نصیبو لعل کو گالیاں


بات ہو رہی تھی فحاشی کی اور ایک نوعمر لڑکا بہت شدت سے وینا ملک اور نصیبو لعل کو گالیاں بک رہا تھا۔

لڑکا:        نصیبو لعل نے بیڑہ غرق کر دیا ہے …نہ کوئی حیا نہ شرم… اس کے گانے تو میں اپنے بھائی کے ساتھ بیٹھ کر نہیں سن سکتا ، ماں بہن تو دور کی بات …اس کی ماں کی ….

لالاجی:      ایک منٹ بچے…ایک منٹ… یہ جو گالی تم بکنے جا رہے ہو یہ تم اپنی ماں بہن کے پاس بیٹھ کر دے سکتے ہو؟

لڑکا:        (جھینپ کر ) نہیں

لالاجی:      دیکھو ابھی تم بچے ہو …اپنی توانائیاں لکھنے پڑھنے، سوچنے سمجھنے اور سیکھنے میں لگاؤ… یہ گالی گلوچ سے کیا حاصل

لڑکا:        گالی گلوچ …. میرا بس نہیں چلتا ورنہ میں اس کی ….

لالاجی:      بس بس … اچھا چلو مجھے یہ بتاؤ کہ نصیبو لعل کو یہ گانے کون لکھ کے دیتا ہے ؟؟؟

لڑکا:        مجھے کیا پتہ….

لالاجی:      تو پتہ کرو نا… ویسے کوئی نہ کوئی مرد ہی لکھ کر دیتا ہوگا نا…

لڑکا:        ہاں جی… شاید خواجہ پرویز

لالاجی:      اور دھنیں کون بناتا ہے؟

لڑکا:        وہ بھی مر دہی بناتا ہے… کچھ تو طافو کی بنائی ہوئی دھنیں ہیں

لالاجی:      اور ان گانوں کی جو ویڈیوز بنتی ہیں وہ کون تیار کرتا ہے…کیمرہ مین کون ہوتا ہے، ڈائریکٹر کون ہوتا ہے، پروڈیوسر کون ہوتا ہے

لڑکا:        سارے مرد ہی ہوتے ہیں جی، ہمارے ملک میں یہ کام عورتیں نہیں کرسکتی

لالاجی:      عورتیں کر تو سکتی ہیں اور ہمارے ملک میں بھی کرتی ہیں مگر جن گانوں پر تمہیں شدید اعتراض ہے ان کے ویڈیوز مرد ہی بناتے ہیں

لڑکا:        جی ایسا ہی ہے …ان کے نام لکھے ہوتے ہیں ویڈیوز میں … سب کے ناموں کے ساتھ حاجی ضرور لکھا ہوتا ہے

لالاجی:      تو پھر تمہاری ساری گالیاں نصیبو لعل کے لئے کیوں ہیں…؟ ان سارے مردوں پر تمہیں اتنا غصہ کیوں نہیں آتا؟ ان سارے مردوں کے تو تم نام بھی نہیں جانتے ہوگ شکلیں تو دور کی بات

لڑکا:        …………………………………………………(طویل خاموشی )

دوقومی نظریہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ از محمد طارق


ترجمہ: لالاجی

میرا دوست “و” انتہائی دلچسپ طبیعت کا مالک ہے۔ ابھی ہفتہ دس دن قبل اُس سے اس کے گھر پر ملاقات ہوئی تھی۔ جناب کو چٹپٹے کھانے بنانے میں خاص ملکہ حاصل ہے۔ رات کے کھانے کے متعلق جب اُس نے میری پسند پوچھی تو میں نے محض چاول کہنے پر اکتفا کیا۔ وہ میری نیت بھانپ گیا اور کہا کہ وہ بریانی بنانے لگا ہے۔ یوں تو بریانی کے ذکر سے میرے طبیعت ہشاش بشاش ہوگئی، تاہم میں پوچھے بنا نہ رہ سکا- “لیکن تم تو کہتے ہو کہ اچھی بریانی بنانا تمہارے لئے بھی آسان نہیں ہے”۔http://blogs.tribune.com.pk/wp-content/uploads/2013/01/15567-twonationtheory-1359440969-246-640x480.jpg

اُس نے شیلف میں رکھے ہوئے مصالحے کے ڈبوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا “پُرانی بات ہے۔ اب بھائی کے ہاتھ بمبئ بریانی مصالحہ لگا ہے۔ کمال کی چیزہے”۔ ایک لمحے کو مجھے کسی ٹی وی اشتہار کا سا گماں گزرا۔ اور اگلے لمحے میری نظر اچار کی بوتل پر پڑگئی۔ “اچار تو خوب چٹخارے دار ہوگا”۔

“ظاہر ہے۔ بھلا ممکن ہے کہ اچار حیدرآبادی ہو اور چٹخارے دار نہ ہو۔ پتہ ہے، میرے انڈین کولیگ کا کہنا ہے کہ آندھراپردیش کے لوگ چٹ پٹی چیزوں کے دیوانے ہیں، دیوانے”۔

شام کے وقت ہم نے یوٹیوب پر میوزک کی ایک لمبی محفل جمائی۔ اس کے بُک مارکس میں نئے اور پُرانے انڈین گیتوں کی لمبی فہرستیں بنی ہوئی تھیں۔ بڑے عرصے بعد میں نے ‘مُغلِ اعظم’ کے سدابہار گیت سُنے۔ اس طویل نشست میں وقفہ اُس وقت آیا جب اُسے انڈین کولیگ کی کال آئی۔ کال ختم ہوئی تو اُس نے مجھے مطلع کیا “یار تمہاری بھابی کو راجھستانی لہنگا بہت پسند ہے۔ میں نے اپنے انڈین کولیگ سے کہاتھا کہ واپسی پر ایک لہنگا لیتا آئے۔ میں نے تمہاری بھابی کو سالگرہ پر تحفے میں دینی ہے۔” اُس کی خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔

اگلی صبح میری آنکھ ذاکرنائیک کی آواز پر کھلی۔ میں نے گردن موڑ کر اس کے بستر کی طرف دیکھا تو جناب لیپ ٹاپ کھولے یو ٹیوب پر ڈاکٹر صاحب کا لیکچر سن رہے تھے۔ “یار، تم اس بندے سے اتنا متاثر کیوں ہو؟”

“اس لئے کہ یہ لبرل فاشسٹ نہیں ہیں” اس نے پہلے ہی مجھے اور میرے پسندیدہ تجزیہ نگاروں کو اس خطاب سے نواز رکھا تھا۔ چنانچہ قبل اس کے کہ وہ طنز کے مزید نشتر برساتا، میں نے بستر چھوڑ کر باتھ روم کی راہ لی۔ واپس آیا تو ناشتہ تیار تھا لیکن جناب ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کے کسی سیاسی ٹاک شو کی ویڈیو ریکارڈنگ دیکھنے میں محو تھے جس میں قومی نظریے پر زید حامد اور ماروی سرمد کی تُند وتیز بحث چل رہی تھیں۔ مجھے دیکھ کر اُس نے ویب پیچ بند کیا اورایک طمانیت بھری سانس لی۔ “خدا کا شکر ہے کہ اس ملک میں ابھی بھی محب وطن اور مخلص لوگ موجود ہیں ورنہ تمہارے یہ بھارتی دلال لبرل فاشسٹ تو کب کا یہ ملک دشمن کے ہاتھ بیچ چکے ہوتے۔” میرے کچھ بولنے سے پہلے ہی تشریح بھی کردی۔ ” اب دیکھوناں اس ہندو حُلیے والی عورت کو۔ یہ پاکستانی یا مسلمان کہلانے کی لائق ہے؟ کس دیدہ دلیری سے دوقومی نظریے کی تردید بلکہ تذلیل کر رہی ہے” اچانک اُس احساس ہوا کہ میری نظریں اُس پر نہیں بلکہ اُس کے لیپ ٹاپ کے وال پیپر پر جمی ہیں۔

“اچھا، تو تم بھی کترینہ کیف کے دیوانے ہو؟” اُس نے ایک ہلکا سا قہقہ لگایا۔

“تو اور کیا”۔ میں نے جواب دیا

جیو تنازعہ اور آئی ایس آئی


Geo Logoاگرچہ لالاجی کبھی بھی جیو ٹی وی کے مداح نہیں تھے بلکہ جیو کیا کسی بھی نجی یا سرکاری چینل کے مداح نہیں رہے کہ یہ سب دراصل خبریں دینے کی بجائے خبریں چھپانے میں زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر گزشتہ چالیس دن سے لطیف جوہر بھوک ہڑتال کیمپ لگا کر بیٹھا ہے۔ وہ مرنے کے قریب پہنچ چکا ہے مگر ٹی وی چینل اُس کے بارے میں کوئی خبر نہیں دے رہے۔ ٹی وی چینلوں پر ایک کے بعد ایک تماشا لگا رہتا ہے مگر عوام کے اصل مسائل کی طرف کوئی توجہ نہیں ہوتی۔

جیو ٹی وی کی خود پسندی حد سے بڑھ چکی تھی ۔ جیو ٹی وی دیگر نجی چینلوں کے دفاتر اور صحافیوں پر ہونے والے حملوں کی رپورٹ دیتے ہوئے چینل کا نام لیتے ہوئے ایسے شرماتا تھا جیسے دیہاتی عورت اپنے میاں کا نام لیتے ہوئے شرماتی ہے۔ پھر اسی چینل کی طرف سے لوگوں کو غدار ، کافر اور ملک دشمن قرار دینا اور سب سے بڑھ کر عامر لیاقت اور انصار عباسی جیسے لوگوں کو اس قوم پر مسلط کئے رکھنا ایسے گناہ ہیں جن کو لالا جی کبھی بھی معاف نہیں کر پائیں گے۔ عامر لیاقت کے ایک پروگرام کے نتیجےمیں پاکستان میں کچھ لوگ قتل ہو گئے تھے۔ صدام حسین کی پھانسی کی ویڈیو جیو نے اتنی مرتبہ چلائی کہ جنوبی پنجاب کے بچوں نے پھانسی پھانسی کھیلنا شروع کیا اور کم از کم ایک بچی کی جان چلی گئی۔

جیو کو ناپسند کرنے کی اتنی بے شمار وجوہات کے باوجود لالاجی جیو کو بند کرنے کے حق میں نہ تھے اور نہ ہیں اور نہ کبھی کسی چینل کو بند کرنے کے حق میں ہوں گے۔ چینلوں کو بند نہیں کیا جانا چاہئے ، پابند ضرور کیا جانا چاہئے۔ میڈیا کے لئے ایک واضح پالیسی ہونی چاہئے کہ وہ کیا دکھا سکتے ہیں اور کیا نہیں۔ پھر اُس پالیسی پر عمل درآمد ہو۔

جیو تنازعے نے اپنی جگہ ایک تاریخی کردار ادا کیا ہے اور وہ یہ کہ آئی ایس آئی جس بری طرح ایکسپوز ہو گئی ہے وہ شاید ویسے ممکن نہیں تھا۔ جرنیلوں (اور خاص طو رپر پاک سر زمین کے رکھوالوں) سے عقل کی امید رکھنا بجائے خود ایک بے عقلی ہے ۔ ان کو یہی سمجھ نہیں آئی کہ اپنے آپ کو جیو کے برابر لانا ایک سرکاری ادارے کو زیب نہیں دیتا۔جیو ایک نجی کمپنی ہے اور آئی ایس آئی ایک سرکاری ادارہ۔ ان دونوں کا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں۔ مگر آئی ایس آئی نے جیو کو سبق سکھانے کی ٹھان کر خود کو اپنے مقام سے خود ہی گرا لیا۔

چھاؤنیوں میں جیو بند کردیا گیا۔ پھر کیبل آپریٹروں کو مجبور کیا گیا کہ وہ جیو نہ دکھائیں۔ کہیں کالعدم تنظیمیں آئی ایس آئی کے حق میں جلسے جلوس کر رہی تھیں تو کہیں راتوں رات جنم لینے والی تنظیمیں آئی ایس آئی کے حق میں اور جیو کے خلاف گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگا رہی تھیں۔ کبھی پیمرا کے ارکان کا بازور مروڑ کر جیو کو بند کرنے کی کوشش ہوئی تو کبھی ججوں کے خلاف (جو محض چند ہفتے پہلے تک ایک مقدس گائے تھے اور ہر کسی پر توہین ِ عدالت لگ رہی تھی) بینر اور پوسٹر شہر میں سجے ہوئے نظر آئے۔ توہین ِمذہب کا الزام لگا کر جیو کے عملے پر مدتوں سے پالے ہوئے مذہبی جنونیوں کو چھوڑ دیا گیا ۔ یہ بھی نہ سوچا گیا کہ کمپنی کےکسی فعل کی سزا غریب رپورٹروں اور ڈرائیوروں کو نہیں دی جاسکتی۔ لیکن اس قسم کی باتیں ذمہ دار لیڈر سوچتے ہیں ، گلی کے تھرڈ کلاس غنڈے نہیں۔

بڑی بڑی کمپنیوں کو یہ پیغام مل گیا کہ جیو کو اشتہار نہیں دینے چنانچہ جیو کے اشتہار بند ہو گئے ۔ اشتہار بند ہوگئے کا مطلب آمدنی بند ہو گئی۔ آخر جیو نے گھٹنے ٹیک دئے اور معافی نامہ شائع کر دیا۔ مگر ایسا کیوں ہے کہ اس معافی نامے کے باوجود آئی ایس آئی /فوج کی عزت بحال نہ ہو سکی۔ بلکہ سمجھدار لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ہم نے اپنے تحفظ کی ذمہ داری کسے سونپ رکھی ہے؟

  • اس ملک کے ستر ہزار شہری اور پانچ ہزار سے زیادہ فوجی دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔ دہشت گرد ہمارے فوجیوں کے سرو ں سے فٹ بال کھیلتے ہیں اور پھر اُس کی وڈیو بھی شیئر کرتے ہیں۔ ہم گزشتہ دس سالوں میں جتنے بھی آپریشن کرتے ہیں ان میں کوئی بھی بڑا دہشت گرد نہ گرفتار ہو تا ہے نہ مارا جاتا ہے (یہ کام ڈرون نے سبنھال رکھا تھا)۔ ایسی صورت حال میں ہمارے تحفظ کے ضامن کیبل آپریٹرز سے جیو بند کروانے میں لگے ہوئے ہوں تو ہم اس کا کیا مطلب نکالیں؟
  • جو تنظیمیں اس ملک میں دہشت گردی ، مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث ہیں وہ ہمارے محافظوں کے حق میں جلسے کیوں کر رہی ہیں؟
  • کیا ایک سرکاری ادارے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ہر ناجائز ہتھکنڈہ استعمال کرے ؟
  • یاد رہے کہ اس سارے تماشے میں حامد میر پرہونے والا حملہ کہیں گم ہو گیا … کیا یہ سارا تماشہ حامد میر پر ہونے والے حملے پر سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے ہی تو نہیں تھا؟
  • جتنی توانائیاں جیو بند کروانے میں صرف ہوئیں اگر اسُ کا نصف بھی حامد میر پر حملہ کرنے والوں کو بے نقاب کرنے میں لگائی جاتی تو یقیناً آئی ایس آئی اور فوج عوام کی نظروں میں سرخ رو ہو جاتی …

سوال جواب …. سپہ سالار کی تقریر کے تناظر میں (خان جی)


لالا جی نے پاکستان کے نئے سپہ سالار کی حالیہ تقریر پرفیس بک پر کچھ تبصرہ کیا تو ایک دوست خان جی نے چند سوال اٹھائے۔ لالاجی کو خوشی ہوتی ہے جب کوئی اختلاف رکھنے والا “کافر، ایجنٹ ، غدار” کا ٹھپہ لگا نے کی بجائے اپنے اختلاف کو مہذب انداز میں پیش کرتا ہے اور سوال اُٹھاتا ہے۔ سوال ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ سوال بحث کی گنجائش پیدا کرتے ہیں اور بحث (اگر محض برائے بحث نہ ہو) تو دونوں فریقوں کی سمجھ بوجھ میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔

آپ کے اس فلسفے میں مندر جہ ذیل باتیں واضح نہیں:۔
۱۔ یہ کہ آپ کے خیال میں مسلہ کشمیر پر آنکھیں بند کرکے ہندوستان سے تعلقات استوار کرنے چاہییے؟؟؟

ہم مسئلہ بلوچستان اور مسئلہ قبائلی علاقہ جات پر آنکھیں بند کر سکتے ہیں تو مسئلہ کشمیر پر کیوں نہیں۔ مسئلہ کشمیر پر آنکھیں بند کرلینا ہی بہتر ہے۔ اتنے کشمیری بھارتی فوج کے مظالم کی وجہ سے نہیں مارے گئے جتنے ہماری فوج کے پالے ہوئے جہادیوں کی وجہ سے مارے گئے۔ بھارتی کشمیر میں امن اور سکون تھا اور وہ لوگ اپنے طور پر آزادی کے لئے ایک اچھی جدوجہد کر رہے تھے۔ ۱۹۸۸ میں ہم نے افغانستان سے فارغ ہونے والے جہادی کشمیر بھیجنے شروع کئے اور اس کے بعد کشمیر کا امن و سکون تباہ ہوا۔ (جب سے ہم نے جہاد کا ٹھیکہ لیا ہے تب ہی سے ہمارا اپنا بھی امن و سکون برباد ہوا۔)

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اپنے گھر میں آگ لگی ہوتو ہم دوسروں کی آگ بجھانے میں اتنی دلچسپی کیوں لیتےہیں۔ پہلے قبائلی علاقوں کو تو دہشت گردوں سے آزاد کرا لیں۔ بلوچستان میں لاشیں گرنے کا سلسلہ تو روک لیں۔ اپنے ملک میں بے زمین ہاریوں، کسانوں اور مزدوروں کو تو غربت اور ذلت کی قید سے آزاد کرا لیں پھر کشمیر کو بھی دیکھ لیں گے۔

پھر سوال یہ ہے کہ گزشتہ ساٹھ پینسٹھ برسوں میں ہم نے کشمیریوں کے لئے کیا کارنامہ انجام دے لیا ہے۔ کشمیر بھی اُن مسائل میں سے ایک ہے جسے ہماری اسٹیبلشمنٹ حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ دہشت گرد گروہ اور کشمیر محض فوج کے لئے ایک بڑا بجٹ مختص کئے رکھنے کا ایک جواز ہے اور بس۔
۲۔ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ فوج کو ایسے فورم پر ایسا بیان دینا چاہے کہ ہم ناکام ہو گئے اور طالبان ملک پر قبضہ کر رہے ہیں؟

فوج کو ایسا بیان دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ لالاجی نے حال ہی میں وزیرستان کا سفر کے عنوان سے دو انگریزی مضامین کے اردو تراجم اپنے بلاگ “آئینہ” پر شائع کئے ہیں وہ پڑھ لیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ طالبان کا قبضہ کہاں کہاں پر ہے۔

میرا سوال یہ ہے کہ فوج کو کوئی بھی بیان دینے کی ضرورت کیا ہے۔ فوج کا کام ہی نہیں ہے بیان جاری کرنا۔ بیان دینا حکومت کا اور سیاسی پارٹیوں کا کام ہے۔ فوج کو اپنے کام سےکام رکھنا چاہئے۔ فوج حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہے۔ حکومت جو بیان دے وہی فوج کا موقف ہونا چاہئے۔ اگر فوج کو اپنا موقف الگ سے پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو یہ بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ فوج حکومت کے ماتحت نہیں ہے۔ ہماری فوج پر اتنی زیادہ تنقید بھی اسی لئے ہوتی ہے کہ یہ من مانیاں کرتی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کو پالنے، ہندوستان کے ساتھ تعلقات خراب رکھنے اور افغانستان کو اپنی کالونی(پانچواں صوبہ) بنانے کی پالیسیاں سول حکومت کی نہیں ہیں۔ یہ ہمارے سلامتی کے ضامن اداروں کی ہیں۔ ان پالیسیوں کا خمیازہ ساری قوم بھگت رہی ہے۔ ان پالیسیوں کی وجہ سے گزشتہ دس سال میں ستر ہزار کے لگ بھگ پاکستانی جن میں پانچ ہزار فوجی بھی شامل ہیں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اگر پھر بھی یہ پالیساں نہیں بدل رہیں تو جو لوگ ان پالیسیوں کے بنانے اور ان کو تبدیلی نہ ہونے دینے کے ذمہ دار ہیں وہ کس کے ایجنٹ ہیں؟
۳۔ اگر آپ کا ناکامی سے مراد ایسے حملے ہیں جو آپ نے بیان فرمائے ہیں تو امریکہ نے ۹/۱۱ کے بعد کیوں ناکامی تسلیم نہیں کی۔ ہندوستان نے ممبئی حملوں اور مسلمانوں کے قتل عام کے بعد کیوں یہ اعتراف نہیں کیا؟

بھائی اگر ایک آدھ حملہ ہوتو ہم اُسے ناکامی تسلیم نہ کرتے مگر یہاں تو لائن لگی ہوئی ہے۔ لاہور میں آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر پر حملے سے لے کر حال ہی میں ایک میجر جنرل کی شہادت اور ایف سی کے جوانوں کے سروں سے فٹ بال کھیلنے تک کی ایک لمبی کہانی ہے۔ اور اس ساری کہانی میں وہ حملے شامل نہیں جن میں ہزاروں سولین مارے گئے۔

امریکہ میں ایک حملہ ہوا تو انہوں نے اس کے حوالےسے اقدامات کئے۔ جن کی بدولت وہاں مزید حملے نہیں ہو سکے۔ اس موقع پر یہ مت بھولیں کہ ان دونوں حملوں کے تانے بانے بھی پاکستان سے ملتےہیں۔ سو یا تو یہ حملے پاکستان نے کروائے، یا پھر ان حملوں کی پاکستان میں بیٹھ کر منصوبہ بندی ہونا اور پاکستان کی سلامتی کی ضامن ایجنسیوں کو اس کی خبر نہ ہونا بھی کسی کی ناکامی ہے۔

ہمارے ملک میں جب تک سولین مرتے رہتے ہیں اُس وقت تک تو کسی کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی۔ ہاں فوجیوں پر حملے ہوں تو پھر دہشت گردوں کے چند ٹھکانوں پر بمباری ہو جاتی ہے۔ مگر ہماری فوج کے آپریشن ہونے کے باوجود بیت اللہ محسود، حکیم اللہ محسود، ولی الرحمان، فقیر محمد، (تھوڑی سے کوشش سے ایسے ناموں کی ایک طویل فہرست تیار کی جا سکتی ہے) سب کے سب ڈرون حملوں میں مرتے ہیں۔ سوات میں آپریشن ہوتا ہے اور فضل اللہ اور اس کے تمام اہم کمانڈر بچ نکلتےہیں۔ گوگل پر تھوڑی سے تلاش کریں تو آپ کو پتہ چلے کہ کتنی بار ہماری فوج خیبر ایجسنی کو “کلیئر” قرار دے چکی ہے۔ مگر منگل باغ نہیں پکڑا جاتا۔

اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ جب جی ایچ کیو پر حملہ ہوا تو ملک اسحاق جیسے قاتل کو آرمی چیف کے اپنے ہیلی کاپٹر میں راولپنڈی لایا گیا تاکہ دہشت گردوں کو سمجھا سکے۔ تب سے ملک اسحاق جیل سے باہر ہے اور پھر کھلے عام شیعہ مخالف تقریریں کرتا پھرتا ہے۔ اُس کا سپاہ صحابہ سے تعلق کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ فوجیں دہشت گردوں سے اس طرح نہیں نمٹا کرتیں۔

وزیرستان کا سفر (حصہ دوئم) …از قہر زلمے


ترجمہ: سلیقہ وڑائچ … اصل انگریزی متن کے لئے یہاں کلک کریں۔

مفتی نورلی کے فیصلےجہاں کچھ لوگوں کوبہت خوش کرتے تو بہت سوں کے لئےاذیت کا باعث بھی بنتے تھے۔ میرے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ جن لوگوں کے طالبان سے اچھے تعلقات تھے یا جو تحریکِ طالبان کے لئے فنڈز مہیاکرتے تھے،مفتی نور ولی انکے حق میں فیصلہ دیتا۔ محسود قبیلے کے کتنے ہی افراد کوکراچی میں نشانہ بنایا گیا تھا، اور طالبان کی اس قدر دہشت تھی کہ جب کسی کو مفتی نور ولی کا فون آتا، وہ ایک دن کی بھی تاخیر کئے بغیر میرانشاہ کا رخ کرتا۔کراچی سے میرانشاہ تک کے سفر، اور دورانِ سفر قیام کے اخراجات تقریبا” پچاس ہزار روپے کے لگ بھگ ہیں۔ لیکن، چونکہ مفتی نور ولی نے کراچی میں کسی بھی قسم کےجرگہ پر پابندی لگائی ہوئی ہے، کسی معمولی کیس کے لئے بھی لوگوں کو مجبوراً مفتی نورولی کے دربار میں حاضری دینا پڑتی ہے۔

سجنا گروپ کا کراچی پر مکمل کنٹرول ہے۔بھلے کوئی ٹھیکیدار ہو،کسی کا آئل ٹینکر یونین سے تعلق ہو یا رکشہ یونین سے، کوئی ٹرانسپورٹر ہو یا تاجر، ہر کوئی بھتہ دینے کا پابند ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب یونین والے خود بھتہ اکٹھا کر کے چیف جسٹس کو رقم جمع کروانے جاتے ہیں۔ حکیم اللہ محسود گروپ کا کراچی سے اثر ورسوخ ختم ہو چکا ہے۔ کراچی کے ساحلی علاقوں میں جہاں کبھی عوامی نیشنل پارٹی( اے این پی) کا سکہ چلتا تھا اب وہاں بھی سجناگروپ کی حکومت ہے۔ تاہم حکیم اللہ محسود کا کوئی ایک کمانڈر بھی پولیس ،فوج یا رینجرز نے ہلاک نہیں کیا۔حکیم اللہ گروپ کے تمام بڑے کمانڈر سجنا گروپ نے چن چن کر مارے ہیں۔ خان زمان، مفتی جاوید، زاہداللہ ذکریا اور عمرسجنا گروپ کے اہم کمانڈروں میں سے ہیں۔ اور کراچی میں کھلے عام دھندہ کر رہے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ قانوں نافذ کرنے والے اداروں نے بھی ان پر کبھی ہاتھ نہیں ڈالا، یہی وجہ ہے کہ عوام کا اس بات پر یقین پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ سجنا گروپ کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔ میں نے میرانشاہ میں لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ ان کا گورنمنٹ یا ایجنسیوں پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے اور وہ اپنی اور اپنے خاندان کی جان بچانے کے لئے میرانشاہ آنے اور بھتے کی رقم ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

مفتی نور ولی لوگوں کو ڈراتا دھمکاتا بھی تھا، جو بھی اس سے مل کر آتا شدید خوفزدہ نظر آتا۔ مفتی نور ولی کا اپنے بارے میں دعوٰی تھا کہ وہ انتہائی سخت گیر اور اصولوں پر سمجھوتا نہ کرنے والا شخص ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بر عکس تھی۔ اگر کوئی شخص کسی اہم طالبان کمانڈر کے حوالے سے مفتی سے ملتا تو نہ صرف اس کو حاضری کا وقت جلدی ملتا بلکہ فیصلہ بھی اس کے حق میں ہوتا ورنہ عام آدمی کو کئی کئی ہفتے انتظار کرنا پڑتا۔ تحریکِ طالبان پاکستان کو   کراچی سےچندے کی مد میں خاصی بڑی رقم ملتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جس کی کچھ تاجروں نے تصدیق بھی کی، کراچی سے تقریبا ۱۰کروڑ روپے ماہانہ بھتہ اکٹھا کیا جاتا ہے۔

ہم سید سجنا کی موجودگی میں مفتی نور ولی سے ملے، ملاقات اچھی رہی۔ لیکن قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نہ تو ہماری جسمانی تلاشی لی گئی نہ ہی ہم سے فون لئے گئے، جس سے سجنا گروپ کا اس علاقےمیں مکمل اثر و رسوخ واضح ہے۔ مفتی نور ولی مجھے انتہائی سخت گیر، کھردرا اور کٹر آدمی لگا جس سے کسی نرم رویئے یا خو ش مزاجی کی توقع ہر گز نہیں کی جاسکتی۔ تاہم اس نے خود کو بےحد سنجیدہ اور اکھڑ آدمی کے طور پر پیش کیا جو کہ انصاف پر مبنی فیصلے کرتا ہو اور کسی کی سفارش قبول نہ کرتا ہو یا کسی حوالے کو نہ مانتا ہو۔ چونکہ وہ طالبان کی اسلامی شرعی عدالت کا چیف جسٹس ہے اس لئے شریعت کی روشنی میں فیصلے سناتا ہے۔ تاہم وہ مہمان نواز ہے اور اگر دوپہر کے کھانے کا وقت ہو تو دفتر میں موجود تمام لوگوں کو کھانا کھلاتا ہے۔ اس نے ہمیں بھی عمدہ کھانا کھلایا۔ کھانے میں بڑا گوشت،آلو اور شوربہ تھا اور اس کے بعد چائے سے ہماری تواضع کی گئی۔

خان سید سجنا اور اس کے گروپ کے تمام افراد مفتی نور ولی کا بے حد احترام کرتے تھے۔ میرے ساتھی کا اتحاد ٹاون میں دوسری پارٹی کے ساتھ پلاٹ کا تنازعہ تھا جس کے حل کے لئے وہ یہاں آیاتھا۔ ایک اہم طابان کمانڈر کی سفارش پر ہمیں اسی دن چیف جسٹس سے ملاقات کا وقت مل گیا۔ لیکن چیف جسٹس کسی حتمی فیصلےتک نہ پہنچ سکا اور اس نے دونوں فریقوں کو آگاہ کر دیا کہ وہ اپنے طالبان کمانڈوں سے ثبوت مہیا کرنے کا کہے گا اور   اگلی سماعت میں فیصلہ کرے گا۔ اور یہ کہ اگلی سماعت کی تاریخ کے بارے میں دونوں فریقوں کو ’باقاعدہ‘ آگاہ کر دیا جائے گا۔

میں نے شمالی وزیرستان کےکئی قصبے دیکھے جن میں دتہ خیل، میر علی، غلام خان، شوال، ڈانڈے درپخیل اور داور قبیلے کے علاقے شامل ہیں۔ وہاں مجھے پتا چلاکہ داوڑ قبائلی ،محسود قبائلیوں سے بے حد تنگ ہیں۔، سینکڑوں داوڑ قبائلی خاندان اپنا گھر بار اور زمینیں چھوڑ چھاڑ بنوں ہجرت کر گئے تھے۔ نقل مکانی کی وجہ فوجی آپریشن تھے بالخصوص کھجوری میں ہونے والے خودکش بم دھماکے اور میر علی میں ہونے والی جوابی فوجی کاروائی کے بعد ہجرت میں شدت آگئی تھی۔ داوڑ قبائلیوں کی نقل مکانی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سیاسی حکومت اور انتظامیہ انھیں ازبک اور دیگر طالبان گروہوں کو اپنے علاقوں سے نکالنے پر مجبور کر رہی تھی۔ ان کی حالت قابلِ رحم تھی وہ کیسے ان گروہوں کو باہر نکال سکتے جب کہ خود حکومت اور انتظامیہ طالبان کو ان علاقوں سے نکال باہر کرنے سے قاصرتھی۔ داوڑ قبائلیوں نے بتایا کہ جب کبھی ڈرون حملہ ہوتا یا فوجی کاروائی ہوتی تو طالبان عسکریت پسند ان کی دکانیں لوٹ لیتے۔ انفرادی طور پرمقامی لوگ ڈرون حملوں کے معترف تھے اور ڈرون حملوں کے حق میں تھے لیکن میڈیاکے سامنے بیان دینے سے خوفزدہ تھے۔

جو سب سے اہم بات ہمارے دیکھنے میں آئی وہ یہ تھی کہ میرانشاہ کے مین بازار میں فوجی کیمپ تھا لیکن مین بازار کے عین وسط میں ایک ہسپتال ہے جس پر طالبان کی باقاعدہ عملداری قائم ہے۔ ہم نےہسپتال میں حقانی گروپ اور سجنا گروپ کے طالبان کو دیکھا۔ حقانی گروپ اور سجنا گروپ کے طالبان کو ہم نے سرِعام گاڑیوں میں گھومتےدیکھا۔ کسی چیک پوسٹ پر انھیں نہیں روکا جاتا تھا۔ وزیر طالبان بھی میرانشاہ اور شمالی وزیرستان میں آزادانہ گھوم پھر رہے تھے۔

کچھ عام مشاہدات : جب اعلٰی طالبان کمانڈر اپنی گاڑیوں کو پارک کرتے ہیں، تو ان کی گاڑیوں کی سختی سے نگرانی کی جاتی ہے تاکہ کوئی گاڑی کے قریب دھماکہ خیز مواد نصب نہ کر جائے۔ دونوں گروپ ایک دوسرے سے خوفزدہ ہیں اور حالیہ واقعات میں دونوں نےایک دوسرے کے کمانڈروں کو ہلاک کیا ہے۔میں نے سنا کہ تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر ایک جگہ نہیں ٹکتے۔ رئیس خان عرف اعظم طارق، نور ولی اور خان سید سجنا جیسے اعلٰی کمانڈر مختلف گھروں میں رہتے ہیں جو ان کو مقامی لوگوں کی طرف سے ملے ہوئے ہیں۔ طالبان کمانڈر ایک دوسرے کو بغیر اطلاع کئے اچانک ملتے ہیں۔ رات کے وقت، ڈرون اڑنے کی آوازیں آتی ہیں تو سب لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں کہ اب کی بار ان کا گھر ہی ڈرون کا نشانہ نہ ہو۔ لیکن اس خوف کے باوجود، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آج تک بننے والے سب ہتھیاروں میں سے ڈرون بہترین ہتھیار ہیں۔

وزیرستان کا سفر (حصہ اول) … از قہر زلمے


ترجمہ: سلیقہ وڑائچ ۔ اصل انگریزی متن کے لئے کلک کریں

یہ ایک ناقابلِ فراموش سفر تھا۔ ہم چار دوستوں نے ۱۵جنوری کو اتحاد ٹاون کراچی سےسفر شروع کیا۔ اتحاد ٹاون میں پلاٹ تنازعے کے حل کے لئے شمالی وزیرستان جانا ضروری تھا۔ جہاں ہمیں طالبان کمانڈر خان سید عرف سجنا سے ملاقات کرنی تھی۔ سولہ گھنٹے کی طویل مسافت کے بعد ہم خیبر پختونخواہ کے جنوبی شہر بنوں پہچے۔ جہاں ہم ایک ہوٹل میں ٹھہرے۔ اگلی صبح مسافر وین سے ہم شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ کی جانب روانہ ہوئے۔ راستے میں پہلی چیک پوسٹ باکا خیل میں تھی، جہاں ہمیں وین سے اتار دیا گیا اور جسمانی تلاشی لی گئی۔ چوکی   کی حد میں تقریبا” ایک کلومیٹر ہمیں پیدل چلنا پڑا۔ صرف عورتوں اور عمر رسیدہ افراد کو وین پر بیٹھے رہنے کی اجازت ملی۔ جب چوکی کراس کر چکے تو ہمیں وین میں بیٹھنا نصیب ہوا۔ دوسری چیک پوسٹ کھجوری کے مقام پر تھی، یہاں پھر وہی رسم ادا کی گئی۔ بالکل ویسے ہی ہم نے ہاتھوں میں شناختی کارڈ پکڑ ے اور چوکی پر مامور فوجی عملے نے ویسی ہی ہماری تلاشی لی۔ بالخصوص جو لوگ شمالی وزیرستان سےنہیں تھے ان سے پوچھ گچھ میں مزید سختی برتی جاتی۔

جب ہم میر علی پہنچے تو ہمیں ایک ہوٹل نظر آیا جس کے بارے میں مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس ہوٹل سے چالیس افراد کو نکال کر کھڑے کھڑے گولیاں ماری گئی تھیں، ہم نے وہ مسجد بھی دیکھی جس پر گولے داغے گئے تھے۔ جب ہم میرانشاہ پہنچے تو ایسے لگا جیسے ہم کسی دوسرے ملک پہنچ گئے ہوں، ہر کوئی طالبان گروہوں کا حامی دکھائی دے رہا تھا۔ وہاں چیچن،ازبک، ترکمانی، تاجک، اویغور اور پنجابی سبھی نظر آئے،تاہم کسی وجہ سے کوئی عرب باشندہ دیکھائی نہیں دیا۔ میں متجسس تھا کہ عرب جنگجو کہاں رہ رہے ہیں، بعد میں پتا چلا کہ عرب باشندے میرانشاہ کے مضافاتی علاقوں یا دیہات میں رہتے تھے اور شازونادر ہی گھروں سے باہر نکلتے یا بازاروں کا رخ کرتے۔ حتٰی کہ اشیائے خوردونوش یا ضروری سامان کے لئے بھی انھوں نے مقامی لوگوں کو اجرت پر رکھا ہوا تھا جن کو وہ ضرورت پڑنے پر پشاور یا پاکستان کےکسی بھی بڑے شہر میں بھیجتے۔

وہاں ہر دوسرے شخص کے ہاتھ میں واکی ٹاکی یا لمبے انٹینا والے وائرلیس سیٹ تھے اور مختلف گروپوں کے مختلف کوڈ تھے بالکل ایسے ہی جیسے فوج میں ہوتا ہے۔ اور وائرلیس پر وہی کوڈ استعمال کئے جاتے تھے، سب سے زیادہ ’ابابیل‘ نام کا کوڈ سننے میں آیا۔ میں نے وہاں افغان فوج،افغان پولیس اور نیٹو کی گاڑیاں بھی دیکھیں جن کو کسی چیک پوسٹ پر روکا جاتا نہ تلاشی لی جاتی۔ یقین سے کچھ کہنا مشکل تھا کہ یہ گاڑیاں کس کے استعمال میں تھیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ جس چیک پوسٹ سے عام آدمی کو شناخت اور بھرپور تلاشی کے بغیر گزرنے نہیں دیا جاتا تھا وہاں سے نہ صرف افغان اور نیٹو کی گاڑیاں بلکہ اور بھی کئی کالے شیشوں والی گاڑیاں یا وہ جن پراونچی آوازوں میں نعتیں چل رہی ہوتی تھیں بلا روک ٹوک گزرتی تھیں۔

ہمیں محسود طالبان کےسجناگروپ سے کام تھا لیکن وہاں محسود طالبان کا ایک اور گروپ بھی تھا حکیم اللہ گروپ۔ البتہ میری ساری توجہ سجنا گروپ اور ان کے کام کرنے کے طریقے پرمرکوز تھی۔

میرانشاہ میں محسود قبائلیوں کے لیے، زمین کے تنازعات، کاروبار کے تنازعات اور خاندانی مسائل کے حل کے لئے الگ الگ دفاتر (مرکز) تھے. سانپ مکین، لدھا، سپینکئی راغزئی اورباروان، جیسے علاقوں میں طالبان کے علیحدہ مراکز تھے جن کے لینڈ لائن رابطہ فون نمبر بھی تھے اور جہاں سے طالبان پاکستان بھر میں کہیں بھی نمبر ملا سکتے تھے۔ مختلف علاقوں کے لئےمیرانشاہ کے مین بازار میں طالبان کے کم از کم سترہ دفاتر یا مراکز تھے۔ یہ دفاتر کافی بڑے تھے اور یہاں ایک وقت میں کم ازکم چالیس افراد کے بیٹھنے کی جگہ ہوتی تھی۔ آپ کراچی سے ہوں جنوبی وزیرستان یا ملک بھر میں کہیں بھی رہتے ہوں اگر آپ کا تعلق محسود قبیلے سے ہے، تو آپ کی شکایت کو آپ کے خاندان یا آبائی علاقے کے لئے مخصوص متعلقہ دفتر میں ہی سنا جائے گا۔ حکیم اللہ محسود گروپ کے اپنے علیحدہ دفاتر تھے اور ان دونوں گروپوں میں واضح تناؤ کی صورتحال تھی، لیکن ہمارے تنازعے کو چونکہ سجنا گروپ نے حل کرنا تھا تومیری توجہ بھی سجنا گروپ اور ان کے طریقہ کار پر تھی۔

ہمیں مفتی نور ولی سے ملنا تھا جس کا تعلق سجنا گروپ سے تھا اور جو کراچی میں بسنے والے محسود قبائلیوں کو میرانشاہ ہیڈکوارٹر سے کنٹرول کرتاتھا۔ محسود قبائلی پورے ملک میں سب سے زیادہ کراچی شہر میں آباد ہیں۔ اور ان کے تمام مسائل کو مفتی نور ولی کی عدالت میں سنا جاتا ہے۔ قارئین کی معلومات کے لئے بتاتا چلوں کہ سجنا گروپ نےمحسود قبائلیوں کے لئے کراچی میں جرگے (دیہی عدالت) پر پابندی لگائی ہوئی ھے۔ تو کسی بھی قسم کے چھوٹے یا بڑے تنازعے کے حل کےلئے سائل کو میرانشاہ جا کر مفتی نور ولی کی عدالت میں پیش ہونا پڑتا ہے۔ مفت نور ولی کا دفتر میرانشاہ کے مین بازار میں مرکزی مارکیٹ میں ایک عمارت کی دوسری منزل پر ہے۔ پینتیس سالہ، دراز قامت اور بھینگا مفتی نور ولی طالبان کی شرعی عدالت کا چیف جسٹس ہے۔

میرے دوست کو مذاق سوجھا۔ وہ سید سجنا کو بتانا چاہتا تھاکہ آپ کا چیف جسٹس بھی پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی طرح بھینگا ہے، میں نے اسے روک دیا مجھے ڈر تھا کہ سید سجنا برا مان جائےگا۔ ہم چاروں میں سے صرف میرا تعلق محسود قبیلے سے نہیں تھا۔ میں نے وہاں سینکڑوں کی تعداد میں محسود قبائلی دیکھے جو کراچی سے میرانشاہ آئے ہوئے تھے کیونکہ طالبان نے مفتی نور ولی کی عدالت میں انکی پیشی کےآرڈر جاری کئے تھے۔ کراچی سے آئے بے شمار ایسے لوگ ملے جنھوں نے بتایا کہ انھیں طالبان شورٰی کے چیف جسٹس کے سامنے پیش ہونے کے لئے اپنی باری کاانتظارتھا۔ جس کے لئےوہ گذشتہ کئی روز سے میرانشاہ اور میرعلی کے ہوٹلوں میں ٹھہرنے پر مجبور تھے یہاں ان کی جان کو خطرہ بھی تھا۔ لیکن اگر وہ نہ آتے تو کراچی میں انھیں ٹارگٹ کر کے قتل کر دیا جاتا۔ ان کی حالت قابلِ زار تھی ہر طرح سے موت کا سایہ ان کے سر پر منڈلا رہا تھا۔

مفتی نور ولی کی خدمات حاصل کرنے آنے والوں میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے،کوڑے کرکٹ کی نقل حرکت کے کاروبار سے منسلک لوگ، وہ جن کے اتحاد ٹاون،سہراب گوٹھ یا کنواری کالونی میں پلاٹوں کے تنازعات تھے حتٰی کہ چنگ چی رکشہ چلانے والے بھی۔ ان میں زیادہ تعداد غریب لوگوں کی تھی جو کہ خطیر رقم خرچ کر کے شمالی وزیرستان آئے تھے اور کئی دنوں سے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے کہ کب باری آئے اور اس بھینگے شخص سے ملاقات ہو جو کہ چیف جسٹس مقرر تھا۔ کتنے ہی لوگوں کو واپس بھیج دیا گیا کیوں کہ بڑے صاحب مصروف تھے اور انکے پاس فی الحال ان غریبوں سے ملاقات کا فالتو وقت نہیں تھا،ہاں اگر آپ کے پاس تگڑی سفارش ہو، بڑا حوالہ ہو تو آپ کو حاضری کا وقت جلد مل سکتا ہے ورنہ بسا اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کو سرے سے ملاقات کا وقت ملتا ہی نہیں۔

پیشہ ور قاتلو…! تم سپاہی نہیں


Ahmad Faraz

احمد فراز

پاک فوج کے لئے یہ نظم احمد فراز نے ۱۹۷۱ء کے سانحے کے بعد لکھی تھی۔ پاک فوج نے خیر سبق تو کیا سیکھنا تھا محض چھ برس بعد وہ پھر قوم کو فتح کر کے مسندِ اقتدار پر آ بیٹھی اور ظلم و جبر کا وہی بازار گرم کر دیا جو پاک فوج کا خاصہ ہے۔ اس نظم میں مشرقی پاکستان میں جنرل نیازی کی طرف سے بنگالیوں کی “نسل بدلنے” کا حوالہ بھی موجود ہے اور آج بھی سرحد (موجودہ پختونخواہ) سے لے کر پنجاب اور مہران تک مقتل سجانے کی بات ہے اور بولان میں شہریوں کے گلے کاٹنے کی بات بھی کی گئی ہے۔ کسی بھی طرح یہ نہیں لگتا کہ یہ نظم ستر کی دہائی میں لکھی گئی ہے۔ پاکستان آج بھی ویسا کا ویسا ہی ہے … پاکستان کی فوج آج بھی ویسی کی ویسی ہی ہے۔ اس میں قصور کس کا ہے؟ (لالاجی)

میں نے اب تک تمھارے قصیدے لکھے
اورآج اپنے نغموں سے شرمندہ ہوں
اپنے شعروں کی حرمت سے ہوں منفعل
اپنے فن کے تقاضوں سے شرمندہ ہوں
اپنےدل گیر پیاروں سےشرمندہ ہوں

جب کبھی مری دل ذرہ خاک پر
سایہ غیر یا دست دشمن پڑا
جب بھی قاتل مقابل صف آرا ہوئے
سرحدوں پر میری جب کبھی رن پڑا
میراخون جگر تھا کہ حرف ہنر
نذر میں نے کیا مجھ سے جو بن پڑا

آنسوؤں سے تمھیں الوداعیں کہیں
رزم گاہوں نے جب بھی پکارا تمھیں
تم ظفر مند تو خیر کیا لوٹتے
ہار نے بھی نہ جی سے اتارا تمھیں
تم نے جاں کے عوض آبرو بیچ دی
ہم نے پھر بھی کیا ہےگوارا تمھیں


سینہ چاکان مشرق بھی اپنے ہی تھے
جن کا خوں منہ پہ ملنے کو تم آئے تھے
مامتاؤں کی تقدیس کو لوٹنے
یا بغاوت کچلنے کو تم آئے تھے
ان کی تقدیر تم کیا بدلتے مگر
ان کی نسلیں بدلنے کو تم آئے تھے

اس کا انجام جو کچھ ہوا سو ہوا
شب گئی خواب تم سے پریشاں گئے
کس جلال و رعونت سے وارد ہوئے
کس خجالت سے تم سوئے زنداں گئے
تیغ در دست و کف در وہاں آئے تھے
طوق در گردن و پابجولاں گئے

جیسے برطانوی راج میں گورکھے
وحشتوں کے چلن عام ان کے بھی تھے
جیسے سفاک گورے تھے ویت نام میں
حق پرستوں پہ الزام ان کے بھی تھے
تم بھی آج ان سے کچھ مختلف تو نہیں
رائفلیں وردیاں نام ان کے بھی تھے

پھر بھی میں نے تمھیں بے خطا ہی کہا
خلقت شہر کی دل دہی کےلیئے
گو میرے شعر زخموں کے مرہم نہ تھے
پھر بھی ایک سعی چارہ گری کیلئے
اپنے بے آس لوگوں کے جی کیلئے

یاد ہوں گے تمھیں پھر وہ ایام بھی
تم اسیری سے جب لوٹ کر آئے تھے
ہم دریدہ جگر راستوں میں کھڑے
اپنے دل اپنی آنکھوں میں بھر لائے تھے
اپنی تحقیر کی تلخیاں بھول کر
تم پہ توقیر کے پھول برسائے تھے

جنکے جبڑوں کو اپنوں کا خوں لگ گیا
ظلم کی سب حدیں پاٹنے آگئے
مرگ بنگال کے بعد بولان میں
شہریوں کے گلے کاٹنے آگئے

ٓاج سرحد سے پنجاب و مہران تک
تم نے مقتل سجائے ہیں کیوں غازیو
اتنی غارتگری کس کی ایما پہ ہے
کس کے آگے ہو تم سر نگوں غازیو
کس شہنشاہ عالی کا فرمان ہے
کس کی خاطر ہے یہ کشت و خوں غازیو

کیا خبر تھی کہ اے شپرک زادگاں
تم ملامت بنو گے شب تار کی
کل بھی غا صب کے تم تخت پردار تھے
آج بھی پاسداری ہے دربار کی
ایک آمر کی دستار کے واسطے
سب کی شہ رگ پہ ہے نوک تلوار کی

تم نے دیکھے ہیں جمہور کے قافلے
ان کے ہاتھوں میں پرچم بغاوت کے ہیں
پپڑیوں پر جمی پپڑیاں خون کی
کہ رہی ہیں یہ منظر قیامت کے ہیں
کل تمھارے لیئے پیار سینوں میں تھا
اب جو شعلے اٹھے ہیں وہ نفرت کے ہیں

آج شاعر پہ بھی قرض مٹی کا ہے
اب قلم میں لہو ہے سیاہی نہیں
خون اترا تمھاراتو ثابت ہوا
پیشہ ور قاتلوں تم سپاہی نہیں
اب سبھی بے ضمیروں کے سر چاہیئے
اب فقط مسئلہ تاج شاہی نہیں