضہ  علاقے دارالسلام  رہے۔ اس طرح شاہ ولی اللہ کے نقطہ نظر سے ہندوستان میں مسلمانوں کی جنگیں جہاد تھیں اور خود مختار ہندو ریاستیں باغی تھیں۔ انھوں نے ان باغی ریاستوں کے ساتھ جنگ کو جہاد کہنا چھوڑ دیا تو اس کا مطلب ہے کہ مسلمان گائے کی دموں کے پیچھے چلے گئے یعنی ہندوؤں کے ساتھ تعاون کیا۔(۲۵)

سید احمد شہید کے زمانے میں صورت حال یہ تھی کہ ہندوستان میں برطانوی راج تھا ، مسلمان ریاستوں کے حکمران برطانوی حکومت کے وفادار تھے، اور مسلمانوں کا کوئی امام اور خلیفہ نہیں تھا کہ جو جہاد کا اعلان کرتا۔ اس لئے فیصلے کا اختیار مسلمان معاشرے کے مختلف طبقوں کو تھا، اس لئے جنہیں برطانوی اقتدار سے فائدہ تھا نہوں نے اسے دارالسلام قرار دیا اور جنہیں نقصان ہوا تھا انہوں نے دارالحرب ۔ سید احمد اور فرائضی تحریک کے پیرو کاروں کے لئے ہندوستان دارالحرب تھا اور اس لئے مسلمانوں کے لئے جہاد لازمی تھا ۔۔(۲۶)

”صراط مستقیم” میں کہا گیا ہے کہ:

                                ”موجودہ ہندوستان کا بڑا حصہ دارالحرب بن چکا ہے، اس کا مقابلہ دو سو تین سو برس پہلے کے ہندوستان سے کرو آسمانی برکتوں کا کیا حال تھا۔”(۲۷)

اس بیان میں ان کااشارہ عہد سلاطین اور مغل دور حکومت کی جانب تھا جب ہندوستان میں مسلمان حکومت سیاسی و فوجی لحاظ سے طاقت ور تھی اور ہندوؤں کے مقابلے میں وہ برابر کامیاب ہورہی تھی۔ خراج کی آمدنی اور ٹیکسوں کی بہتات تھی، ارباب اقتدار خوش حال اور فارغ البدل تھے۔ لیکن کیا اس عروج کے زمانے میں مسلمان عوام جن میں کسان، کاشت کار اور دست کار شامل تھے، بھی خوش حال تھے؟ اس سوال کا جواب اس کتاب میں نہیں ملتا ہے ،کیونکہ اس کے مخاطب مسلمان امراء اور جاگیردار تھے جو کہ مرہٹوں، سکھوں، جاٹوں اور انگریزوں  کے   اقتدار      میں آنے کے بعد مراعات و فوائد سے محروم ہوگئے تھے اس لئے ان میں جہاد کے فوائد بیان کرکے انہیں متحرک کرنے کی کوشش کی گئی اور لکھا کہ :

                          “آسمانی برکتوں کے سلسلے میں روم اور ترکی سے ہندوستان کا مقابلہ کرکے دیکھ لو۔”(۲۸)

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت ہندوستان کے مسلمانوں کی دنیا کی تاریخ و جغرافیہ اور خود اسلامی ممالک کے بارے میں معلومات محدود تھیں، ترکی اور روم دو ملک نہیں ، ایک ہی ملک تھا جو اس وقت سلطنت عثمانیہ کہلاتا تھا۔ انیسویں صدی میں ترکی ایک زوال پذیر سلطنت تھی جو خود  اپنے   گناہوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی۔ لیکن ہندوستان کا مسلمان جو سلطنت عثمانیہ سے ناواقف تھا، اس کے لئے وہاں خدا کی رحمتوں کا نزول ہورہا تھا۔

چونکہ سید احمد کی تحریک کی بنیاد جہاد پر تھی اس لئے صراط مستقیم میں اس پر تفصیل سے لکھا گیا ہے تاکہ لوگوں میں جذبہ پیدا ہو۔

                  ”باقی رہے خصوصی فوائد تو شہدائے مومنین، مسلمان مجاہدین، صاحب اقتدار سلاطین اور میدان کارزا ر کے جو مردوں کو فوائد پہنچتے ہیں۔ ان کی تفصیل کی ضرورت نہیں “۔(۲۹)

جب جہاد کے لئے عمل کا وقت آیا تو اس وقت مسلمان والیان ریاست اور جاگیر  دار    طبقے نے ان کی مالی امداد تو کی مگر جہاد کے لئے ان کے ساتھ جانے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ ان  کے  ساتھ   جو   ۷ ہزار مجاہدین کی تعداد تھی ان میں اکثریت علماء کی تھی یا پھر متوسط طبقے کے لوگ تھے جو اس امید میں شامل ہوئے تھے کہ انہیں ثواب اوار مادی فوائد دونوں حاصل ہوں گے۔ ان کی تحریک کی کچھ والیان ریاست نے ضرور مدد کی جن میں ٹونک، رامپور، اور گوالیار کی ریاستیں قابل ذکر ہیں اور یہ امداد انہوں نے یقیناً اس وجہ سے کی کہ  انہیں انگریزی حکومت کی ناراضگی کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ ورنہ ان میں سے کوئی بھی انگریز کی مرضی کے بغیر انہیں  مالی مدد نہ دیتا۔

ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے کہ آخر انہوں نے سکھوں سے جہاد کا فیصلہ کیوں کیا؟ اس کے پس منظر میں کئی وجوہات تھیں ، انگریزی عمل داری میں وہ جہاد اس لئے نہیں کرسکتے تھے کہ انگریز سیاسی لحاظ سے طاقت ور تھے اور ان کے خلاف کامیابی کے کوئی امکانات نہیں تھے اور نہ انگریزوں کے خلاف جہاد میں انہیں کسی قسم کی مالی امداد مل سکتی تھی۔

سکھوں کے خلاف جنگ کے لئے انہوں نے سرحد کے علاقے کو اس لئے اختیار کیا کہ شمالی ہندوستان میں پٹھانوں کے بارے میں عام تاثر ہے کہ وہ بڑے مذہبی جنگ جو، اور مذہب کی خاطر   جان   دینے  والے ہوتے ہیں۔ اس لئے سید احمد اور ان کے پیرو کاروں کا شاید یہ خیال ہو کہ چونکہ ان کی تحریک خالص مذہبی ہے۔ اس لئے جیسے ہی وہ اپنا منصوبہ ان کے سامنے رکھیں گے پٹھان فوراً ان کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہوجائیں گے اور ان کی مدد سے وہ سکھوں کے خلاف موثر طور پر لڑ سکیں گے۔ چونکہ یہ جنگ مذہب کے لئے ہوگی، اس لئے پنجاب کے مسلمان بھی ان کا ساتھ دیں گے۔

جہاد تحریک میں جو لوگ شامل تھے ان میں جوش ، ولولہ، اور سادگی تھی اور انہیں یہ امید تھی جس طرح قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے اپنی قلیل تعداد کے باجود عراق و ایران  کو   فتح                    کرلیا تھا اسی جذبے کے تحت وہ بھی سکھوں کو شکست دے دیں گے اور جس طرح بکھرے ہوئےعرب قبائل مذہبی طور پر متحد ہوگئے تھے اسی طرح پٹھان قبائل بھی ایک جگہ جمع ہوجائیں گے۔

اسی لئے سید احمد شہید نے سکھوں کے خلاف جہاد کو ایک مرکز بنایا تاکہ اپنے پیروکاروں کو  اس   پر    جمع کرسکیں، انہوں نے سکھوں سے جنگ کو ایک الہیٰ حکم قرار دیا جس  کا  اظہار انہوں نے اپنے ایک مکتوب میں اس طرح سے کیا ہے۔

”اس فقیر کو پردہ غیب سے کفار یعنی لانبے بالوں والے سکھو ں کے استیصال کے لئے مامور کیا گیا ہے                   جس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ، رحمانی بشارتوں کے ذریعے نیک کردار مجاہدین کو ان پر غلبہ پانے کی                    بشارت دینے والا مقرر کیا گیا ہے لہذاٰ جو شخص آج اپنی جان و مال عزت اور وجاہت کو اس پاک پروردگار کے               کلمے اور سنت رسول کو زندہ کرنے میں بطیب خاطر خرچ نہیں کرے گا اس سے کل ضرور جبراً   مواخذہ کیا جائے گا اور اس کو سوائے حسرت و ندامت کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔”(۳۰)

سکھوں سے جہاد کا جواز فراہم کرنے کے لئے جو باتیں کہی گئیں ہیں وہ اس قسم کی تھیں کہ وہاں مسلمانوں کو  مذہبی   آزادی نہیں ، مساجد میں گھو ڑے باندھے  جاتے ہیں،   اذانیں بند ہیں ، قرآن کی بے حرمتی کی جاتی ہے اور سکھوں نے مسلمان عورتوں کو زبردستی اپنے گھروں میں ڈال رکھا ہے۔ ان میں سے کچھ باتیں صحیح تھیں اور متعصب سکھوں کی جانب سے مذہبی تعصب کا اظہار ہوتا ہے۔ لیکن بحیثیت مجموعی رنجیت سنگھ کی حکومت میں رواداری کا جذبہ تھا اس کی انتظامیہ اور فوج میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد تھی، ان کے مذہبی معاملات میں حکومت مداخلت نہیں کرتی تھی اور ان کے فیصلے شریعت کے مطابق ہوتے تھے۔ اس لئے پنجاب کے مسلمانوں نے  سید احمد   شہید    کا ساتھ نہیں دیا، اس کے برعکس سکھوں کی فوج میں مسلمانوں بڑی تعداد میں تھے جو ان سے جنگ لڑے، بلکہ ساتویں جنگ میں درانی پٹھان زیادہ تھے اور سکھ بہت کم تھے۔۔(۳۱)

سید احمد شہید اور ان کے ساتھیوں نے ۱۸۲۵ میں اپنا سفر شروع کیا، اور راجپوتانہ ، مارواڑ، سندھ ،    بلوچستان    اور افغانستان سے ہوتے ہوئے سرحد کے علاقے میں داخل ہوئے اور یہاں سے انھوں نے رنجیت سنگھ کو یہ پیغام بھیجا کہ یا تو مسلمان ہو جاؤ، جزیہ دو یا جنگ کرو اور یہ یاد رکھو کہ جنگ کی صورت میں یاغستان ہندوستا ن کے ساتھ ہے۔

سید احمد کی پہلی جنگ ۲۱ دسمبر ۱۸۲۶ کو بقام اکوڑہ ہوئی اور اس میں نہ صرف انہیں کامیابی ہوئی بلکہ مال غنیمت بھی ہاتھ آیا، اس کامیابی نے ان کے حوصلے بڑھا دئے اور سرحد کے قبائل میں اس فتح نے ان کے اثر و رسوخ کو بڑھا دیا۔ اس لئے یہ فیصلہ ہوا کہ انتظامات اور دوسرے امور کے لئے باقاعدہ تنظیم ہو تاکہ شریعت کے مطابق باقاعدہ فیصلے کئے جائیں۔ اس کی روشنی میں ۱۱ جنوری ۱۸۲۷ء کو آپ کے ہاتھ پر بیعت کی گئی اور آپ کو امیر المومنین منتخب کرکے خلیفہ کے خطاب سے پکارا جانے لگا۔

احیاء کی تحریکوں میں ہمیشہ اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ ماضی کے قدیم ڈھانچہ کو دوبارہ تشکیل دیا جائے اور قدیم الفاظ اور اصطلاحات کا استعمال کیا جائے۔ اس لئے امیر المومنین ، خلیفہ، امام، مجلس شوریٰ ، اور بیت المال     کی اصطلاحات کا استعمال ہوا ۔ سید احمد نے اپنے پیروکاروں میں حوصلہ پیدا کرنے کی غرض سے اپنے ہاتھ ہونے  والے     واقعات کو قدیم اسلامی تاریخ سے تشبیہ دی۔ مثلاً وینٹورا سے ایک جنگ کے موقع پر انہوں نے دفاع کے لئے ایک دیورا تعمیر کرائی اور اس معرکے کو غزوہ  خندق سے تشبیہ دی۔

سید احمد کے دعوی  امامت نے نہ صرف سرحد میں انکی مخالفت کو ابھار ا بلکہ ہندوستان     میں بھی ان کے اس دعوے کو شک وشبہ سے دیکھا گیا۔ جب خطبے میں ان کا نام بحیثیت خلیفہ اور امام پڑھا گیا تو سرحد کے سرداروں پر یہ بات واضح ہوگئی کہ وہ ان کے علاقے میں اپنی حکومت  قائم  کرکے انہیں اقتدار اور سرداری سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے اپنے خطوط میں جو انہوں نے ہندوستان اور دوسرے مسلمان حکمرانوں کو لکھے اس بات کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کا مقصد دنیاوی حکومت نہیں بلکہ کافروں سےجہاد کے لئے امام بننے پر تیار ہوئے    ہیں، خط میں لکھتے ہیں کہ:

                “اللہ کا شکر اور احسان ہے کہ اس مالک حقیقی اور بادشاہ حقیقی نے اس گوشہ نشین فقیر عاجز اور خاکسار کو پہلے تو غیبی اشاروں اور اپنے الہامات کے ذریعے جن میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں خلافت کا اہل ہونے کی بشارت دی۔ دوسرے یہ کہ مسلمانوں کی بڑی جماعت اور خاص و عام کی تالیف قلوب کے لئے مرتبہ امامت سے مجھ کو مشرف فرمایا۔”(۳۲)۔

سید احمد شہید نے مخالفوں پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ:
“لہذا جناب والا کی اطاعت تمام مسلمانوں پرلازمی ہے، جو شخص جناب والا کی امامت کو ابتداء میں قبول نہ کرے یا قبو ل کرنے کے بعد اس سے انکار کرے تو یہ سمجھ لیجئے کہ وہ باغی ، مکار ، فریبی اور اس کا قتل کرنا  کافروں  کے قتل کی طرح عین جہاد ہے۔۔۔ پس معترضین کے جوابات اس خصوص میں اس عاجز کے پاس تو ان کو تلوار کے گھاٹ اتارنا ہے نہ کہ تحریر و تقریر سے(انہیں جوابات دینا ہے) “۔ (۳۳)

اپنی امامت کے بارے میں سید احمد نواب وزیر الدولہ والی ٹونک کو لکھا کہ :

“آپ اس کو بالکل یقین جانیں ،جو شخص دل سے میرے اس منصب کا اقرار کرتا ہے وہ مقبول بارگاہ لم یزل ہے اور جو شخص انکار کرتا ہے وہ بے شک اس حق جل شانہ کے پاس مردود ہے۔۔۔ میرے مخالفین کو جو میرے اس عہدے سے انکار کرتے ہیں، ان کو ذلت و رسوائی ہوگی۔”(۳۴)

سید احمد کے سیاسی اور مذہبی اقتدار نے سرحد میں ان کی زبردست مخالفت پیدا کردی۔ کیونکہ انہوں نے اچانک سرحد آکر وہاں کے پورے سیاسی ڈھانچے کو بدل ڈالا جس کے لئے سردار بالکل تیا ر نہ تھے۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ پٹھان سردار اور عوام شمالی ہندوستان سے آنے والے غیروں اور اجنبیوں کو اپنا حکمراں تسلیم کرنے پر تیار نہ تھے، اس لئے اگرچہ ان کے معرکے سکھوں سے رہے، لیکن بہت جلد وہ سکھوں سے زیادہ پٹھان سرداروں سے مصروف جنگ ہوگئے۔ اور جب ان میں سے کچھ نے ان کی اطاعت نہیں کی تو انہیں منافق،  ضعیف الاعتقاد  اور  ملعون کہنا  شروع کردیا۔ سرحد کے سرداروں کا اپنا یہ نقطہ نظر تھا کہ وہ سید احمد کی مدد سے سکھوں کو نکال کر اپنی خودمختار ی بحال کرلیں گے۔ مگر جب انہوں نے  خود کو امام اور خلیفہ منتخب کرلیا تو ان کے لئے ان میں اور سکھوں میں کوئی فرق  نہ  رہا ۔ اگرچہ سید احمد شہید خود کو ایک برتر مذہبی مقام پر فائز سمجھتے تھے ۔انہیں فتح    کی     خوش خبری ،  مال غنیمت کے حصول اور رحمت الہیٰ کی برکتوں کا ذکر کرتے تھے، مگر سرداروں کے لئے ان سے زیادہ اقتدار عزیز تھا جو وہ اس طرح سے ان کے حوالے کرنے پر تیار نہ تھے، پٹھان سردار مولویوں کو کسی بھی صورت برتر سماجی حیثیت دینے پر تیار نہ تھے، خادی خان، ایک پٹھان سردار کے مطابق ریا ست کی دیکھ بھال کرنا سرداروں کا کام ہے، ملا  زکوٰۃ اور خیرات کے کھانے والے ہیں اور انہیں ریاست کے معاملات کا شعور نہیں ۔۔ (۳۵)

اس مخالفت کے بعد سید احمد کے لئے ضروری ہو گیا کہ پہلے وہ اپنی بنیادوں کو محفوظ کریں اور جب ان کا تمام علاقے پر تسلط ہوجائے تو وہاں اسلامی نظام نافذ کرکے شریعت کو قائم کریں اس طرح ان کی پوری جہاد تحریک  ، خانہ جنگی میں بدل گئی۔ چناچہ جب سرحد کے سرداروں کے خلاف معرکوں کا سلسلہ شروع ہوا تو انہوں نے ان کے علاقوں پر حملے کو اس لئے جائز کہا کہ وہاں فسق و فجور تھا۔ لوگ شرع سے ہٹے ہوئے تھے اور ان میں جاہلیت کی رسومات تھیں۔ ان حالات میں امام کے لئے یہ لازمی ہوجاتا ہے کہ ایسے ملک پر لشکر کشی کرکے ان کا فرانہ  رسومات  کا  خاتمہ  کرے۔ اس کے ثبوت میں امیر تیمور کا وہ فتویٰ دیا گیا کہ جس میں اس وقت کے علماء نے ہندوستان  پر  حملے کو جائز قرار دیا تھا۔ اس فتوے کے تحت ایسے ملک پر حملہ کرنا کہ جہاں کافرانہ رسومات ہوں جائز ہے۔ چاہے وہاں کا حکمراں مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔ ایسے ملک میں فوج کا لوگوں کو قتل کرنا اور مال غنیمت و دولت لوٹنا بھی جائز  ہے۔(۳۶)

اس سلسلے میں پہلی لڑائی یار محمد خاں حاکم یاغستان سے ہوئی جو لڑائی میں   مارا  گیااور ۱۸۳۰ء میں پشاور پر سید احمد کا قبضہ ہوگیا۔ اس کے بعد رئیس پنجتار اور پلال قوم کا سردار ان کے مرید ہوگئے۔ لیکن سردار پابندہ خاں نے ان کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی۔ اس لئے اس پر کفر کا فتوی ٰ لگا دیا گیا اور کے خلاف جہادکیا گیاجس میں اس کی شکست ہوئی۔  خادی  خاں ، رئیس ہند کے خلاف اس لئے اعلان جنگ کیا گیاکہ اس نے بیعت کے بعد ان کے خلاف بغاوت کی تھی، اس لئے وہ واجب القتل ہوا۔ قتل کے بعد اس کی نمازہ جنازہ پڑھانے سے بھی انکار کردیا، جس پر پٹھان مولویوں نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔

پشاور کی فتح کے بعد انہوں نے شریعت کے نفاذ کے لئے ایک پرتشدد پالیسی کا آغاز کیا اور وہ تمام قبائلی رسومات جو ان کے نزدیک غیر شرعی تھیں ان کے خاتمے کا اعلان کیا۔ ان رسومات میں اہم یہ تھیں: شادی کے لئے بیوی کی باقاعدہ قیمت ادا کی جاتی تھی۔ مرنے والے کی بیویاں اس کے وارثوں میں تقسیم ہوتی تھیں ۔  چار سے زیادہ شادیوں کا رواج تھا، عورت جائداد کی وارث نہیں ہوسکتی تھی، آپس کی جنگیں جہاد تصور کی جاتی تھیں اور لوٹ کا مال، مال غنیمت میں شمار ہوتا تھا۔لہٰذا پشاور کی فتح کے بعد یہ احکامات ہوئے کہ جن لوگوں نے اپنی بیویوں کی آدھی رقم بھی دے دی ہے وہ انہیں لے جائیں، جو عورتیں شادی کے قابل ہیں ان کی فوری شادی کردی جائے، شرعی احکام کے نفاذ کے لئے انہوں نے امام قطب الدین کو محتسب مقرر کیا جن کے ساتھ ۳۰ مسلح سپاہی رہا کرتے تھےاور وہ ان کے ہمراہ قرب و جوار کے دیہاتوں میں جاکر ان افغان جوانوں کو مارا پیٹا کرتے تھے   جنہوں    نے نماز ترک کردی تھی۔مارنے پیٹنے اور کوڑے مارنے کا یہ عالم ہوگیا تھا کہ اگر کوئی ہندوستانی دیہات میں چلا جاتا تو وہاں افراتفری اور بھگدڑ مچ جاتی تھی۔ سزا دینے کے معاملے میں انتہائی تشدد سے کام لیا گیااور یہاں تک ہوا کہ لوگوں کو درختوں کی شاخوں پرلٹکا  دیا جا تا تھا۔ عورتوں میں بھی جو نماز چھوڑ دیتی تھیں انہیں زنان خانے میں سزائیں دی جاتی تھیں، اس لئے بہت جلد لوگ ان سے تنگ آگئے کیوں کہ یہ قاضی و محتسب  حد سے زیادہ لوگوں کو تنگ کرنے لگے اور ان کی استطاعت سے زیادہ ان پر جرمانے عائد کرنے لگے۔(۳۷)

جس چیز نے سرحد کے علماء کو ناراض کیا وہ سید احمد اور مجاہدین کا عشر وصول کرنا تھا کیونکہ اس کے حقدار اب تک سرحد کے علماء تھے۔ مجاہدین کا کہنا تھا کہ اس کا حقدار امام ہوتا ہے اور وہ اسے   بیت   المال    میں جمع کرکے مستحقین میں تقسیم کرتاہے۔ چونکہ اس سے سرحد کے علماء کی روزی پر اثر پڑا، اس لئے وہ ان کے زبردست مخالف ہوگئے۔ یہ مخالفت بعد میں ان کے عقائد کیوجہ سے اور بڑھ گئی چونکہ آمین  الجہد (زور سے آمین کہنا) اور رفع یدین (نماز میں ہاتھ اٹھانا) ان کے عقائد میں شامل تھے۔ اس کے علاوہ ہندوستان میں ان کے مخالف علماء نے ان کے پاس  محضر  نامہ    بھیجا کہ سید احمد انگریزوں کے ایجنٹ ہیں اس لئے ان سے ہوشیار رہاجائے، ان تمام باتوں نے ان کی حیثیت کو بڑا کمزور کردیا ۔(۳۸)

علماء سرداروں اور عام لوگوں میں اس وقت بے چینی پھیلنا شروع ہوئی کہ جب مجاہدین نے کہ جن کی اکثریت اپنے اہل و عیال کو ساتھ نہیں لاتی تھی پٹھانوں میں زبردستی شادیاں کرنا شروع کردیں۔یہاں تک ہوا کہ کوئی لڑکی جارہی ہے اور کسی مجاہد نے اسے پکڑ لیا اور مسجد لے جاکر زبردستی نکاح کرلیا۔ ایک ہندوستانی   نے جب اس طرح سے ایک خوشیکی سراد ر لڑکی سے شادی کی تو اس نے اپنے مخالف خٹک قبیلے کے سردار سے درخواست کی کہ اس کی مدد کرے ، اس پر خٹک سردار نے قبیلے کے سامنے اپنی لڑکی کا دوپٹہ اتار کر یہ عہد کیا کہ وہ جب تک پٹھان کی عزت کا بدلہ نہیں لے گا چین سے نہیں بیٹھے گا۔(۳۹)

ستم بالائے ستم یہ کہ جن خاندانوں کی لڑکیوں کی شادیاں ان ہندوستانیوں میں ہوئی تھیں  انہیں  دوسرے پٹھان طعنے دیتے تھے کہ تم نے کالے کلوٹے ہندوستانیوں میں شادی کردی، اس پر ان طعنہ دینے والوں کو مجاہدین  نے سزائیں دیں۔(۴۰)

یہ وہ وجوہا ت  تھیں کہ سرحد کے علماء ، سردار اور عوام ان کے مخالف ہوگئے اور انہوں نے ایک منصوبے کے تحت تمام مجاہدین کو جو پشاور اور اس کے گردو نواح میں انتظامی امور پر فائز تھے قتل کردیا۔

اس واقعہ کے بعد سید احمد کشمیر جانا چاہتے تھے، مگر اس سے پہلے ان کا آخری معرکہ سکھوں سے ہوا  اور ۱۸۳۱ء  میں وہ ان کے ساتھی بالاکوٹ کے مقام پر شہید ہوئے۔

سید احمد کی تحریک جہاد کا اگر تنقیدی جائزہ لیا جائے تو اس کی بنیادی کمزوریوں کا اندازہ  لگایا جاسکتا ہے۔ سرحد کے علاقے کو اپنا مرکز بنانے سے پہلے نہ تو سید احمد نے اور نہ ان کے پیروکاروں نے اس علاقے کے جغرافیہ کو سمجھا نہ اس کی تاریخ کو، اور نہ قبائل کی تشکیل، ان کی روایات و رسومات اور ذہن کو، نہ انہوں نے ان کی زبان سیکھی اور نہ ان کے طور طریق۔ نہ انہوں نے اس بات کا ادراک کیا کہ مذہب سے زیادہ لسانی اور قبائلی رشتے   مضبوط ہوتے   ہیں۔ اور وہ شمالی ہندوستان سے آنے والوں کو کسی بھی صورت اپنا حکمران نہیں بنائیں گے۔ کیونکہ مذہب ایک سہی، مگر ثقافتی اختلافات ان کو ایک دوسر ے کے قریب کرنے میں رکاوٹ بنے رہے۔ ان کے ساتھ جو مجاہدین اور رضاکار آئے تھے ان کی مدد سے قبائل کو شکست دے کر وہاں بزور طاقت حکومت قائم کرنا مشکل تھا اس لئے ان کی سرگرمیوں کو پٹھانوں نے شروع ہی سے شک و شبہ سے دیکھا اور ان کے لئے یہ سمجھنا یقیناً  مشکل ہوگا کہ یہ لوگ ہندوستان سے جہاد کرنے یہاں کیوں آئے ہیں ! اس کا احساس اسماعیل شہید کو ہوا جس کا اظہار انہوں نے اس طرح سے کیا:

                    “اس علاقے میں آکر ایسا معلوم ہو ا کہ اگرچہ طویل مدت میں خدا کی  مہربانی  مقصود                        حصول متوقع ہے ۔ لیکن ابھی اس نواح میں لشکر آنے  کا  وقت نہیں آیا تھا۔ ابھی تو اس کی ضرورت تھی کہ فدوی چند خدمت گاروں کے ساتھ اس نواح میں آتا اور دیہاتوں اور بستیوں  کاخفیہ اور اعلانیہ دورہ کرتا ۔ جب اس علاقے کے  روسا ء تیارہوجاتے اور لشکر کے قیام                   کے لئے کوئی جگہ معین ہوتی تو اس وقت لشکر اسلام رونق افزا ہوتا۔  یا  ابتداء   ہی میں ایک  بڑا لشکر جرار                 یہاں کا رخ کرتا اور یہاں کے باشندوں کی موافقت یا مخالفت کے قطع نظر کرتے ہوئے علم جہاد بلند کرتا اور بغیر کسی تردد اور دغدغہ کے کفار و منافقین پر دست اندازی کرتا ،   پھر جو  مخالفت کرتا سزا پاتا۔”(۴۱)

اس کے علاوہ  ان کے ساتھ جو لوگ آئے تھے وہ سب دین کی خاطر جہاد کرنے والے نہیں تھے ان میں ایسی تعداد بھی تھی جو محض لوٹ مار کی غرض سے آتی تھی۔ کیونکہ ان میں وہ فوجی بھی شامل تھے جو امیرخان کی فوج کاایک حصہ تھے ، جنگ کرنا ان کا پیشہ تھا اور اس کے ذریعہ وہ دولت اکھٹی کرتے تھے۔ جب ہندوستان میں مہم جوئی کے مواقع ختم ہوگئے تو وہ اس امید میں آئے کہ دین کی خدمت بھی ہوگی اور مال غنیمت بھی ملے گا۔

اس کے ساتھ ہی اس بات کے شواہد بھی ملتے ہیں کہ جہاد میں حصہ لینے والوں کی کوئی فوجی تربیت نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی ان میں نظم و ضبط تھا۔ فوجی اخراجات اور اسلحہ کے لئے انہیں ہندوستان  کے چندوں پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ ابتداء  میں لوگوں نے خوب چندہ دیا مگر جب کامیابی کے امکانات کم ہوئے تو اسی طرح سے چندے میں کمی آتی گئی۔

اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ تحریک محض مذہبی جوش کے سہارے شروع ہوئی تھی اور اسے مفروضوں پر تشکیل دیا گیا تھا جو حقیقتیں تھیں انہیں نظر انداز کردیا گیا تھا ۔تحریکیں محض جوش اور تشدد اور تعصب و سختی  سے کامیاب  نہیں ہوتی ہیں۔ اور اس کے نتیجے میں معاشرے کی قوت و توانائی ضائع ہوتی ہے۔

سید احمد شہید کی تحریک نہ تو سکھو ں کے خلاف کوئی کامیابی حاصل کرسکی اور نہ سرحد  میں  اسلامی معاشرے کا قیام  ممکن ہوسکا ۔ جب ۱۸۴۹ ء میں پنجاب پر انگریزوں کا قبضہ ہوا تو انہوں نےسختی سے اس تحریک کو ختم کردیا اور ان پر ۱۸۷۰ء تک وہابی مقدمات چلائے گئے جن میں ملوث علماء کو مختلف سزائیں دی گئیں۔ آخر میں مولوی محمد حسین بٹالوی  نے اس کو اہلحدیث کا نام دے کر انگریزی حکومت سے مصالحت کرلی، اوار جہاد کی مخالفت میں ایک رسالہ بھی لکھا۔

سید احمد کی تحریک کی چند خصوصیات یہ تھیں کہ یہ مکمل طور پر ایک ہندوستانی تحریک تھی۔ اور اس کا تعلق باہر سے نہیں تھا اور نہ یہ بیرونی امدار پر چلی ۔ اس تحریک کے لئے تمام چندہ ہندوستان ہی سے جمع ہوا کرتا تھا، اس کی وجہ سے ہندوستان میں مسلمان معاشرے میں علیحدگی کے جذبات پیدا ہوئے اور مغل ثقافت جو سیکولر ثقافت کے طور پر ابھر رہی تھی، اس تحریک نے اس کے پھیلاؤ اور اس کی ترقی کو روکا۔

اس تحریک کا اثر یہ ہوا کہ اس کے بعد علماء نے جہاد کی بجائے تبلیغی مشن شروع کئے اور اپنے اثر و رسوخ  کے  لئے  مدرسے اور درس گاہیں قائم کیں اس تحریک نے     ہندوستان کے علماء کے طبقے میں بھی گہرے اختلافات  پیدا کیے اور یہ اختلافات مناظروں اور وعظوں کی صورت میں اور زیادہ شدید ہوتے چلے گئے۔ اس لئے علماء اور ان کے پیرو کاروں کی جماعتوں نے اس تحریک سے قطعی  لاتعلقی  کا  اظہا رکیا اور یہاں تک ہوا کہ ان کی  شکست پر خوشیاں منائی گئیں اور اس تحریک کا انجام بھی وہی ہواجو اکثر احیاء کی تحریکوں کا ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں میں اتفاق و اتحاد پیدا کرنے کی بجائے ان میں تفرقہ ڈال کر خود کو ایک نئے فرقے کی حیثیت سے تشکیل دے دیتی ہیں۔ چنا نچہ  ان مذہبی تنازعوں اور اختلافات کی چھاپ اب تک مذہبی جماعتوں اور گروہوں میں موجود ہے۔

٭   Compiled by: Shahab Saqib                                         ٭

(حوالہ جات)

 

۲۵)  شاہ ولی اللہ: حجتہ البالغہ ، کراچی، ۱۹۲۶، ص ۲۸

۲۶)  پیٹر ہارڈی: ہندوستانی مسلمان کمیبرج، ۱۹۸۲، ص۱۰۹

۲۷)  صراط مستقیم: ص ۴۹

۲۸)  ایضاً: ص ۵۰

۲۹)  ایضاً:  ص ۵۱

۳۰)  جعفر تھایسری: مکتوبات سید احمد شہید، کراچی ۱۹۴۹ء، ص ۴۴

۳۱)  حیات طیبہ: ۲۶۱

۳۲)  مکتوبات سید احمد: ص ۱۱۹

۳۳)  ایضاً: ص ۱۷۵

۳۴)  ایضاً: ص ۲۹۵

۳۵)  ابوالحسن ندوی: سیر سید احمد شہید، کراچی ۱۹۷۵ء، ص ۱۱۴-۱۱۵

۳۶)  حیات طیبہ: ص ۳۸۳-۳۸۴

۳۷)  مکتوبات سید احمد:  ص ۲۷۷-۲۸۰

۳۹)  عبیداللہ سندھی: شاہ ولی اللہ کی سیاسی تحریک، لاہور، ۱۹۵۱، ص ۹۶، ۱۰۲

۴۰)  ابوالحسن ندوی: ص ۲۱۲

۴۱)  ایضاً: ۴۶

۴۲)  حیات طیبہ: ص ۲۶۰

 

عمران خان کا تازہ انٹرویو


 بروز جمعرات آٹھ اگست کو نسیم زہرہ نے عمران خان کا ایک انٹرویو کیا جو کیپیٹل ٹی وی پر نشر ہوا۔ لالاجی نے یہ انٹرویو بڑے شوق سے دیکھا کہ عمران خان کے آزادی مارچ کے حوالے سے پروگرام کے بارے میں کوئی تفصیلات سننے کو ملیں گی مگر یہ انٹرویو دیکھنا/سننا خود کو اذیت دینے کے مترادف ہی ثابت ہوا۔ اس سے فائدہ کچھ نہ ہوا۔ 

سیدھی سی بات یہ ہے کہ عمران خان کے انتخابی نظام  پر اعتراضات بالکل بجا ہیں اور جن خامیوں کی وہ نشاندہی کرتے ہیں وہ بالکل صحیح ہیں۔ مگر عمران خان کے پاس ان خرابیوں کو دور کرنے کے لئے کوئی پروگرام نظر نہیں آتا۔ اس انٹرویو میں نسیم زہرہ پوچھتی رہ گئیں کہ آگے کیا کرنا ہے اور عمران خان مسلسل اس سوال کو ٹالتا رہا اور آخر پہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔ محض اتنا جواب کہ ۱۱ اگست کو مطالبے پیش کر دئے جائیں گے جو سب کے سب آئین اور قانون کے دائرے کے اندر ہوں گے۔ 

سوال مطالبے پیش کرنے کا نہیں ہے۔ سوال ان مطالبوں کومنوانے کے طریقے کا ہے۔ مثال کے طور پر ایک مطالبہ ہے وزیراعظم کا استعفیٰ۔ اگر وزیر اعظم استعفیٰ نہیں دیتے تو پھر کیا کریں گے۔ آئین اور قانون کے مطابق اُن کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانی ہوگی۔ مگر اسمبلی میں پارٹی پوزیشن سے یہ بات واضح ہے کہ ایسی تحریک کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ یاد رہے کہ دھرنے اور احتجاج اور ملکی نظام کو غیر فعال کردینا کسی بھی طرح آئینی اور قانونی طریقہ نہیں وزیر اعظم کو ہٹانے کا۔ 

اب اہم ایک اور ممکنہ صورت حال پر غور کر تے ہیں۔ فرض کریں کہ نوازشریف کو لگتا ہے کہ اسے استعفیٰ دے دینا چاہئے اور موجود اسمبلی ختم کر دینی چاہئے۔ آئین میں اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ وزیر اعظم صدر پاکستان سے درخواست کرے کہ اسمبلی تحلیل کر دی جائے تو صدر اس بات کا پابند ہے کہ وہ اسبملی تحلیل کر دے۔ اگر صدر یہ فیصلہ نہیں کرتا تو بھی آئین کے مطابق قومی اسمبلی دو دن بعد تحلیل تصور کی جائے گی۔ ایسے میں نئے انتخابات کا اعلان ہوگا۔ چونکہ موجودہ اسمبلی نے انتخابی اصلاحات کا کوئی قانون متعارف نہیں کروایا سو انتخابات اسی پرانے الیکشن کمیشن نے پرانے قوانین اور پرانے نظام کے تحت کرانے ہیں۔ یعنی نئے انتخابات کی صورت حال کچھ زیادہ مختلف نہیں ہوگی۔ ایسے میں زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ نئے انتخابات کے بعد ہم عمران خان کو ایک بار پھر سڑکوں پر دیکھیں گے۔ 

اس مارچ سے جو اچھی توقع وابستہ کی جاسکتی ہے وہ یہی ہے کہ اس طرح سے عوامی دباؤ پیدا کیا جائے اور انتخابی اصلاحات کے عمل کو تیز کر لیا جائے۔ مزید یہ کہ گزشتہ انتخابات کے حوالے سے دھاندلی کی تحقیقات کا سلسلہ بھی تیز کروا لیا جائے۔یہ نتائج ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ انتخابی اصلاحات کے حوالے سے پارلیمنٹ کی کمیٹی کی تشکیل ہو گئی ہے اور خوشقسمتی یہ ہے کہ تحریک انصاف کے ارکان بھی اس کمیٹی کا حصہ ہیں۔ پی ٹی آئی نے اس کمیٹی کا بائیکاٹ نہیں کیا جو کہ بہت خوش آئیند ہے۔ اسی طرح حکومت منتخب شدہ حلقوں میں دوبارہ گنتی پر بھی تیار ہو گئی ہے۔ 

تاہم عمران خان اپنے مطالبات پر بہت سخت موقف اپنائے ہوئے ہے۔ کوئی بھی اچھا سیاستدان ایسا بے لچک رویہ اختیار نہیں کرتا۔ عمران خان کا مارچ کامیاب ہو یا ناکام ہر دو صورتوں میں عمران خان کے لئے سیاسی مشکلات میں اضافہ ہی ہوگا۔ کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ عمران خان کے مطالبات کی منظوری اور ان پر عمل درآمد کی بنیاد پر ہوگا۔

عمران خان کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ اگر وہ نظام کو نہیں چلنے دے گا تو کل کو وہ وزیر اعظم بن گیا تو دوسرے بھی آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔ 

لالاجی کو عمران خان کی سیاسی مشکلات سے تو زیادہ دلچسپی نہیں لیکن اس سارے تماشے سے عوام کی مشکلات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کو بے پناہ فائدہ ہورہا ہے۔ سولین حکومت بیک فٹ پر چلی گئی ہے۔ حکومت اپنی بقا کی جنگ میں مصروف ہوگئی ہے اور قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی جیسے اہم شعبوں پر اپنا حق چھوڑ رہی ہے۔ ان دو اہم معاملات پر اگر سولین حکومت کا کنٹرول قائم نہیں ہوتا تو اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے اور بین الاقومی تعلقات کے حوالے سے پالیسیاں وہی رہیں گی جو پچھلے کئی دہائیوں سے چلی آرہی ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے اور ملکی معیشت کے بہتر ہونے کی کوئی امید رکھنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا۔ 

انٹرویو کے آخر میں عمران خان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جن افسران نے دھاندلی کی یا دھاندلی ہونے دی ان کو سزائیں دینا بہت ضروری ہے۔ لالاجی ان کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں اور یہ سوال کرتے ہیں کہ تحریک انصاف نے اپنے ایک اتحادی قومی وطن پارٹی کے وزراء پر کرپشن کا الزام لگا کر انہیں وزارتوں سے برطرف کر دیا تھا ان کے خلاف ابھی تک کوئی مقدمے کیوں کر قائم نہیں ہو سکے؟ انہیں سزائیں کیوں نہیں ہوئیں؟ عمران خان بار بار یہ دعوٰی کرتا ہے کہ ہم نےاپنی پارٹی میں الیکشن کروائے۔ پارٹی الیکشن تو کروائے مگران انتخابات پر بھی توخود پارٹی کے لوگوں نے دھاندلی کے الزامات لگائے۔ ان الزامات میں سے کتنوں کی تحقیقات ہوئیں اور کیا نتیجہ نکلا ؟ کیا ان انتخابات پر دھاندلی کے الزامات کا نتیجہ پاکستان کے قومی انتخابات پر دھاندلی کے الزامات کے نتیجے سے کسی بھی طرح مختلف ہے؟  اس وقت پارٹی کےکتنے عہدوں پر الیکشن جیت کر آنے والے لوگ فائز ہیں اور کتنے عہدوں پر عمران خان کے نامزد کردہ لوگ تشریف فرما ہیں؟ 

جب اس طرح کے سوالات کریں تو عمران خان کہتےہیں ہماری پارٹی ابھی نئی ہے، ہم سے غلطیاں ہوئیں۔ ہم آئندہ بہتر کریں گے۔ بس یہ منطق اگر پاکستان کی جمہوریت کے لئے بھی استعمال کر لیں تو مسئلہ ہی حل ہوجائے۔ پاکستان کی جمہوریت تو خان صاحب آپ کی پارٹی سے بھی عمر میں بہت چھوٹی ہے۔ ابھی ۲۰۰۸ میں ہم نے آخری ڈکٹیٹر کو بھگایا ہے۔ ۲۰۱۳ کے انتخابات پہلے انتخابات تھے جن میں ملک میں کوئی فوجی وردی پہنے ہمارے سروں پر سوار نہیں تھا۔ 

اسی طرح ان انتخابات میں ایک اور دھاندلی بھی ہوئی جس کی طرف عمران خان صاحب نے کبھی اشارے کنایے میں بھی بات نہیں کی۔ وہ دھاندلی یہ تھی کہ تمام سیاسی پارٹیوں کو الیکشن سے پہلے اپنی انتخابی مہم چلانے کے لئے ریاست نے ایک جیسے مواقع فراہم نہیں کئے۔ عمران خان صاحب تو بڑے دھڑلے سے شہر شہر سیاسی جلسے کر رہے تھے مگر اے این پی اور پیپلز پارٹی کو چھپ چھپ کر انتخابی مہم چلانی پڑی۔اے این پی کے جلسوں پر حملے ہوئے ۔ میاں افتخار کو اپنے بیٹے کی قربانی دینی پڑی تو بشیر بلور کو اپنی جان کی۔ خان صاحب جب دو مقابل پارٹیوں کو انتخابی مہم چلانے کی ایک جیسی آزادی نہ ہو تو اسے بھی دھاندلی کہتے ہیں۔ 

 

نصیبو لعل کو گالیاں


بات ہو رہی تھی فحاشی کی اور ایک نوعمر لڑکا بہت شدت سے وینا ملک اور نصیبو لعل کو گالیاں بک رہا تھا۔

لڑکا:        نصیبو لعل نے بیڑہ غرق کر دیا ہے …نہ کوئی حیا نہ شرم… اس کے گانے تو میں اپنے بھائی کے ساتھ بیٹھ کر نہیں سن سکتا ، ماں بہن تو دور کی بات …اس کی ماں کی ….

لالاجی:      ایک منٹ بچے…ایک منٹ… یہ جو گالی تم بکنے جا رہے ہو یہ تم اپنی ماں بہن کے پاس بیٹھ کر دے سکتے ہو؟

لڑکا:        (جھینپ کر ) نہیں

لالاجی:      دیکھو ابھی تم بچے ہو …اپنی توانائیاں لکھنے پڑھنے، سوچنے سمجھنے اور سیکھنے میں لگاؤ… یہ گالی گلوچ سے کیا حاصل

لڑکا:        گالی گلوچ …. میرا بس نہیں چلتا ورنہ میں اس کی ….

لالاجی:      بس بس … اچھا چلو مجھے یہ بتاؤ کہ نصیبو لعل کو یہ گانے کون لکھ کے دیتا ہے ؟؟؟

لڑکا:        مجھے کیا پتہ….

لالاجی:      تو پتہ کرو نا… ویسے کوئی نہ کوئی مرد ہی لکھ کر دیتا ہوگا نا…

لڑکا:        ہاں جی… شاید خواجہ پرویز

لالاجی:      اور دھنیں کون بناتا ہے؟

لڑکا:        وہ بھی مر دہی بناتا ہے… کچھ تو طافو کی بنائی ہوئی دھنیں ہیں

لالاجی:      اور ان گانوں کی جو ویڈیوز بنتی ہیں وہ کون تیار کرتا ہے…کیمرہ مین کون ہوتا ہے، ڈائریکٹر کون ہوتا ہے، پروڈیوسر کون ہوتا ہے

لڑکا:        سارے مرد ہی ہوتے ہیں جی، ہمارے ملک میں یہ کام عورتیں نہیں کرسکتی

لالاجی:      عورتیں کر تو سکتی ہیں اور ہمارے ملک میں بھی کرتی ہیں مگر جن گانوں پر تمہیں شدید اعتراض ہے ان کے ویڈیوز مرد ہی بناتے ہیں

لڑکا:        جی ایسا ہی ہے …ان کے نام لکھے ہوتے ہیں ویڈیوز میں … سب کے ناموں کے ساتھ حاجی ضرور لکھا ہوتا ہے

لالاجی:      تو پھر تمہاری ساری گالیاں نصیبو لعل کے لئے کیوں ہیں…؟ ان سارے مردوں پر تمہیں اتنا غصہ کیوں نہیں آتا؟ ان سارے مردوں کے تو تم نام بھی نہیں جانتے ہوگ شکلیں تو دور کی بات

لڑکا:        …………………………………………………(طویل خاموشی )

دوقومی نظریہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ از محمد طارق


ترجمہ: لالاجی

میرا دوست “و” انتہائی دلچسپ طبیعت کا مالک ہے۔ ابھی ہفتہ دس دن قبل اُس سے اس کے گھر پر ملاقات ہوئی تھی۔ جناب کو چٹپٹے کھانے بنانے میں خاص ملکہ حاصل ہے۔ رات کے کھانے کے متعلق جب اُس نے میری پسند پوچھی تو میں نے محض چاول کہنے پر اکتفا کیا۔ وہ میری نیت بھانپ گیا اور کہا کہ وہ بریانی بنانے لگا ہے۔ یوں تو بریانی کے ذکر سے میرے طبیعت ہشاش بشاش ہوگئی، تاہم میں پوچھے بنا نہ رہ سکا- “لیکن تم تو کہتے ہو کہ اچھی بریانی بنانا تمہارے لئے بھی آسان نہیں ہے”۔http://blogs.tribune.com.pk/wp-content/uploads/2013/01/15567-twonationtheory-1359440969-246-640x480.jpg

اُس نے شیلف میں رکھے ہوئے مصالحے کے ڈبوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا “پُرانی بات ہے۔ اب بھائی کے ہاتھ بمبئ بریانی مصالحہ لگا ہے۔ کمال کی چیزہے”۔ ایک لمحے کو مجھے کسی ٹی وی اشتہار کا سا گماں گزرا۔ اور اگلے لمحے میری نظر اچار کی بوتل پر پڑگئی۔ “اچار تو خوب چٹخارے دار ہوگا”۔

“ظاہر ہے۔ بھلا ممکن ہے کہ اچار حیدرآبادی ہو اور چٹخارے دار نہ ہو۔ پتہ ہے، میرے انڈین کولیگ کا کہنا ہے کہ آندھراپردیش کے لوگ چٹ پٹی چیزوں کے دیوانے ہیں، دیوانے”۔

شام کے وقت ہم نے یوٹیوب پر میوزک کی ایک لمبی محفل جمائی۔ اس کے بُک مارکس میں نئے اور پُرانے انڈین گیتوں کی لمبی فہرستیں بنی ہوئی تھیں۔ بڑے عرصے بعد میں نے ‘مُغلِ اعظم’ کے سدابہار گیت سُنے۔ اس طویل نشست میں وقفہ اُس وقت آیا جب اُسے انڈین کولیگ کی کال آئی۔ کال ختم ہوئی تو اُس نے مجھے مطلع کیا “یار تمہاری بھابی کو راجھستانی لہنگا بہت پسند ہے۔ میں نے اپنے انڈین کولیگ سے کہاتھا کہ واپسی پر ایک لہنگا لیتا آئے۔ میں نے تمہاری بھابی کو سالگرہ پر تحفے میں دینی ہے۔” اُس کی خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔

اگلی صبح میری آنکھ ذاکرنائیک کی آواز پر کھلی۔ میں نے گردن موڑ کر اس کے بستر کی طرف دیکھا تو جناب لیپ ٹاپ کھولے یو ٹیوب پر ڈاکٹر صاحب کا لیکچر سن رہے تھے۔ “یار، تم اس بندے سے اتنا متاثر کیوں ہو؟”

“اس لئے کہ یہ لبرل فاشسٹ نہیں ہیں” اس نے پہلے ہی مجھے اور میرے پسندیدہ تجزیہ نگاروں کو اس خطاب سے نواز رکھا تھا۔ چنانچہ قبل اس کے کہ وہ طنز کے مزید نشتر برساتا، میں نے بستر چھوڑ کر باتھ روم کی راہ لی۔ واپس آیا تو ناشتہ تیار تھا لیکن جناب ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کے کسی سیاسی ٹاک شو کی ویڈیو ریکارڈنگ دیکھنے میں محو تھے جس میں قومی نظریے پر زید حامد اور ماروی سرمد کی تُند وتیز بحث چل رہی تھیں۔ مجھے دیکھ کر اُس نے ویب پیچ بند کیا اورایک طمانیت بھری سانس لی۔ “خدا کا شکر ہے کہ اس ملک میں ابھی بھی محب وطن اور مخلص لوگ موجود ہیں ورنہ تمہارے یہ بھارتی دلال لبرل فاشسٹ تو کب کا یہ ملک دشمن کے ہاتھ بیچ چکے ہوتے۔” میرے کچھ بولنے سے پہلے ہی تشریح بھی کردی۔ ” اب دیکھوناں اس ہندو حُلیے والی عورت کو۔ یہ پاکستانی یا مسلمان کہلانے کی لائق ہے؟ کس دیدہ دلیری سے دوقومی نظریے کی تردید بلکہ تذلیل کر رہی ہے” اچانک اُس احساس ہوا کہ میری نظریں اُس پر نہیں بلکہ اُس کے لیپ ٹاپ کے وال پیپر پر جمی ہیں۔

“اچھا، تو تم بھی کترینہ کیف کے دیوانے ہو؟” اُس نے ایک ہلکا سا قہقہ لگایا۔

“تو اور کیا”۔ میں نے جواب دیا

جیو تنازعہ اور آئی ایس آئی


Geo Logoاگرچہ لالاجی کبھی بھی جیو ٹی وی کے مداح نہیں تھے بلکہ جیو کیا کسی بھی نجی یا سرکاری چینل کے مداح نہیں رہے کہ یہ سب دراصل خبریں دینے کی بجائے خبریں چھپانے میں زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر گزشتہ چالیس دن سے لطیف جوہر بھوک ہڑتال کیمپ لگا کر بیٹھا ہے۔ وہ مرنے کے قریب پہنچ چکا ہے مگر ٹی وی چینل اُس کے بارے میں کوئی خبر نہیں دے رہے۔ ٹی وی چینلوں پر ایک کے بعد ایک تماشا لگا رہتا ہے مگر عوام کے اصل مسائل کی طرف کوئی توجہ نہیں ہوتی۔

جیو ٹی وی کی خود پسندی حد سے بڑھ چکی تھی ۔ جیو ٹی وی دیگر نجی چینلوں کے دفاتر اور صحافیوں پر ہونے والے حملوں کی رپورٹ دیتے ہوئے چینل کا نام لیتے ہوئے ایسے شرماتا تھا جیسے دیہاتی عورت اپنے میاں کا نام لیتے ہوئے شرماتی ہے۔ پھر اسی چینل کی طرف سے لوگوں کو غدار ، کافر اور ملک دشمن قرار دینا اور سب سے بڑھ کر عامر لیاقت اور انصار عباسی جیسے لوگوں کو اس قوم پر مسلط کئے رکھنا ایسے گناہ ہیں جن کو لالا جی کبھی بھی معاف نہیں کر پائیں گے۔ عامر لیاقت کے ایک پروگرام کے نتیجےمیں پاکستان میں کچھ لوگ قتل ہو گئے تھے۔ صدام حسین کی پھانسی کی ویڈیو جیو نے اتنی مرتبہ چلائی کہ جنوبی پنجاب کے بچوں نے پھانسی پھانسی کھیلنا شروع کیا اور کم از کم ایک بچی کی جان چلی گئی۔

جیو کو ناپسند کرنے کی اتنی بے شمار وجوہات کے باوجود لالاجی جیو کو بند کرنے کے حق میں نہ تھے اور نہ ہیں اور نہ کبھی کسی چینل کو بند کرنے کے حق میں ہوں گے۔ چینلوں کو بند نہیں کیا جانا چاہئے ، پابند ضرور کیا جانا چاہئے۔ میڈیا کے لئے ایک واضح پالیسی ہونی چاہئے کہ وہ کیا دکھا سکتے ہیں اور کیا نہیں۔ پھر اُس پالیسی پر عمل درآمد ہو۔

جیو تنازعے نے اپنی جگہ ایک تاریخی کردار ادا کیا ہے اور وہ یہ کہ آئی ایس آئی جس بری طرح ایکسپوز ہو گئی ہے وہ شاید ویسے ممکن نہیں تھا۔ جرنیلوں (اور خاص طو رپر پاک سر زمین کے رکھوالوں) سے عقل کی امید رکھنا بجائے خود ایک بے عقلی ہے ۔ ان کو یہی سمجھ نہیں آئی کہ اپنے آپ کو جیو کے برابر لانا ایک سرکاری ادارے کو زیب نہیں دیتا۔جیو ایک نجی کمپنی ہے اور آئی ایس آئی ایک سرکاری ادارہ۔ ان دونوں کا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں۔ مگر آئی ایس آئی نے جیو کو سبق سکھانے کی ٹھان کر خود کو اپنے مقام سے خود ہی گرا لیا۔

چھاؤنیوں میں جیو بند کردیا گیا۔ پھر کیبل آپریٹروں کو مجبور کیا گیا کہ وہ جیو نہ دکھائیں۔ کہیں کالعدم تنظیمیں آئی ایس آئی کے حق میں جلسے جلوس کر رہی تھیں تو کہیں راتوں رات جنم لینے والی تنظیمیں آئی ایس آئی کے حق میں اور جیو کے خلاف گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگا رہی تھیں۔ کبھی پیمرا کے ارکان کا بازور مروڑ کر جیو کو بند کرنے کی کوشش ہوئی تو کبھی ججوں کے خلاف (جو محض چند ہفتے پہلے تک ایک مقدس گائے تھے اور ہر کسی پر توہین ِ عدالت لگ رہی تھی) بینر اور پوسٹر شہر میں سجے ہوئے نظر آئے۔ توہین ِمذہب کا الزام لگا کر جیو کے عملے پر مدتوں سے پالے ہوئے مذہبی جنونیوں کو چھوڑ دیا گیا ۔ یہ بھی نہ سوچا گیا کہ کمپنی کےکسی فعل کی سزا غریب رپورٹروں اور ڈرائیوروں کو نہیں دی جاسکتی۔ لیکن اس قسم کی باتیں ذمہ دار لیڈر سوچتے ہیں ، گلی کے تھرڈ کلاس غنڈے نہیں۔

بڑی بڑی کمپنیوں کو یہ پیغام مل گیا کہ جیو کو اشتہار نہیں دینے چنانچہ جیو کے اشتہار بند ہو گئے ۔ اشتہار بند ہوگئے کا مطلب آمدنی بند ہو گئی۔ آخر جیو نے گھٹنے ٹیک دئے اور معافی نامہ شائع کر دیا۔ مگر ایسا کیوں ہے کہ اس معافی نامے کے باوجود آئی ایس آئی /فوج کی عزت بحال نہ ہو سکی۔ بلکہ سمجھدار لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ہم نے اپنے تحفظ کی ذمہ داری کسے سونپ رکھی ہے؟

  • اس ملک کے ستر ہزار شہری اور پانچ ہزار سے زیادہ فوجی دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔ دہشت گرد ہمارے فوجیوں کے سرو ں سے فٹ بال کھیلتے ہیں اور پھر اُس کی وڈیو بھی شیئر کرتے ہیں۔ ہم گزشتہ دس سالوں میں جتنے بھی آپریشن کرتے ہیں ان میں کوئی بھی بڑا دہشت گرد نہ گرفتار ہو تا ہے نہ مارا جاتا ہے (یہ کام ڈرون نے سبنھال رکھا تھا)۔ ایسی صورت حال میں ہمارے تحفظ کے ضامن کیبل آپریٹرز سے جیو بند کروانے میں لگے ہوئے ہوں تو ہم اس کا کیا مطلب نکالیں؟
  • جو تنظیمیں اس ملک میں دہشت گردی ، مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث ہیں وہ ہمارے محافظوں کے حق میں جلسے کیوں کر رہی ہیں؟
  • کیا ایک سرکاری ادارے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ہر ناجائز ہتھکنڈہ استعمال کرے ؟
  • یاد رہے کہ اس سارے تماشے میں حامد میر پرہونے والا حملہ کہیں گم ہو گیا … کیا یہ سارا تماشہ حامد میر پر ہونے والے حملے پر سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے ہی تو نہیں تھا؟
  • جتنی توانائیاں جیو بند کروانے میں صرف ہوئیں اگر اسُ کا نصف بھی حامد میر پر حملہ کرنے والوں کو بے نقاب کرنے میں لگائی جاتی تو یقیناً آئی ایس آئی اور فوج عوام کی نظروں میں سرخ رو ہو جاتی …

سوال جواب …. سپہ سالار کی تقریر کے تناظر میں (خان جی)


لالا جی نے پاکستان کے نئے سپہ سالار کی حالیہ تقریر پرفیس بک پر کچھ تبصرہ کیا تو ایک دوست خان جی نے چند سوال اٹھائے۔ لالاجی کو خوشی ہوتی ہے جب کوئی اختلاف رکھنے والا “کافر، ایجنٹ ، غدار” کا ٹھپہ لگا نے کی بجائے اپنے اختلاف کو مہذب انداز میں پیش کرتا ہے اور سوال اُٹھاتا ہے۔ سوال ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ سوال بحث کی گنجائش پیدا کرتے ہیں اور بحث (اگر محض برائے بحث نہ ہو) تو دونوں فریقوں کی سمجھ بوجھ میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔

آپ کے اس فلسفے میں مندر جہ ذیل باتیں واضح نہیں:۔
۱۔ یہ کہ آپ کے خیال میں مسلہ کشمیر پر آنکھیں بند کرکے ہندوستان سے تعلقات استوار کرنے چاہییے؟؟؟

ہم مسئلہ بلوچستان اور مسئلہ قبائلی علاقہ جات پر آنکھیں بند کر سکتے ہیں تو مسئلہ کشمیر پر کیوں نہیں۔ مسئلہ کشمیر پر آنکھیں بند کرلینا ہی بہتر ہے۔ اتنے کشمیری بھارتی فوج کے مظالم کی وجہ سے نہیں مارے گئے جتنے ہماری فوج کے پالے ہوئے جہادیوں کی وجہ سے مارے گئے۔ بھارتی کشمیر میں امن اور سکون تھا اور وہ لوگ اپنے طور پر آزادی کے لئے ایک اچھی جدوجہد کر رہے تھے۔ ۱۹۸۸ میں ہم نے افغانستان سے فارغ ہونے والے جہادی کشمیر بھیجنے شروع کئے اور اس کے بعد کشمیر کا امن و سکون تباہ ہوا۔ (جب سے ہم نے جہاد کا ٹھیکہ لیا ہے تب ہی سے ہمارا اپنا بھی امن و سکون برباد ہوا۔)

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اپنے گھر میں آگ لگی ہوتو ہم دوسروں کی آگ بجھانے میں اتنی دلچسپی کیوں لیتےہیں۔ پہلے قبائلی علاقوں کو تو دہشت گردوں سے آزاد کرا لیں۔ بلوچستان میں لاشیں گرنے کا سلسلہ تو روک لیں۔ اپنے ملک میں بے زمین ہاریوں، کسانوں اور مزدوروں کو تو غربت اور ذلت کی قید سے آزاد کرا لیں پھر کشمیر کو بھی دیکھ لیں گے۔

پھر سوال یہ ہے کہ گزشتہ ساٹھ پینسٹھ برسوں میں ہم نے کشمیریوں کے لئے کیا کارنامہ انجام دے لیا ہے۔ کشمیر بھی اُن مسائل میں سے ایک ہے جسے ہماری اسٹیبلشمنٹ حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ دہشت گرد گروہ اور کشمیر محض فوج کے لئے ایک بڑا بجٹ مختص کئے رکھنے کا ایک جواز ہے اور بس۔
۲۔ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ فوج کو ایسے فورم پر ایسا بیان دینا چاہے کہ ہم ناکام ہو گئے اور طالبان ملک پر قبضہ کر رہے ہیں؟

فوج کو ایسا بیان دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ لالاجی نے حال ہی میں وزیرستان کا سفر کے عنوان سے دو انگریزی مضامین کے اردو تراجم اپنے بلاگ “آئینہ” پر شائع کئے ہیں وہ پڑھ لیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ طالبان کا قبضہ کہاں کہاں پر ہے۔

میرا سوال یہ ہے کہ فوج کو کوئی بھی بیان دینے کی ضرورت کیا ہے۔ فوج کا کام ہی نہیں ہے بیان جاری کرنا۔ بیان دینا حکومت کا اور سیاسی پارٹیوں کا کام ہے۔ فوج کو اپنے کام سےکام رکھنا چاہئے۔ فوج حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہے۔ حکومت جو بیان دے وہی فوج کا موقف ہونا چاہئے۔ اگر فوج کو اپنا موقف الگ سے پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو یہ بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ فوج حکومت کے ماتحت نہیں ہے۔ ہماری فوج پر اتنی زیادہ تنقید بھی اسی لئے ہوتی ہے کہ یہ من مانیاں کرتی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کو پالنے، ہندوستان کے ساتھ تعلقات خراب رکھنے اور افغانستان کو اپنی کالونی(پانچواں صوبہ) بنانے کی پالیسیاں سول حکومت کی نہیں ہیں۔ یہ ہمارے سلامتی کے ضامن اداروں کی ہیں۔ ان پالیسیوں کا خمیازہ ساری قوم بھگت رہی ہے۔ ان پالیسیوں کی وجہ سے گزشتہ دس سال میں ستر ہزار کے لگ بھگ پاکستانی جن میں پانچ ہزار فوجی بھی شامل ہیں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اگر پھر بھی یہ پالیساں نہیں بدل رہیں تو جو لوگ ان پالیسیوں کے بنانے اور ان کو تبدیلی نہ ہونے دینے کے ذمہ دار ہیں وہ کس کے ایجنٹ ہیں؟
۳۔ اگر آپ کا ناکامی سے مراد ایسے حملے ہیں جو آپ نے بیان فرمائے ہیں تو امریکہ نے ۹/۱۱ کے بعد کیوں ناکامی تسلیم نہیں کی۔ ہندوستان نے ممبئی حملوں اور مسلمانوں کے قتل عام کے بعد کیوں یہ اعتراف نہیں کیا؟

بھائی اگر ایک آدھ حملہ ہوتو ہم اُسے ناکامی تسلیم نہ کرتے مگر یہاں تو لائن لگی ہوئی ہے۔ لاہور میں آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر پر حملے سے لے کر حال ہی میں ایک میجر جنرل کی شہادت اور ایف سی کے جوانوں کے سروں سے فٹ بال کھیلنے تک کی ایک لمبی کہانی ہے۔ اور اس ساری کہانی میں وہ حملے شامل نہیں جن میں ہزاروں سولین مارے گئے۔

امریکہ میں ایک حملہ ہوا تو انہوں نے اس کے حوالےسے اقدامات کئے۔ جن کی بدولت وہاں مزید حملے نہیں ہو سکے۔ اس موقع پر یہ مت بھولیں کہ ان دونوں حملوں کے تانے بانے بھی پاکستان سے ملتےہیں۔ سو یا تو یہ حملے پاکستان نے کروائے، یا پھر ان حملوں کی پاکستان میں بیٹھ کر منصوبہ بندی ہونا اور پاکستان کی سلامتی کی ضامن ایجنسیوں کو اس کی خبر نہ ہونا بھی کسی کی ناکامی ہے۔

ہمارے ملک میں جب تک سولین مرتے رہتے ہیں اُس وقت تک تو کسی کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی۔ ہاں فوجیوں پر حملے ہوں تو پھر دہشت گردوں کے چند ٹھکانوں پر بمباری ہو جاتی ہے۔ مگر ہماری فوج کے آپریشن ہونے کے باوجود بیت اللہ محسود، حکیم اللہ محسود، ولی الرحمان، فقیر محمد، (تھوڑی سے کوشش سے ایسے ناموں کی ایک طویل فہرست تیار کی جا سکتی ہے) سب کے سب ڈرون حملوں میں مرتے ہیں۔ سوات میں آپریشن ہوتا ہے اور فضل اللہ اور اس کے تمام اہم کمانڈر بچ نکلتےہیں۔ گوگل پر تھوڑی سے تلاش کریں تو آپ کو پتہ چلے کہ کتنی بار ہماری فوج خیبر ایجسنی کو “کلیئر” قرار دے چکی ہے۔ مگر منگل باغ نہیں پکڑا جاتا۔

اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ جب جی ایچ کیو پر حملہ ہوا تو ملک اسحاق جیسے قاتل کو آرمی چیف کے اپنے ہیلی کاپٹر میں راولپنڈی لایا گیا تاکہ دہشت گردوں کو سمجھا سکے۔ تب سے ملک اسحاق جیل سے باہر ہے اور پھر کھلے عام شیعہ مخالف تقریریں کرتا پھرتا ہے۔ اُس کا سپاہ صحابہ سے تعلق کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ فوجیں دہشت گردوں سے اس طرح نہیں نمٹا کرتیں۔

وزیرستان کا سفر (حصہ دوئم) …از قہر زلمے


ترجمہ: سلیقہ وڑائچ … اصل انگریزی متن کے لئے یہاں کلک کریں۔

مفتی نورلی کے فیصلےجہاں کچھ لوگوں کوبہت خوش کرتے تو بہت سوں کے لئےاذیت کا باعث بھی بنتے تھے۔ میرے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ جن لوگوں کے طالبان سے اچھے تعلقات تھے یا جو تحریکِ طالبان کے لئے فنڈز مہیاکرتے تھے،مفتی نور ولی انکے حق میں فیصلہ دیتا۔ محسود قبیلے کے کتنے ہی افراد کوکراچی میں نشانہ بنایا گیا تھا، اور طالبان کی اس قدر دہشت تھی کہ جب کسی کو مفتی نور ولی کا فون آتا، وہ ایک دن کی بھی تاخیر کئے بغیر میرانشاہ کا رخ کرتا۔کراچی سے میرانشاہ تک کے سفر، اور دورانِ سفر قیام کے اخراجات تقریبا” پچاس ہزار روپے کے لگ بھگ ہیں۔ لیکن، چونکہ مفتی نور ولی نے کراچی میں کسی بھی قسم کےجرگہ پر پابندی لگائی ہوئی ہے، کسی معمولی کیس کے لئے بھی لوگوں کو مجبوراً مفتی نورولی کے دربار میں حاضری دینا پڑتی ہے۔

سجنا گروپ کا کراچی پر مکمل کنٹرول ہے۔بھلے کوئی ٹھیکیدار ہو،کسی کا آئل ٹینکر یونین سے تعلق ہو یا رکشہ یونین سے، کوئی ٹرانسپورٹر ہو یا تاجر، ہر کوئی بھتہ دینے کا پابند ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب یونین والے خود بھتہ اکٹھا کر کے چیف جسٹس کو رقم جمع کروانے جاتے ہیں۔ حکیم اللہ محسود گروپ کا کراچی سے اثر ورسوخ ختم ہو چکا ہے۔ کراچی کے ساحلی علاقوں میں جہاں کبھی عوامی نیشنل پارٹی( اے این پی) کا سکہ چلتا تھا اب وہاں بھی سجناگروپ کی حکومت ہے۔ تاہم حکیم اللہ محسود کا کوئی ایک کمانڈر بھی پولیس ،فوج یا رینجرز نے ہلاک نہیں کیا۔حکیم اللہ گروپ کے تمام بڑے کمانڈر سجنا گروپ نے چن چن کر مارے ہیں۔ خان زمان، مفتی جاوید، زاہداللہ ذکریا اور عمرسجنا گروپ کے اہم کمانڈروں میں سے ہیں۔ اور کراچی میں کھلے عام دھندہ کر رہے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ قانوں نافذ کرنے والے اداروں نے بھی ان پر کبھی ہاتھ نہیں ڈالا، یہی وجہ ہے کہ عوام کا اس بات پر یقین پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ سجنا گروپ کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔ میں نے میرانشاہ میں لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ ان کا گورنمنٹ یا ایجنسیوں پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے اور وہ اپنی اور اپنے خاندان کی جان بچانے کے لئے میرانشاہ آنے اور بھتے کی رقم ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

مفتی نور ولی لوگوں کو ڈراتا دھمکاتا بھی تھا، جو بھی اس سے مل کر آتا شدید خوفزدہ نظر آتا۔ مفتی نور ولی کا اپنے بارے میں دعوٰی تھا کہ وہ انتہائی سخت گیر اور اصولوں پر سمجھوتا نہ کرنے والا شخص ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بر عکس تھی۔ اگر کوئی شخص کسی اہم طالبان کمانڈر کے حوالے سے مفتی سے ملتا تو نہ صرف اس کو حاضری کا وقت جلدی ملتا بلکہ فیصلہ بھی اس کے حق میں ہوتا ورنہ عام آدمی کو کئی کئی ہفتے انتظار کرنا پڑتا۔ تحریکِ طالبان پاکستان کو   کراچی سےچندے کی مد میں خاصی بڑی رقم ملتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جس کی کچھ تاجروں نے تصدیق بھی کی، کراچی سے تقریبا ۱۰کروڑ روپے ماہانہ بھتہ اکٹھا کیا جاتا ہے۔

ہم سید سجنا کی موجودگی میں مفتی نور ولی سے ملے، ملاقات اچھی رہی۔ لیکن قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نہ تو ہماری جسمانی تلاشی لی گئی نہ ہی ہم سے فون لئے گئے، جس سے سجنا گروپ کا اس علاقےمیں مکمل اثر و رسوخ واضح ہے۔ مفتی نور ولی مجھے انتہائی سخت گیر، کھردرا اور کٹر آدمی لگا جس سے کسی نرم رویئے یا خو ش مزاجی کی توقع ہر گز نہیں کی جاسکتی۔ تاہم اس نے خود کو بےحد سنجیدہ اور اکھڑ آدمی کے طور پر پیش کیا جو کہ انصاف پر مبنی فیصلے کرتا ہو اور کسی کی سفارش قبول نہ کرتا ہو یا کسی حوالے کو نہ مانتا ہو۔ چونکہ وہ طالبان کی اسلامی شرعی عدالت کا چیف جسٹس ہے اس لئے شریعت کی روشنی میں فیصلے سناتا ہے۔ تاہم وہ مہمان نواز ہے اور اگر دوپہر کے کھانے کا وقت ہو تو دفتر میں موجود تمام لوگوں کو کھانا کھلاتا ہے۔ اس نے ہمیں بھی عمدہ کھانا کھلایا۔ کھانے میں بڑا گوشت،آلو اور شوربہ تھا اور اس کے بعد چائے سے ہماری تواضع کی گئی۔

خان سید سجنا اور اس کے گروپ کے تمام افراد مفتی نور ولی کا بے حد احترام کرتے تھے۔ میرے ساتھی کا اتحاد ٹاون میں دوسری پارٹی کے ساتھ پلاٹ کا تنازعہ تھا جس کے حل کے لئے وہ یہاں آیاتھا۔ ایک اہم طابان کمانڈر کی سفارش پر ہمیں اسی دن چیف جسٹس سے ملاقات کا وقت مل گیا۔ لیکن چیف جسٹس کسی حتمی فیصلےتک نہ پہنچ سکا اور اس نے دونوں فریقوں کو آگاہ کر دیا کہ وہ اپنے طالبان کمانڈوں سے ثبوت مہیا کرنے کا کہے گا اور   اگلی سماعت میں فیصلہ کرے گا۔ اور یہ کہ اگلی سماعت کی تاریخ کے بارے میں دونوں فریقوں کو ’باقاعدہ‘ آگاہ کر دیا جائے گا۔

میں نے شمالی وزیرستان کےکئی قصبے دیکھے جن میں دتہ خیل، میر علی، غلام خان، شوال، ڈانڈے درپخیل اور داور قبیلے کے علاقے شامل ہیں۔ وہاں مجھے پتا چلاکہ داوڑ قبائلی ،محسود قبائلیوں سے بے حد تنگ ہیں۔، سینکڑوں داوڑ قبائلی خاندان اپنا گھر بار اور زمینیں چھوڑ چھاڑ بنوں ہجرت کر گئے تھے۔ نقل مکانی کی وجہ فوجی آپریشن تھے بالخصوص کھجوری میں ہونے والے خودکش بم دھماکے اور میر علی میں ہونے والی جوابی فوجی کاروائی کے بعد ہجرت میں شدت آگئی تھی۔ داوڑ قبائلیوں کی نقل مکانی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سیاسی حکومت اور انتظامیہ انھیں ازبک اور دیگر طالبان گروہوں کو اپنے علاقوں سے نکالنے پر مجبور کر رہی تھی۔ ان کی حالت قابلِ رحم تھی وہ کیسے ان گروہوں کو باہر نکال سکتے جب کہ خود حکومت اور انتظامیہ طالبان کو ان علاقوں سے نکال باہر کرنے سے قاصرتھی۔ داوڑ قبائلیوں نے بتایا کہ جب کبھی ڈرون حملہ ہوتا یا فوجی کاروائی ہوتی تو طالبان عسکریت پسند ان کی دکانیں لوٹ لیتے۔ انفرادی طور پرمقامی لوگ ڈرون حملوں کے معترف تھے اور ڈرون حملوں کے حق میں تھے لیکن میڈیاکے سامنے بیان دینے سے خوفزدہ تھے۔

جو سب سے اہم بات ہمارے دیکھنے میں آئی وہ یہ تھی کہ میرانشاہ کے مین بازار میں فوجی کیمپ تھا لیکن مین بازار کے عین وسط میں ایک ہسپتال ہے جس پر طالبان کی باقاعدہ عملداری قائم ہے۔ ہم نےہسپتال میں حقانی گروپ اور سجنا گروپ کے طالبان کو دیکھا۔ حقانی گروپ اور سجنا گروپ کے طالبان کو ہم نے سرِعام گاڑیوں میں گھومتےدیکھا۔ کسی چیک پوسٹ پر انھیں نہیں روکا جاتا تھا۔ وزیر طالبان بھی میرانشاہ اور شمالی وزیرستان میں آزادانہ گھوم پھر رہے تھے۔

کچھ عام مشاہدات : جب اعلٰی طالبان کمانڈر اپنی گاڑیوں کو پارک کرتے ہیں، تو ان کی گاڑیوں کی سختی سے نگرانی کی جاتی ہے تاکہ کوئی گاڑی کے قریب دھماکہ خیز مواد نصب نہ کر جائے۔ دونوں گروپ ایک دوسرے سے خوفزدہ ہیں اور حالیہ واقعات میں دونوں نےایک دوسرے کے کمانڈروں کو ہلاک کیا ہے۔میں نے سنا کہ تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر ایک جگہ نہیں ٹکتے۔ رئیس خان عرف اعظم طارق، نور ولی اور خان سید سجنا جیسے اعلٰی کمانڈر مختلف گھروں میں رہتے ہیں جو ان کو مقامی لوگوں کی طرف سے ملے ہوئے ہیں۔ طالبان کمانڈر ایک دوسرے کو بغیر اطلاع کئے اچانک ملتے ہیں۔ رات کے وقت، ڈرون اڑنے کی آوازیں آتی ہیں تو سب لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں کہ اب کی بار ان کا گھر ہی ڈرون کا نشانہ نہ ہو۔ لیکن اس خوف کے باوجود، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آج تک بننے والے سب ہتھیاروں میں سے ڈرون بہترین ہتھیار ہیں۔