کیا عورتوں کا لباس ہی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے؟؟؟
ہمیں میڈیا، کتابوں اور دیگر کئی ذرائع سے مختلف بحثوں میں الجھایا جاتا ہے اور ہم بخوشی ان بحثوں میں الجھ جاتے ہیں۔ یہ بحثیں ہمیشہ سے بحث برائے بحث ہی رہتی ہیں۔ فیس بک پر بھی ایسی ہی بحثیں چھڑی رہتی ہیں۔ کبھی فحاشی اور عورت پر ، کبھی ہندوستان سے مقابلے پر کبھی کچھ، کبھی کچھ ۔ یہ بحثیں ہماری توجہ اصل مسائل کی طرف سے ہٹا دیتی ہیں۔ اصل مسائل کی طرف سے توجہ ہٹنے کا فائدہ ہمیشہ ان قوتوں کو ہوتا ہے جو موجود صورت حال میں فائدے میں ہیں۔ ان میں جاگیر دار، وڈیرے، جرنیل شامل ہیں۔ اور ان کا نقصان ہمیشہ نچلے طبقے کے مظلوم لوگوں کو ہوتا ہے جو استحصال کے شکنجے میں پھنسے رہتے ہیں۔ ہمارے میڈیا کے اینکر پرسن اور مولوی (نام نہاد تجزیہ کار، ماہرین اور علماء دین) ان جاگیر داروں، وڈیروں، صنعت کاروں، تاجروں اور جرنیلوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے ہمیں اس طرح کی الٹی سیدھی بحثوں میں الجھائے رکھتے ہیں اور خود موٹی موٹی تنخواہیں پاتے ہیں۔
ہمارے اصل مسائل یہ ہیں کہ وڈیرے کے جاگیر پر کام کرنے والے کسان کو اُس کا حق نہیں ملتا، صنعت کار کی فیکٹریوں میں خون پسینہ ایک کرنے والے مزدور کو کچھ نہیں ملتا، تاجر کے سیلز مین کو اور جرنیل کے نیچے کام کرنے والے سپاہی کو کچھ نہیں ملتا۔بھٹے پر کام کرنے والا مزدور اتنا غریب ہوتا ہے کہ جب ذرا سا بیمارہو جائے تو بھٹہ مالک سے قرض لے کر علاج کرانا پڑتا ہے اور پھر وہ مزدور، اُس کی بیوی اور چھوٹے چھوٹے بچے ساری زندگی اینٹیں بناتے رہتے ہیں مگر وہ قرض کبھی نہیں اترتا۔ یہی صورت حال وڈیروں کی جاگیروں پر کام کرنے والے مزارعوں/ہاریوں کی ہوتی ہے۔
ہم اسی بحث میں پڑے رہتے ہیں کہ داڑھی کتنی بڑی رکھنی ہے، کپڑے کیسے پہننے ہیں، کون کافر اور کون مسلمان ہے۔ ہمارے بچے بھوکے مرتے ہیں مگر ہم کافروں کو ختم کرنے کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ ایک لمحہ بھی نہیں سوچتے کہ دنیا میں کافروں کی تعداد مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ ہے اور ہم انہیں کبھی ختم نہیں کر سکیں گے۔ ہماری عورتیں بیماری/زچگی میں مر جاتی ہیں مگر ہم انہیں ڈاکٹر تک نہیں لے کر جاتے کہ یہ اسلام میں جائز نہیں۔ ہمارا مزدور اور کسان ساری زندگی محنت مشقت کرتا ہے مگر اُسے ہمارا مولوی یہ تسلی دئے رکھتا ہے کہ تمہاری قسمت میں خدا نے یہی لکھا ہے، یہی تمہاری تقدیر ہے اور اگلے جہان تمہیں 72حوریں ملیں گی۔
کبھی بسوں کے اڈوں پر ان بوڑھے لوگوں کو کام کرتے ہوئے دیکھو جن کی عمر کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس وقت کہیں معقول پنشن پر اپنی زندگی کے باقی ایام آرام سے گزار رہے ہوں، مگر وہ اس عمر میں بھی یا مسواکیں بیچ رہے ہوں گےیا بھیک مانگ رہے ہوں گے۔ کبھی اُن بچوں کی طرف دیکھو جو کوڑے کے ڈھیر پر سے خوراک تلاش کر رہے ہوتے ہیں مگر ہم اُن کے حالات پر بحث نہیں کرتے۔ ہماری بحث یہ ہے کہ شیعہ کافر ہے کہ نہیں ہے۔
یہ ہیں ہمارے اصل مسائل۔ اور یہ مسائل ہمارے معاشرے میں اس لئے نہیں ہیں کہ عورتیں معقول لباس نہیں پہنتیں یا مرد صحیح داڑھی نہیں رکھتے۔جن معاشروں میں عورتیں ہماری عورتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ عریاں لباس پہنتی ہیں وہاں یہ مسائل نہیں ہیں۔ جن معاشروں میں مردوں کا لباس ٹخنوں کی قید سے آزاد ہے اور داڑھیاں شرعی نہیں وہاں بھی یہ مسائل نہیں ہیں۔ نہ ہی ہمارے ان مسائل کی وجہ ہندو یا یہودی کی سازش ہے۔ کون ہندو ایک مسلمان وڈیرے کو ایک مسلمان کسان/ہاری پر ظلم کرنے پر اکساتا ہے؟ کون یہودی ایک مسلمان صنعت کار کو ایک مسلمان مزدور کا خون پینے کی راہ دکھاتا ہے؟ آخر کون سی طاقت ایک مسلمان جرنیل کو اپنی ہو قوم کو فتح کرنے کا راستہ بار بار دکھاتی ہے؟ ہمارا دشمن شاید کہیں باہر نہیں بلکہ ہمارے اندر موجود ہے۔
ان سوالوں کے جوابات میں نہیں دے رہا۔ ان کے جوابات روزانہ مختلف ٹی وی چینلوں پر مرغے لڑانے والے اینکرز کے پاس بھی نہیں ملیں گے، ان کے جوابات ہر جمعہ کو منبر پر بیٹھ کر امریکہ، ہندوستان اور اسرائیل کو گالی دینے والے اور مسلمان کو مسلمان سے لڑانے والے عالمِ دین کے پاس بھی نہیں ملیں گے۔ ان کے جوابات آپ کو رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماع میں بھی نہیں ملیں گے۔ کیونکہ یہ سب تو ہمارے معاشرے کے وسائل پر قابض جاگیرداروں، وڈیروں اور جرنیلوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ وہیں سے ان سب کو ہڈیاں پھینکی جاتی ہیں۔ ان سوالوں کے جواب ہمیں اور آپ کو تلاش کرنا ہیں اوران ہڈیاں اٹھا کر دم ہلا نے والے جانوروں کی مدد کے بغیر تلاش کرنا ہیں۔
محمد بن قاسم کے حوالے سے ہماری درسی کتابیں ہمیں بار بار یہ تو بتاتی ہیں کہ اُس نے سترہ سال کی چھوٹی سی عمر میں فوجی جرنیل کا عہدہ سنبھال کر سندھ پر حملہ کیا اور بڑی مہارت سے دیبل سے لے کر ملتان تک کا علاقہ تھوڑے سے عرصے میں فتح کر لیا۔ تاہم یہ کتابیں اس حوالے سے مکمل طور پر خاموش ہیں کہ محمد بن قاسم سندھ فتح کرنے کے بعد کہاں گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے طلباء/نوجوانوں کو بھی میں نے کبھی یہ سوال اٹھاتے نہیں سنا۔ حالانکہ فطری سی بات ہے کہ بندے کو یہ تجسس پیدا ہوتا ہے کہ آخر جس نوجوان نے سترہ سال کی عمر میں سندھ فتح کر لیا اُس نے باقی کی زندگی کیسے گزاری۔ کسی مشہور شخص کی پیدائش کا احوال معلوم نہ ہونا تو اتنی حیرت کی بات نہیں۔ لیکن اگر کسی شخص نے چھوٹی سی عمر میں اتنا بڑا کارنامہ انجام دیا ہو تو اس کی موت کے حوالے سے کتابوں میں کوئی ذکر نہ ملنا یقیناً حیرت کی بات ہے۔
اسی تجسس نے لالاجی کو بے چین کر دیا اور لالا جی نے اس معاملے کو کریدنا شروع کر دیا۔ اس کے نتیجے میں جو چند باتیں مختلف ذرائع سے سامنے آئیں وہ پیش خدمت ہیں:
پہلی بات تو یہ ہے کہ محمد بن قاسم سندھ کی فتح کے بعد کچھ زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہا۔ سترہ سال کی عمر میں سندھ پر حملہ کرنے نکلا۔ اُس زمانے میں سفر کی مشکلات اور طوالت کو سامنے رکھئے، پھر دیبل (موجودہ کراچی کے آس پاس کوئی جگہ) سے لیکر ملتان تک کی فتوحات میں لگ بھگ تین سال لگ گئے۔ تقریباً سارے ہی مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ محمد بن قاسم کی وفات بیس (۲۰) سال کی عمر میں ہوئی۔
دوسری بات یہ ہے کہ محمد بن قاسم کی موت میدانِ جنگ میں لڑتے ہوئے نہیں ہوئی۔ نہ ہی کسی بیماری کی وجہ سے ہوئی۔ اگرچہ مورخٰین موت کے حوالے سے کوئی متفقہ فیصلہ نہیں دیتے تاہم اس بات پر سب متفق ہیں کہ محمد بن قاسم کی موت اپنے ہی حاکم کی طرف سے دی گئی سزا کے نتیجے میں واقع ہوئی۔
موت کیسے ہوئی ، حاکم کیوں ناراض ہوا، کیا سزا سنائی گئی…ان باتوں پر مورخین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ محمد بن قاسم کی موت کے حوالے سے دو بیانات ملتے ہیں:
1) چھچھ نامہ سندھ کی تاریخ پر پہلی باقاعدہ کتاب سمجھی جاتی ہے۔ چھچھ نامہ میں محمد بن قاسم کے سندھ پر حملے اور سندھ کے مختلف شہروں کے محاصرے، جنگوں اور فتوحات کی تفصیلات درج ہیں۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ اس کتاب کے مطابق محمد بن قاسم نے راجہ داہر کی موت اور اس کی فوج کو شکست دینے کے بعد مسلمانوں کے دستور کے مطابق مالِ غینمت اور راجہ کی بیوی اور بیٹیوں کو اپنے حاکم حجاج بن یوسف کو بھجوا دیا۔ راجہ داہر کی بیٹیوں نے حجاج بن یوسف سے جھوٹ بولا کہ وہ خلیفہ کے لائق نہیں کیوں کہ محمد بن قاسم نے انہیں پہلے ہی استعمال کر لیا تھا۔ اس بات پر حجاج بہت ناراض ہوا اور حکم دیا کہ محمد بن قاسم کو بیل کی کھال میں بند کر کے واپس لے آؤ۔ اس کے حکم پر عمل کیا گیا تاہم بیل کی کھال میں دم گھُٹنے سے محمد بن قاسم کی راستے ہی میں موت واقع ہو گئی۔ بعد میں حجاج کو راجہ داہر کی بیٹیوں کا جھوٹ معلوم ہو گیا۔ انہوں نے محمد بن قاسم سے اپنے باپ کی موت کا بدلہ لینے کے لئے یہ جھوٹ بولا تھا۔ حجاج نے ان لڑکیوں کو زندہ دیوار میں چنوا دیا۔
2) أحمد بن يحيى بن جابر البلاذري ایک مسلمان مورخ ہے جو خلیفہ المتوکل کے دربار تک رسائی رکھتا تھا۔ اس نے مسلمانوں کے ابتدائی دور کی تاریخ کو قلم بند کیا ہے۔ البلاذري نے ایک کتاب لکھی تھی فتوح البلدان کے نام سے جس کا انگریزی ترجمہ فلپ کے ہِٹی(Philip K Hitti) نے ‘The Origins of the Islamic State’کے نام سے کیا ہے۔ البلاذري کے مطابق714ء میں حجاج کی موت کے بعد اُس کے بھائی سلیمان بن عبدالمالک نے حکومت سنبھالی۔ وہ حجاج بن یوسف کو سخت ناپسند کرتا تھا۔ اُس نے عنان حکومت سنبھالتے ہی حجاج کے منظورِنظر افراد کو قید کروا دیا۔ محمد بن قاسم بھی حجاج بن یوسف کے پسندیدہ افراد میں گنا جاتا تھا(یاد رہے کہ محمد بن قاسم حجاج بن یوسف کا داماد بھی تھا اور بعض مورخین کا خیال ہے کہ بھانجا بھی تھا)۔ چنانچہ محمد بن قاسم کو بھی قید کر دیا گیا۔ قید کے دوران میں ہونے والے تشدد کے نتیجے میں محمد بن قاسم کی موت واقع ہو گئی۔
محمد بن قاسم کی موت کے حوالے سے یہ باتیں قوم کے نونہالوں سے چھپا کر ہمارا محکمہ تعلیم کیا حاصل کرنا چاہتا ہے اس کا تو پتہ نہیں۔ تاہم اپنے ماضی کے ناپسندیدہ واقعات کو چھُپایا تو جا سکتا ہے، مٹایا نہیں جا سکتا۔ جو قوم اپنی تاریخ سے پوری طرح آگاہ نہیں ہوتی، وہ کبھی بھی پورے اعتماد سے دوسری قوموں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار نہیں کر سکتی۔
بس کریں جنرل صاحب بس…
۱۵ مارچ ۲۰۱۲ء کو ہمارے سپہ سالارِ اعظم(بقول ہمارے منصفِ اعظم) نے نہایت شفقت فرمائی اور قوم کو چند نصیحتوں سے فیض یاب فرمایااور کچھ حقائق بھی بیان فرمائے۔ ان کی گفتگو کا لُبِ لباب یہ تھا:
قومی اداروں کے کردار پر تنقید نہیں ہونی چاہئے۔ ان اداروں کو بننے میں سالوں کی محنت لگتی ہے۔دوسرے ملکوں میں خفیہ ایجنسیوں کے کردار پر اتنی شدت سے تنقید نہیں کی جاتی جتنی پاکستان میں ہوتی ہے۔انہوں نے موساد، را اور سی آئی اے کی مثالیں دیں۔ ایسی تنقید سے فوج کا مورال گرتا ہے۔ ہمارے جوان منفی ۲۰ سینٹی گریڈ پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مہران بنک کیس کے حوالے سے انہوں نے فرمایا کہ یہ تاریخ سے لڑنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید فرمایا “ہمیں ماضی سے سیکھنا چاہئے ، حال میں زندہ رہنا چاہئے اور مستقبل پر نظر رکھنی چاہئے”۔
فوج کی سرگرمیوں نے بلوچستان کے لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنایا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں غائب افراد کی تعداد صرف 47 ہے۔
جنرل صاحب سے نہایت مودبانہ طور پر کچھ گزارشات ہیں۔ امید ہے ناگوار نہیں گزریں گی۔
قومی اداروں کی تعمیر:
جناب جنرل صاحب گزارش یہ ہے کہ آپ نے بجا فرمایا کہ ادارے سالوں کی محنت سے بنتے ہیں۔ مگر آپ یہ بھول جاتے ہیں کہ صرف ایک ادارہ ملک چلانے کے لئے کافی نہیں ہوتا۔ پارلیمنٹ بھی ایک ادارہ ہے، عدلیہ بھی ایک ادارہ ہے۔ ہمیں ان اداروں کو بھی بنانا ہے۔ پارلیمنٹ آئی ایس آئی سے ہزار گنا زیادہ اہم ادارہ ہے۔ اگر آپ کا ادارہ مہربانی فرمائے تو ہم ان اداروں کو بھی بنا لیں۔ اگر آپ کی آئی ایس آئی ذرا شفقت فرمائے اور میمو گیٹ جیسے تماشے کھیلنا بند کردے تو عین نوازش ہوگی۔
قومی اداروں پر تنقید:
جو ادارہ اپنے کام کے علاوہ دنیاء کا ہر کام کر رہا ہو اُس پر تنقید نہ ہو تو اور کیا ہو۔ جو ادارہ گالف کلب، کھاد، بنک، شادی ہال اور سامان کی ترسیل جیسے کام تو کرے مگر چند دہشت گرد گروہوں کو قابو کرنے میں ناکام ہو جائے اس کو جھک جھک کر سلام کیسے کیا جائے۔ جس ادارے کو اپنی ہی ٹریننگ اکیڈمی کے پاس ایک قلعہ نما مکان میں رہنے والے دنیا کے سب سے زیادہ مطلوب فرد کا پتہ نہ ہو اُسے ۲۱ توپوں کی سلامی کیسے دی جائے؟جس ادارے کے اپنے ہیڈ کوارٹر پر دہشت گرد حملے کریں اور پھر بھی وہ ان دہشت گردوں کو قومی اثاثہ قرار دے اس ادارے کو گلے لگا کر چومنے کی ہمت کون کرے۔ موساد، را اور سی آئی اے پر یقیناً اتنی تنقید نہیں ہوتی اور اُن کے کردار پر کھلے عام میڈیا میں بحث نہیں کی جاتی مگر وہ عام معاملات میں ٹانگ بھی تو نہیں اڑاتے۔ اگر آپ کا ادارہ میرے ووٹ چوری کرے، میرے لئے لیڈر منتخب کرے توپھر بھی میں اُس کے معاملات پر بحث بھی نہ کروں۔
اداروں کا مورال:
رہی بات مورال کی تو حضور دیگر اداروں کا مورال بھی ملحوظ رکھا کریں نا۔ کیا مورال صرف فوج کا ہوتا ہے۔ جب آپ لوگ ہمارے سفیر پر منصور اعجاز جیسے جانوروں کا غول چھوڑ دیتے ہیں تو ہمارے تمام سفارت کاروں کو مورال نہیں گرتا۔ ویسے یہ بھی اپنی جگہ ایک دلچسپ بات ہے کہ مجرم کو سزا دینے سے ایک ادارے کا مورال ہی گر جاتا ہے۔ ہم بد بخت سولین سمجھتے تھے کہ مجرم کو سزا ملنے سے قانون پر عمل کرنے والے شہریوں کا مورال بلند ہو جاتا ہے اور دوسرے مجرموں کا مورال گر جاتا ہے۔ اب اس سےزیادہ ہم کچھ نہیں کہتے کہ ایسا نہ ہوغائب افراد کی تعداد اڑتالیس ہو جائے۔
منفی ۲۰ سنٹی گریڈ:
یہ بجا ہے کہ ہمارے جوان منفی ۲۰ سنٹی گریڈ پر خدمات سر انجام دیتے ہیں۔ ہمیں اُن جوانوں پر فخر ہے۔ مگر اُن کی قربانیوں کے بدلے میں ہمارے ٹیکسوں سےبنے گالف کورس میں گالف کھیلنے والے جرنیلوں کو کیوں کرمعاف کردیں۔ یہ بھی مت بھولیں کہ سیاچن کے میدانِ جنگ میں تبدیل ہونے کے پیچھے بھی آپ جرنیلوں کی نااہلی تھی جس کی وجہ سے ہمارے جوانوں کو اتنی شدید سردی میں خدمات انجام دینا پڑرہی ہیں۔ اگر ضیاع الحق کے دور میں ہماری فوج اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں چھوڑ کر حکمرانی کے شوق پورا کرنے میں نہ لگی ہوتی تو سیاچن میدان جنگ بننے سے بچ سکتا تھا۔ آپ کے بزرگ جنرل ضیاع الحق نے فرمایا تھا کہ سیاچن میں تو گھاس بھی نہیں اُگتی۔ اب اُسی مقام پر ہمارے جوانوں کو ڈیوٹی دینا پڑتی ہے۔
تاریخ سے لڑنا:
حضور تاریخ سے کون لڑ سکتا ہے۔ مگر کیا آپ یہ فرما رہے ہیں کہ گناہ پرانا ہو جائے تو گناہ نہیں رہتا؟ جرم کئے دس بیس سال گزر جائیں تو مجرم کو اکیس توپوں کی سلامی دینی چاہئے؟ اگر ایسا ہی ہے تو برائے مہربانی چیپ جسٹس صاحب کو بھی حکمت کے اس موتی سے نواز دیجئے جو گزشتہ تین چار برس سے صدر صاحب کے خلاف ایک پندرہ سال پرانا مقدمہ کھلوانے پر بضد ہیں۔ اوہو…معاف کیجئے گا میں بھول گیا تھا کہ صدر صاحب تو بلڈی سولین ہیں۔ یہ اصول اُن پر لاگو نہیں ہوتا۔ یہ تو جنرل اسلم بیگ کے لئے ہے نا۔ سوری سر۔۔۔
ماضی سے سبق سیکھنا:
رہی بات ماضی سے سبق سیکھنے کی۔ عالی جاہ، جب ایوب خان اور یحیٰی خان کے لگ بھگ ۱۳ سالہ دور کے بعد مشرقی پاکستان سے ہاتھ دھوچکے تھے تو ۱۹۷۷ اور ۱۹۹۹ کا پنگا کیوں لیا۔ چلیں یہ بھی ماضی کا قصہ سمجھ کو چھوڑ دیتے ہیں۔ مگر آج تو باز آجائیں نا۔ اب تو آپ جیسا دانش ور آرمی کا چیف ہے (ویسے تو ہر چیف ہی اپنے آپ کو دانشور سمجھتا ہے)۔ مگر حالات و واقعات یہ نہیں بتاتے کہ ماضی سے سبق سیکھ لیا گیا ہے۔ اوہ…سوری… میں بلڈی سولین پھر غلطی کر گیا۔ یہ نصیحت تو سولین کے لئے ہے نا… جرنیلوں کے لئے تو نہیں۔ سوری…بس کیا کروں…ہم کم بخت سولین کبھی سدھر نہیں سکتے۔
بلوچستان کے لوگوں کا معیارِ زندگی:
بلوچستان کے لوگ بھی نا۔ پاک فوج نے اُن کا معیارِ زندگی اتنا بلند کر دیا ہے کہ وہ اونچے اونچے پہاڑوں پر رہنے لگے ہیں۔ نیچے ہی نہیں آتے۔ نیچے صرف اُن کی مسخ شدہ لاشیں ہی آتی ہیں۔ ویسے جناب عالی..!یہ تو بتائیے کہ فوجی سرگرمیوں کے نتیجے میں عوام کا معیار زندگی کیسے بلند ہوتا ہے۔ کیا چھاؤنیاں بنانے کو ترقیاتی کام سمجھنا چاہئیے۔ پھر تو کیوں نا ہم دفاعی بجٹ کو بھی ترقیاتی بجٹ کا حصہ قرار دے دیں۔ سارے پاکستان کے عوام کا معیارِ زندگی ایک دم سے بہت بلند ہو جائے گا۔ ویسےترقیاتی بجٹ میں اچانک اتنا بڑا اضافہ شاید عوام سے ہضم نہ ہو پائے۔ایک چھوٹی سی بات اور…ہم بد بخت سولین سمجھتے تھے کہ لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنا فوج کا کام نہیں ہوتا۔ فوج کا کام ہوتا ہے ملک کا دفاع کرنا۔ ایک بار پھر سوری سر…
غائب کئے گئے افراد:
غائب افراد بھی صرف سینتالیس ہیں۔ ہمیں شکر ادا کرنا چاہئیے کہ ہمارے ملک میں غائب کئے گئے افراد کی تعداد اتنی کم ہے۔ سنتالیس افراد کا غائب ہونا تو کوئی تشویش ناک بات نہیں۔ ہمیں چاہئیے کہ یہ احتجاج وغیرہ چھوڑ کر اپنے اپنے کاموں میں لگ جائیں۔ ان سینتالیس افراد کی مسخ شدہ لاشیں بھی جلد ہی مل جائیں گی۔ تب اُٹھا کر دفنا دیں گے۔ پہلے سے کیا چیخم دھاڑ کرنا۔
بڑی مہربانی جنرل صاحب…
ہماری نصابی کتابوں میں مہاتما گاندھی کو ایک عیار اور مکار شخص کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جس نے تحریک خلافت میں مسلمانوں کا ساتھ تودیا مگر پھر اس تحریک میں تشدد کا عنصر شامل ہونےکا بہانہ کرکے بیچ راہ ہی میں ساتھ چھوڑ گئے۔ اسی طرح کی کئی اور باتیں بڑی شدو مد سے بیان کی گئی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری کتابوں میں بچوں کو یہ بھی پڑھایا جاتا ہے کہ جب متحدہ ہندوستان کے اثاثے تقسیم کئے گئے تو بھارت نے پاکستان کو اس کا جائز حصہ نہیں دیا۔ تاہم ایسے میں اس بات کو قطعی نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ گاندھی جینے پاکستان کو اس کا جائز حصہ دلانے میں کیا کردار ادا کیا۔
ہوا یوں کہ جب متحدہ ہندوستان کے اثاثے تقسیم کئے گئے تو پاکستان اور بھارت کا حصہ بالترتیب ۳۰ فیصد اور ۷۰ فیصد طے ہوا۔ ریزرو بنک آف انڈیا کے اُس وقت کے کُل اثاثوں کی تقسیم کے نتیجے میں پاکستان کو ۷۵ کروڑ روپے ملنا تھے۔ پاکستان کو پہلی قسط کے طور پر ۲۰ کروڑ روپے جاری کر دئے گئے۔ دوسری قسط جاری کرنے سے قبل ہی کشمیر میں جھگڑا شروع ہو گیا اور پاکستان نے پختون قبائلیوں کو کشمیر میں جہاد کے لئے بھیجنا شروع کر دیا (جہادیوں کو اپنا اثاثہ سمجھنے کے بنیاد ضیاع الحق کے دور میں نہیں پڑی، یہ بیماری بہت پرانی ہے)۔ کشمیر کے ہندو راجہ نے یہ تماشا دیکھا تو سمجھ گیا کہ اگر پاکستان کے ساتھ الحاق کیا گیا تو راج اُس کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ چنانچہ اُس نے فوری طور پر بھارت کے ساتھ الحاق کے معاہدے پر دستخط کر دئے۔
بھارت کے ساتھ الحاق کے نتیجے میں قانونی طور پر کشمیر کا دفاع کرنے کا حق بھارت کو مل گیا اور وہاں فوج بھیجنے کا قانونی جواز پیدا ہو گیا۔ یوں پاکستان نے بھارت کےساتھ پہلی جنگ کا آغاز کر لیا …ایک ایسے ملک کے ساتھ جنگ چھیڑ بیٹھا جس سے ابھی ۵۵ کروڑ روپے وصول کرنا تھے۔ بھارت کے حکمرانوں نے اس صورت حال میں پاکستان کی باقی رقم روک لی (بھارت کی جگہ کوئی اور ملک ہوتا تو وہ بھی یہی کرتا)۔ اس پر گاندھی جی بہت برہم ہوئے اور اصرار کیا کہ پاکستان کے حصے کی رقم فوری طور پر ادا کی جائے۔ اس کے نتیجے میں بھارتی حکومت مجبور ہو گئی اور ۵۵ کروڑ کی رقم فوری طور پر پاکستان کو ادا کر دی۔
تاہم قوم پرست ہندوؤں کو یہ بات پسند نہیں آئی ۔ وہ پہلے بھی گاندھی جی پر مسلمان دوست ہونے کا الزام لگاتے تھے۔ اس اقدام نے تو شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑی ۔ چنانچہ20 جنوری 1948 کو اُن پر ایک ناکام قاتلانہ حملہ ہوا اور دس دن کےا ندر اندر یعنی 30جنوری 1948 کو دوسرا قاتلانہ حملہ ہوا جس میں انہیں محض دو تین فٹ کے فاصلے سے تین گولیاں لگیں۔ نتھورام گوڈسے نے انہیں قتل کر دیا۔ قاتل گرفتار ہوا، اس پر مقدمہ چلا اور وہ 15 نومبر 1949 کو پھانسی چڑھ گیا(ہماری طرف لیاقت علی خان سے لے کر بے نظیر بھٹو تک کسی کے قاتل پر مقدمہ نہیں چلا ، کسی کے قاتل کو سزا نہیں ملی)۔
بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کا 15 جنوری 1948 کو جاری کیا گیا بیان۔
ایک وضاحت:
کئی لوگ مہاتمہ گاندھی کی 12 جنوری 1948 سے 18 جنوری 1948 تک کی گئی بھوک ہڑتال کو پاکستان کو پچپن کروڑ روپے کی ادائیگی سے جوڑتے ہیں۔ تاہم زیادہ قرین قیاس یہ لگتا ہے کہ یہ ہڑتال دہلی میں ہندو مسلم فسادات رکوانے کے لئے کی گئی تھی، اس کا پاکستان کو رقم کی ادائیگی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ کیونکہ ۱۵ جنوری کو حکومت کی طرف سے یہ بیان جاری کردینے کے بعد کہ پاکستان کو مذکورہ رقم فوری طور پر ادا کر دی جائے گی، مہاتما کی طرف سے ہڑتال کو ۱۸ جنوری تک جاری رکھنے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ دہلی کے مقامی ہندو اور مسلمان رہنماؤں نے ۱۸ فروری کو گاندھی جی کے سامنے فسادات ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی جس پر گاندھی جی نے بھوک ہڑتال ختم کردی۔ یاد رہے کہ اس سے چند روز قبل ہی گاندھی جی نے بنگال میں اسی طرح بھوک ہڑتال کرکے فسادات رکوائے تھے۔ نہرو کی جس تقریر کا لنک اوپر دیا گیا ہے اس میں بھی گاندھی جی کی بنگال میں امن قائم کرنے کے لئے بھوک ہڑتال کا تذکرہ ہے۔ چنانچہ اس سے بھی یہی بات زیادہ قابل بھروسہ معلوم ہوتی ہے کہ گاندھی جی نے بھوک ہڑتال فسادات رکوانے کے لئے کی تھی، نہ کہ پاکستان کو پچپن کروڑ روپے دلوانے کے لئے۔
ہمارے مغالطے..سیکولراور لبرل کے معنی
ہمارے ہاں بہت سے لفظوں یا اصطلاحوں کے معنی بگاڑ دیئے گئے ہیں۔ ایسی ہی دو اہم اصطلاحات ہیں “سیکولر” اور “لبرل”۔ نام نہاد مذہبی علماء نے عوام کو بتایا ہے کہ سیکولر کا مطلب “لادین ” ہے یعنی جس کا کوئی دین نہیں اور لبرل کا مطلب مادر پدر آزاد ہے جو کسی روک ٹوک یا پابندی کو نہیں مانتا۔
نام نہاد مذہبی علماء کو ان پڑھ عوام سے واسطہ پڑتا ہے جن کو کوئی سوال کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ سو جو کچھ عالِم صاحب نے فرما دیا وہی حرفِ آخر ہو جاتا ہے۔ ورنہ محض معمولی سے سوال جواب سے ان کے بتائے گئے معنی کی قلعی کھل جاتی ہے۔
لفظ سیکولر ہی کو لیجئے ۔ دنیاء بھر میں ایسی ریاستوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہیں جو کسی مذہب کے ساتھ اپنا تعلق جوڑتی ہیں۔ ان میں پاکستان، ایران، سعودی عرب، اسرائیل اور نیپال شامل ہیں (ہو سکتا ہے کہ ان کے علاوہ کوئی دو یا تین مزید ریاستیں ایسی ہوں، تاہم مصنف کے علم میں نہیں)۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دنیاءکے اکثر ممالک کسی ایک مذہب کو ریاستی مذہب قرار نہیں دیتے۔ اگر اس کا مطلب یہ نکال لیا جائے کہ یہ سارے ممالک “لادین” ہیں تو کیا ان ممالک میں بسنے والے لوگوں کا کوئی مذہب نہیں ہے؟ مغرب کے بیشتر ممالک سیکولر ہیں مگر وہاں بسنے والے لوگ عیسائی، یہودی، مسلمان یا کسی دیگر مذہب کے پیروکار ہیں اور اپنی اپنی مذہبی تعلیمات کے مطابق عبادات اور دیگر رسوم و رواج کی پابندی کرتے ہیں اور اس حوالے سے اُن پر کوئی روک ٹوک نہیں ہوتی۔
حقیقت یہ ہے کہ سیکولر ایسی ریاست کو کہتے ہیں جس کا ریاستی سطح پر کوئی مذہب نہیں۔ جہاں کسی ایک مذہب کی خدمت کرنا حکومت کی ذمہ داری نہیں۔ اسی طرح انفرادی سطح پر بھی ایسا فرد سیکولر کہلائے گا جو مذہب کو ہر شخص کا ذاتی معاملہ سمجھتا ہے اور کسی کے مذہبی عقائد میں ٹانگ نہیں اڑاتا۔ کسی کے مذہبی عقائد کو غلط اور صحیح قرار نہیں دیتا اور اگر کسی کے مذہبی عقائد کو غلط سمجھتا بھی ہو تو انہیں درست کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ یاد رہے کہ تمام فسادات کی جڑ کسی کے مذہبی عقائد کو درست کرنے کی کوشش ہی ہے۔
ہمارے علماء یہ بھول جاتے ہیں کہ مذہب کا تعلق عقیدے سے ہے اور عقیدے کو عقل/منطق کے ترازو میں تول کرنہیں اپنایا جاتا۔ جس کا جو عقیدہ ہے وہ اُسی کو درست سمجھتا ہے۔ چنانچہ جب ہم کسی کے عقیدے کو درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ شخص بھڑک اُٹھتا ہے اور یوں فساد کی بنیاد پڑتی ہے۔ یورپ میں مذہبی رواداری سیکولر خیالات کے فروغ کے بعد ہی آئی ہے۔ ورنہ مذہبی اور فرقہ وارانہ اختلافات اُن لوگوں میں بھی کم نہیں تھے۔
اب آئیے دوسری اصطلاح کی طرف “لبرل”۔ اس کا ترجمہ “آزاد خیال” کیا جاتا ہے اور مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ لبرل ایسا فرد ہوتا ہے جو کسی قسم کی روک ٹوک کو پسند نہیں کرتا اور کسی طرح کی پابندی نہیں چاہتا۔ اب اگر ہم مغرب کے لوگوں کو لبرل سمجھتے ہیں تو پھر مغربی ممالک میں تو قانون نام کی کوئی چیز ہونی ہی نہیں چاہئے۔ اگر مغربی ممالک کے زیادہ تر لوگ “آزاد خیال” ہیں تو پھر وہاں قانون کی حکمرانی کا معاملہ ہم سے بہتر کیوں کر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ لبرل لوگ وہ ہیں جو انسانی آزادیوں کے قائل ہیں تاہم پابندی کو ایک “ناگزیر برائی” خیال کرتے ہیں۔ یعنی وہ کسی بھی طرح قانون یا پابندیوں کو مکمل طور پر ختم نہیں کرنا چاہتے بلکہ انسانی آزادیوں پر ایک معقول حد تک پابندیاں لگانے کے قائل ہیں۔ اس حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ اکثر سنایا جاتا ہے کہ ایک شخص اپنی چھڑی اِدھر اُدھر گھماتا جا رہا تھا ۔ ایک اور شخص نے اسے ٹوکا کہ میاں یہ چھڑی سنبھالو، کہیں مجھے لگ نہ جائے۔ تو پہلا شخص بولا “میں آزاد انسان ہوں اور اپنی چھڑی گھمانے کی مجھے مکمل آزادی ہے”۔ دوسرا شخص بولا “ہاں مگر تمہاری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے”۔
سو “آزاد خیال” ہونے کا مطلب “مادر پدر” آزاد نہیں ہے۔ تاہم اتنی پابندیاں بھی نہیں کہ فرد کو یہ اختیار بھی حاصل نہ ہو کہ اُس نے ڈاکٹر بننا ہے یا وکیل۔ اس نے شادی کس سے کرنی ہے یاکرنی بھی ہے کہ نہیں اور کب کرنی ہے۔ وہ پڑھنا چاہتا ہے یا کوئی کھیل کھیلنا چاہتا ہے۔ لبرل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ مکمل طور پر آزاد ہیں جب تک آپ کی آزادی کسی اور کی آزادی میں رکاوٹ نہ ڈال رہی ہو۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ہمیں دوسروں کی آزادی سلب کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ ہمارا جب دل چاہتا ہے گلی میں ٹینٹ لگا کر گلی بند کر دیتے ہیں اور ولیمہ شروع کر دیتے ہیں۔ اس بات کا ذرا برابر احساس نہیں کرتے کہ گلی بند ہو جانے کی وجہ سے کتنے لوگوں کو تکلیف پہنچ رہی ہوگی۔ ہم شادیوں پر ساری ساری رات ڈھول بجاتے ہیں یا اونچی آواز میں گانے بجاتے ہیں اور اس بات کی ذرا پرواہ نہیں کرتے کہ آس پڑوس میں کسی نے سونا ہوگا، کسی نے پڑھنا ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم اس طرح کی مادر پدر آزادی کا بھرپور لطف اُٹھاتے ہیں مگر مادر پدر آزاد ہونے کو برا خیال کرتے ہیں۔
نوٹ: مصںف نے سیکولر اور لبرل جیسی اصطلاحوں کے تاریخی پس منظراور اس کے نتیجے میں ان اصطلاحوں کے بدلتے معنی پر مقالہ لکھنے سے قصداً اجتناب کیا ہے۔ کیوں لالاجی کی یہ تحریریں عام پاکستانی کے لئے لکھی جاتی ہیں، کسی محقق یا نقاد کی طرف سے علمیت کی سند حاصل کرنے کے لئے نہیں۔
خاکی ڈائری…. آئین آئین کی رٹ،، حقوق، اختیارات اور میمو گیٹ
یہ سویلین لوگوں کو بھی بات سمجھ نہیں آتی۔ جتنی بار بھی ناکام ہو جائیں، جتنی بھی مار کھا لیں، جتنے بھی مارے جائیں، پھر اٹھتےہیں تو آئین اور قانون کی طرف بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ان کم بختوں کوچونسٹھ سالوں میں اتنی سی بات سمجھ نہیں آئی کہ یہ ملک آئین سے نہیں چل سکتا؛ اسے صرف ہم چلا سکتے ہیں۔
پہلے آئین بنانے کے چکر میں پڑے رہے۔ آٹھ نو سال لگ گئے مگر باز نہ آئے اور ایک آئین بنا کرہی دم لیا۔ خیرایوب انکل نےاُس آئین کو اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ ایوب انکل بھی کیا سادہ تھے دو تین سال بھی نہ نکال پائے اور سویلین والی باتیں شروع کر دیں۔ بہت سمجھایا مگر وہ باز نہ آئے اور خود ہی ایک آئین بنا کر دے دیا۔ بھلا ان سویلین کو فوجیوں کا آئین پسند آسکتا ہے۔ آج تک اُس آئین پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ سویلین کی حرکتیں دیکھیں تو آخر ایوب انکل کو سمجھ آہی گئی اور اپنا ہی بنایا ہوا آئین لپیٹ کر ایک طرف رکھا اور اقتدار یحییٰ انکل کے حوالے کر دیا۔
یحییٰ انکل اس معاملے میں سمجھدار نکلے اور آئین کا پنگا نہیں لیا۔ مگر بنگالیوں کو کسی طرح بھی قابو نہیں کر سکے۔ بنگالی ضد پر اڑ گئے کہ آئین کے مطابق اقتدار اُن کے حوالے کیا جائے۔ لو بھلا شکل دیکھی کبھی اپنی آئینے میں…چھوٹے چھوٹے قد کے کالے کلوٹےلوگ اور مونھ پھاڑ کر اقتدار ہی مانگ لیا… شرم بھی نہ آئی۔ ارے مانگنا ہی تھا تو پرمٹ مانگ لیتے، پلاٹ مانگ لیتے، نوکری مانگ لیتے،یحییٰ انکل دے دیتےاگرچہ وہ فوج میں بھرتی ہونے کے قابل تو نہ تھے۔ نہ اُن کی چوڑی چھاتی نہ اونچے لمبے قد۔ لیکن چلو نائب قاصد، چپڑاسی وغیرہ جیسی پوسٹیں نکال دیتے ان کے لئے۔ خیر وہ ہم سے الگ ہو گئے …خس کم جہاں پاک۔
ادھر مغربی پاکستان میں ایک اور بلا ہمارے گلے پڑ گئی۔ اس بلا کا نام تھا بھٹو۔ توبہ توبہ کیا چالاک آدمی تھا۔ ترقی پسند، لبرل ہوں یا مولوی ٹائپ سب کو اکٹھا کیا اور سال،ڈیڑھ سال ہی میں متفقہ آئین بنا ڈالا۔ اوپر سے مزید چالاکی یہ کی کہ اس آئین میں ایک شق یہ بھی ڈال دی کہ جو کوئی اس آئین کو اٹھا کر باہر پھینکے گا اسے پھانسی کی سزا دی جائے گی۔ توبہ توبہ کتنا سنگدل آدمی تھا۔ خیر اسے بھی اس سنگدلی کا خوب مزا چکھنا پڑا۔ چچا ضیاع الحق نے اُسی کو پھانسی چڑھا دیا اور اس کا اپنا بنایا ہوا آئین بھی اُسے نہ بچا سکا۔ کتنا اچھا ہوتا کہ سوویلین اس تجربے سے سبق سیکھ لیتے اور آئندہ کے لئے آئین آئین کی رٹ چھوڑ دیتے۔
خیر سارے سویلین اتنے برے نہیں ہوتے۔ جب چچا ضیاع الحق نے بھٹو جیسے مکار شخص کا تختہ الٹا اور اقتدار پر قبضہ جما لیا توکئی بار نجی محفلوں اور ایک آدھ بار کھُل کر بھی کہا کہ آئین ایک چھوٹی سی کتاب ہے جسےوہ جب چاہے اُٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینک سکتے ہیں مگر پھر بھی بھٹو کی چالاکی والی شق کی وجہ سے اندر ہی اندر ڈرتے رہے اور سچ مچ آئین کو اُٹھا کر باہر نہیں پھینکا۔ مگر ایسے میں شریف الدین پیرزادہ جیسے سویلین (جن کو سویلین کہنا بڑی ہی زیادتی کی بات ہے) چچا ضیاع الحق کے بہت کام آئے اور بھٹو کی چالاکیوں سے جان بچانے کے بڑے اچھے اچھے گُر بتائے۔ یہی پیرزادہ صاحب بعد میں مشرف انکل کے بھی بہت کام آئے۔
خیر ضیاع الحق چاچا خود ہی جہاز کے ساتھ پھٹ گئے… کیا سانحہ تھا…قومی سانحہ… ان کے مرنے کے بعد بے نظیراور نواز شریف کا کھیل شروع ہوا۔ بے نظیر سے تو خیر کی امید رکھنا یوں بھی بے جا تھا کہ وہ بھٹو کی بیٹی تھی مگر نواز شریف بھی کم بخت پورا سویلین ہی نکلا۔ بھاری مینڈیٹ کا جادو ایسا سر چڑھ کر بولنے لگا کہ وہ یہ بھول گیا کہ یہ بھاری مینڈیٹ بھی تو ہماری ہی دین تھی۔ لگا آئین میں ترامیم کرنے اور ترمیم بھی کیا ۵۸ (۲) بی ہی ختم کرڈالی۔ اتنا پال پوس کے بڑا کیا، اربوں روپے خرچ کر کے وزیراعظم بنوایا مگریہ صلہ دیا اُس کم بخت نے۔ صدرکو گھر بھیجا، چیف جسٹس کو گھر بھیجا، انکل جہانگیر کرامت(ہائے بے چارے کتنے سیدھے سادے تھے) کو گھر بھیجا…پرویز مشرف انکل کو بھی گھر بھیجنا چاہتا تھا۔
خیر اتنے سویلین آئے اور گئے مگر جب سے زرداری آیا ہے جانے کا نام ہی نہیں لے رہا۔اور جب سے آیا ہے اختیارات اور حقوق عوام کو دیئے جا رہا ہے۔ کوئی پوچھے بھئی یہ تیرے باپ کی جاگیر ہے جو یوں بانٹتا پھر رہا ہے۔ سب سے پہلے تو اُس نے اٹھارہویں ترمیم متفقہ طور پر منظور کرا لی۔ توبہ توبہ کتنا چالاک آدمی ہے یہ۔ مولویوں نے بھی اس میں اختلاف نہیں کیا حالانکہ آج تک ہم مولویوں میں اتفاقِ رائے قائم نہ کرا سکے۔
اٹھارہویں ترمیم میں سارے کے سارے اختیارات صوبوں کے حوالے کر دئے ہیں۔ این ڈبلیو ایف پی کو خیبر پختونخوا بنا دیا، شمالی علاقہ جات کو گلگت بلتستان اور ان کی اپنی اسمبلی اور الیکشن۔ تعلیم، صحت یہاں تک کہ بجلی کی پیداوار پر بھی صوبوں کو اختیار دے دیا۔ یعنی واپڈا کی چھٹی۔ بھلا اب کوئی جرنیل اقتدار سنبھالے گا تو ریٹائرڈ جرنیلوں کو کہاں کھپائے گا۔ کوئی بھی واپڈا کا چیئرمین لگنے کو تیار نہیں ہوگا۔
تعلیم پر پورا اختیار صوبوں کو دے دیا ہے تو ہر صوبہ اپنا نصاب بنانے کے لئے آزاد ہو گیا ہے۔ پختون خوا میں جو غدارانِ وطن کی حکومت ہے اُس نے تو فوری طور پر پشتو، ہندکو اور چترالی زبان میں تعلیم دینے کے لئے کتابیں لکھوانا شروع کر دی ہیں۔ کس قدر نفاق پھیلے گا ایسی پالیسیوں سے۔ یعنی اب ہماری کتابوں میں چاچا ضیاع الحق اور یحییٰ خان کو برے برے ناموں سے یاد کیا جائے گا اور بھٹو اور باچاخان کو اچھے اچھے ناموں سے۔ توبہ توبہ …خدا نے یہ دن بھی دکھانے تھے۔۔۔ یہ سب اس کمینے زردری کی وجہ سے ہو رہا ہے۔
اوپر سے این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کتنا بڑھا دیا ہے۔ یعنی ہر سال ملک کی کل آمدنی کا ۵۷.۵ فیصد تو صوبوں کو دے دیا جائے گا۔ باقی بجٹ میں سے خاصی بڑی رقم قرضوں پر سود کی ادائیگی میں چلی جائے گی۔ ایسے میں ہمارے لئے کیا بچے گا…؟ مونگ پھلی…؟
سب سے بڑا پنگا یہ لے لیا ہے کہ خارجہ پالیسی اپنی مرضی کی بنانا چاہتا ہے۔ بھئی تمہیں صدر بننے دیا ہے آرام سے ایوان صدر میں بیٹھو … استثناء کے مزے لوٹو…مگران سویلین کو پتہ نہیں کون سا کیڑا سکون نہیں لینے دیتا۔ ۲۰۰۸ ء میں صدر بنتے ہی فرمایا “ہمیں بھارت سے خطرہ نہیں”۔ وہ تو مہربانی ہو لشکر طیبہ کی کہ فوری طور پر ممبئی میں حملہ کر کے زرداری کے ملک دشمن عزائم خاک میں ملا دیئے۔ لیکن پچھلے تین چار سال میں پھر ہندوستان کے ساتھ نہ صرف دوستانہ تعلقات بنا لئے ہیں بلکہ ہندوستان کو پسندیدہ ترین ریاست کا درجہ دینے کو بھی تیار ہو گئے۔
اب ہم کیا کریں۔ جس دشمنی کی بنیاد پرہماری روزی روٹی چل رہی ہےاسے ختم کرنے کا تو سیدھا سادا مطلب ہے کہ آپ ہمارے پیٹ پر لات مار رہے ہیں۔ جب ہماری روزی روٹی کا سوال پیدا ہو جائے تو ہم میمو گیٹ کا ایشو نہ کھڑا کریں تو اور کیا کریں…
آئینہ کا سال ۲۰۱۱ء کیسا رہا…!
ورڈ پریس نے میرے بلاگ “آئینہ” کے سال ۲۰۱۱ء کے اعدادو شمار جمع کرکے بھجوائے ہیں۔
Here’s an excerpt:
A New York City subway train holds 1,200 people. This blog was viewed about 3,800 times in 2011. If it were a NYC subway train, it would take about 3 trips to carry that many people.
